صرف دھمکیاں نہیں بلکہ۔۔۔ سعودی عرب میں واقعی غیر ملکیوں کے خلاف ایسا کام شروع کردیا گیا کہ بہت سے غیر ملکی پائی پائی کو محتاج ہوگئے

صرف دھمکیاں نہیں بلکہ۔۔۔ سعودی عرب میں واقعی غیر ملکیوں کے خلاف ایسا کام ...
صرف دھمکیاں نہیں بلکہ۔۔۔ سعودی عرب میں واقعی غیر ملکیوں کے خلاف ایسا کام شروع کردیا گیا کہ بہت سے غیر ملکی پائی پائی کو محتاج ہوگئے

  


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت کی جانب سے غیر ملکیوں کو ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے نکالنے کے لئے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد تاحال اس شعبے میں کام کرنے والے غیر ملکیوں اور انہیں ملازمت فراہم کرنے والے کفیلوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے ایک ہزار سے زائد ایسی موبائل فون شاپس کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے کہ جن کے ہاں تاحال غیر ملکی شہری کام کررہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے کل 1345 خلاف ورزیوں کا پتہ چلایا جن میں سے 1205 کیسوں میں قانونی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزارت برائے لیبر و سماجی انصاف کے حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر غیر ملکیوں کو ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے نکالنے کے حکم پر سختی سے عملدرآمد کروارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ملک بھر میں چھاپے بھی مارے جارہے ہیں اور جہاں کہیں غیر ملکی شہری کسی موبائل شاپ پر کام کرتے نظر آتے ہیں فوری طور پر ان کے اور انہیں ملازمت فراہم کرنےو الوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے۔

”اب اس شعبے سے غیرملکیوں کو نکالنا پڑے گا“سعودی عرب نے ایک ایسا کام سعودی شہریوں کے حوالے کرنے کی تیاری پکڑلی جس سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے

مشرقی صوبے میں اڑھائی ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے اور اس دوران قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہونے والی 88 دکانوں کو بند کیا گیا۔ اسی طرح مکہ ریجن میں بھی 286 دکانوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ یہاں بھی معائنے کے لئے 2000 سے زائد چھاپے مارے گئے۔ ریاض ریجن میں 1855 جگہوں کا معائنہ کیا گیا اور اس کے نتیجے میں 270موبائل شاپس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ القاسم ریجن میں 1363 چھاپے مارے گئے اور 102 دکانوں کو خلاف ورزی کا مرتکب پاکر ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ حکام نے عوام پر بھی زور دیا ہے کہ وہ کہیں بھی ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے متعلقہ کاروبار میں غیر ملکیوں کو فرائض سرانجام دیتے پائیں تو فوری طور پر کسٹمر سروس نمبر 19911 پر اطلاع کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

موبائل فون سیلز اینڈ مینٹیننس دکانوں کو 3ستمبر تک دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں اس کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہر قدم اٹھایا جارہا ہے کہ اب اس شعبے میں ایک بھی غیر ملکی نظر نہ آئے۔

مزید : عرب دنیا