’میں ٹرین میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لڑکی آئی اور سیٹ تبدیل کرنے کی درخواست کی لیکن پھر چند لمحے بعد ہی ایسا خوفناک کام ہوگیا کہ سیٹ کی تبدیلی میری زندگی بچانے کا سبب بن گئی جبکہ وہ لڑکی۔۔۔‘

’میں ٹرین میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لڑکی آئی اور سیٹ تبدیل کرنے کی درخواست کی ...
’میں ٹرین میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لڑکی آئی اور سیٹ تبدیل کرنے کی درخواست کی لیکن پھر چند لمحے بعد ہی ایسا خوفناک کام ہوگیا کہ سیٹ کی تبدیلی میری زندگی بچانے کا سبب بن گئی جبکہ وہ لڑکی۔۔۔‘

  



نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں ہفتے کی رات پیش آنے والا بھیانک ریل حادثہ سینکڑوں گھروں کو برباد کرگیا۔ اس خوفناک واقعے میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ سینکڑوں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاءہیں۔ اندور سے پٹنہ جانے والی اس ریل گاڑی کے مسافروں میں سنتوش اوپادھے نامی ایک صحافی بھی سوار تھے، جنہیں موت یوں چھو کر گزری کے وہ ابھی تک اپنے زندہ ہونے کا یقین نہیں کرپارہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سنتوش نے بتایا کہ وہ اجین شہر سے ریل گاڑی میں سوار ہوئے اور انہیں S5 ڈبے میں 7 نمبر سیٹ ملی۔ وہ کہتے ہیں کہ رات تقریباً تین بجے کا وقت تھا کہ ایک لڑکی ان کے پاس آئی اور درخواست کی کہ وہ اپنی سیٹ کے بدلے S5 ڈبے کی سیٹ نمبر 7پر منتقل ہوجائیں، تا کہ وہ یہاں اپنی ساتھ خاتون کے پاس بیٹھ سکے۔ سنتوش کا کہنا ہے کہ انہوںنے فوری طور پر خاتون کی درخواست قبول کی اور اپنی سیٹ چھوڑ کر دوسرے ڈبے میں چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی انہیں اس ڈبے میں آئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک ریل گاڑی بری طرح ہچکولے کھانے لگی اور پھر ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی اور مسافر اپنی سیٹوں سے اچھل کر ڈبے کی دیواروں کے ساتھ ٹکراتے نظر آئے۔

’میں نے آنکھیں بند کیں تو دوزخ کا نظارہ دیکھا جہاں میرے قریبی ترین رشتہ دار ایسی حالت میں تھے کہ۔۔۔ ‘ موت کے منہ سے واپس آنے والے شخص نے دوزخ کا ایسا منظر کھینچ دیا کہ جان کر ہی آپ توبہ پر مجبور ہو جائیں گے

سنتوش کا کہنا ہے کہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ عین اس لمحے باہر کودنے میں کامیاب ہوگئے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ان سے آگے والے ڈبے بھیانک تباہی کا شکار ہوچکے تھے اور ہرطرف قیامت خیز مناظر تھے۔سنتوش کا کہنا ہے کہ وہ اٹھ کر اگلے ڈبے کے قریب گئے تو یہ دیکھ کر کانپ اٹھے کہ ان کے ساتھ سیٹ تبدیل کرنے والی خواتین کے مردہ جسم آہنی ملبے میں لٹک رہے تھے۔

سنتوش کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والے افراد ریل گاڑی میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔ انہوں نے بھی جو ممکن ہو سکا کیا لیکن اس تباہ کن حادثے نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں افراد کو موت کی نیند سلادیا۔ سنتوش کا کہنا ہے کہ غالباً وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے محکمہ ریل کی ایمرجنسی ہیلپ لائن پر فون کرکے حادثے کی اطلاع دی اور بعدازاں پولیس کو بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں صرف گردن اور کمر پر کچھ زخم آئے تھے، جو جلد ہی مندمل ہوجائیں گے لیکن انہوںنے اپنے سامنے تڑپ تڑپ کر مرتے لوگوں کے جو مناظر دیکھے ہیں انہیں ساری عمر نہیں بھلا پائیں گے۔

مزید : بین الاقوامی