پاکستان صومالیہ بن رہا ہے۔۔۔ پلیزاسے بچا لیجئے

پاکستان صومالیہ بن رہا ہے۔۔۔ پلیزاسے بچا لیجئے
پاکستان صومالیہ بن رہا ہے۔۔۔ پلیزاسے بچا لیجئے

  



پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کی آبادی کا 70فیصد حصہ اس پیشے سے وابستہ ہے،ملکی آبادی کا سب سے زیادہ حصہ گزشتہ کئی سالوں سے بدحالی کا شکار ہے،پاکستان کی زراعت تباہی کی جانب گامزن ہے،چونکہ حکومت نے کسان پیکج دے کر اس شعبے کو آکسیجن دینے کی کوشش تو کی ہے لیکن یہ امداد شفاف طریقے سے کسانوں تک پہنچ ہی نہیں پائی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خشک سالی کے سبب گزشتہ کچھ برسوں میں باغات اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے، بڑے رقبے پر گندم کی بوائی شروع نہیں ہو سکی جبکہ ترش پھلوں کے بہت سے باغات کو نقصان ہوا ہے،سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک میں گندم کی پیدوار 1.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 25ملین ٹن سے زائد رہی تھی جس کے بعد دنیا میں گندم پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں سے چھٹے نمبر پر آ گیا تھا،ملک بھر میں 20 سے 25 ملین ایکڑ زمین پر گندم کاشت کی جاتی ہے مگر رواں برس بارش نہ ہونے کے سبب سے اکثریت زمینداروں اور کسانوں نے بوائی شروع ہی نہیں کی اور جنھوں نے بوائی کردی ہے وہ پریشان حال ہیں۔

مالٹے اور کینو کا شمار پاکستان کے اہم پھلوں میں ہوتا ہے جن کے باغات مجموعی طور پر 194,000 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ سال 427,025 ہزار ڈالر کا پھل در آمد کیا گیا جس میں ترشں پھل کا حصہ بیس فیصد تھا

صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع ہری پور کے علاقے خانپورکا ریڈ بلڈ مالٹا اپنے ذائقے کی بنا پر بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے، مگر اس سال خشک سالی کی وجہ سے اس کے باغات بری طرح متاثر ہو چکے ہیں

جو آلوﺅوں کے ساتھ ہوا وہ بھی دنیا نے دیکھا،وزیر اعظم نوازشریف نے ایک دفعہ بڑے فخر سے یہ تو کہہ دیا تھا کہ آلو پانچ روپے کلو بک رہا ہے لیکن کسانوں سے یہ پوچھنے تک گوارا نہیں کیا کہ ان کی بوائی،پرورش پر کیا کچھ خرچ ہوتاہے،سڑکوں پر بکھرے یہی آلو دیکھ لیتے تو 70فیصد شہریوں کا مذاق نہ اڑاتے۔

یہی صورتحال دالوں،چاولوں اور دیگر فصلوں کی ہے،ذرا غور کریں توکپاس کی فصل پر وقت، دولت اور خون پسینہ سب خرچ ہوتا ہے لیکن جب ایک کسان مارکیٹ میں لاتا ہے تو کوڑیوں کے بھاو فروخت ہوتی ہے۔ حالانکہ کپاس سے بننے والی مصنوعات کئی گنا مہنگی بیچی جاتی ہیں،چونکہ اس سال گذشتہ سال سے قیمت زیادہ تھی لیکن پیداوار کم تھی،اسی طرح گنّا جب شوگر ملز کو فروخت کیا جاتا ہے تو قیمت نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے اور پھر جب کسان کے پاس کچھ نہیں رہتا تو چینی مہنگی کردی جاتی ہے۔ شوگر ملیں خریدے گئے گنے کی کئی ماہ تک ادائیگی ہی نہیں کرتیں، یہی حال گندم اور دیگر فصلوں کا ہے، کبھی کبھی تو قدرت کی طرف سے آزمائش کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے،پکی پکائی فصل کو یا تو سیلاب بہا لے جاتا ہے یا پھرژالہ باری کام دکھا جاتی ہے، کسان بچارا جائے تو جائے کہاں۔۔!!

بر وقت بارشوں کا نہ ہونا اور پھر بے وقت ہونا بدترین موسی تبدیلی ہے جو کہ نہ صرف انسانی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ زراعت کے شعبے میں بھی بدترین مسائل پیدا کردے گی، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے وقتوں میں ہماری نسلیں خوراک کے بدترین بحران کا شکار ہو سکتی ہیں،خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اس گھنٹی کی ”ٹن ٹن“کی آوازاقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کے حکام کو جگا رہی ہے،یہ آواز ایوانوں میں بیٹھے بڑے بڑے سیاستدانوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کبھی جاکر دیکھئے جو کسان کپاس پیدا کرتا ہے،آج بھی کھیت میں ایک بنیان اور لنگی پہنے ننگے پاﺅں کھڑا ہے اس کی اولادیں وہیں کھیتوں میں رل رہی ہیں جب کہ اس کی کپاس کے سوداگر درجنوں ٹیکسٹائل ملز لگا چکے ہیں اور ان کے بچے بیرون ملک سے پڑھ کر کمزوروں کو لوٹنے کے نئے طریقے سیکھ کر لوٹتے ہیں۔

یاد رکھیں زراعت نہ رہی تو ملک میں خوراک نایاب ہوجائے گی،میاں صاحب سڑکیں بنائیں، پل بنائیں، بڑی بڑی انڈسٹریاں لگائیں، یہ سب کام کریں لیکن ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کسان ہے جو آپ کی سرد مہری سے مررہا ہے،لہذا آپ سے درخواست ہے، التجا ہے، منت سماجت ہے کہ پاکستان صومالیہ بن رہا ہے۔۔۔ پلیز اسے بچا لیجئے۔۔!!

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ