ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی

ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی

پنجاب میں ہیپاٹائٹس فلٹر کلینکس پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت مریضوں کو اُن کے گھروں پر ادویات پہنچانے کا کام کامیابی سے جاری ہے اب تک 15 ہزار مریضوں کو مستقل بنیادوں پر ادویات مہیا کی جاچکی ہیں جبکہ جون 2018ء تک ایک لاکھ مریضوں کو یہ سہولت مہیا کرنے کا ہدف پورا کیا جائیگا۔ وزیر اعظم پنجاب شہباز شریف نے بتایا ہے کہ صوبے میں لوگوں کو ہیپا ٹائٹس کے موذی مرض سے بچاؤ کے لئے جو اقدامات کئے گئے ہیں، اُن کے مثبت اور شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یہ بات وزیر اعلیٰ نے وڈیو لنک کے ذریعے سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی ہے۔ اجلاس میں شعبۂ صحت میں جاری اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ پراجیکٹس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ماضی میں غفلت اور کوتاہی کے باعث موذی مرض ہیپا ٹائٹس ہمارے ملک میں پھیلتا رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ صحت اور صفائی کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا گیا تھا۔ لوگوں کے رہن سہن کا معیار اچھا نہیں تھا۔ پسماندگی، غربت اور جہالت کے ساتھ ساتھ ملاوٹ کی وجہ سے ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ مزید ستم یہ ہوا کہ علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ سسک سسک کر موت قبول کرتے رہے۔ آلودہ پانی پینے سے بھی یہ مرض پھیلتا رہا۔

دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی عالمی تنظیموں کی مدد سے ہیپا ٹائٹس کے مرض سے متعلق آگہی مہم شروع کرتے ہوئے لوگوں میں حفاظتی اقدامات کے لئے شعور پیدا کیا گیا اور ادویات کی سستے داموں فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔ پنجاب میں اس موذی مرض سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے بجٹ میں معقول رقم مختص کی جانے لگی اور پھر لاکھوں روپے کی ادویات ہزاروں روپے میں دستیاب ہوئیں تو مرض پر قابو پانے میں مدد ملی۔ تاہم جو غریب اور مستحق افراد ہزاروں روپے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے، ان کے لئے حکومت نے ادویات کی فراہمی کا بیڑہ اٹھایا۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اب ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کو مفت ادویات ان کے گھروں پر پہنچائی جارہی ہیں۔ جون 2018ء تک ایک لاکھ مریضوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال اِس لحاظ سے اطمینان بخش ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک تمام ادویات مریضوں تک نہ پہنچنے کی شکایات ملا کرتی تھیں، اب ان کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مریضوں اور اُن کے لواحقین کو ہسپتالوں کے بار بار چکر نہیں لگانے پڑتے۔ یہ سلسلہ بہتر طریقے سے جاری رہا تو ہیپا ٹائٹس کنٹرول پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہو سکے گا۔ تاہم صاف پانی کی فراہمی کے لئے فلٹر پلانٹس لگانے کی رفتار تیز ہونی چاہئے اور لگائے جانے والے فلٹر پلانٹس کی دیکھ بھال باقاعدگی سے یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ شکایت عموماً سننے کو ملتی ہے کہ فلٹر پلانٹس کی دیکھ بھال کا کام غفلت اور لاپروائی کا شکار ہے۔ اگر فلٹر پلانٹس سے بھی لوگوں کو آلودہ پانی ہی ملے گا تو پھر ہیپا ٹائٹس کے مرض پر قابو کیسے پایا جاسکے گا۔ مریضوں کو مفت ادویات ان کے گھروں پر فراہمی کے پروگرام کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ اسی طرح ملاوٹ مافیا کے خلاف (مستقل بنیادوں پر)سخت ترین اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوڈ ہیلتھ اتھارٹی کے اختیارات کو بھی موثر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر سخت قانون سازی ہونی چاہئے اتھارٹی کا دائرہ فوری طور پر وسیع کرنا حالات کا تقاضا ہے۔ اس پر بھی توجہ دی جائے۔

مزید : اداریہ