مصطفےٰ صادق

مصطفےٰ صادق
مصطفےٰ صادق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مصطفی صادقؒ 1926ء میں بھارت کے ضلع ہوشیار پور کی تحصیل دسوہا کے گاؤں بیرچھہ میں پیدا ہوئے والدین نے غلام مصطفی کے نام سے منسوب کیا۔

تاہم سیاسی اور صحافتی سفر کے آغاز پر غلا م مصطفی نے خود کو مصطفی صادق کا نام دیا لیکن نام کی تبدیلی کے باوجود ان کی روح میں نبی پاکؐ سے عقیدت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی کوششوں میں اسی جذبہ اور رجحان کی وجہ سے پیش پیش رہے تاہم تاریخی واقعات کے حوالے سے الگ مضمون درکار ہے۔ آج کی تحریر مصطفی صادقؒ کی سوانح حیات تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔

ضلع ہوشیار پور کے دیہات بیرچھہ میں آنکھ کھولی ا وراپنے بزرگوں کی طرح کھیتی باڑی کرنے لگے۔ مصطفی صادقؒ نے ابتدائی تعلیم بھی ان حالات میں جاری رکھی۔ والد حسین علی کا سایہ بچپن میں ہی اٹھ گیا تھا جس کے بعد ماموں کے زیر سایہ زندگی کا آغاز ہوا ماموں نے جس محبت اور شفقت سے ان کی تربیت کی اور والدہ محترمہ نے تمام تر مشکل حالات کے باوجود اپنی اولاد کو بہترین تربیت دی۔

مصطفی صادق ؒ اپنے بہن بھائیوں میں والدہ کو سب سے زیادہ لاڈلے تھے۔اپنے ماموں کی محبت اور والدہ محترمہ کی شفقت کووالد صاحب نے کبھی فراموش نہیں کیا۔

مصطفی صادق ؒ کا تعلق ایسے گھرانے سے تھا جس کا تمام تر پیشہ زراعت سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے اپنے ماموں کے ہمراہ کھیتی باڑی کرنے جاتے تھے۔ان کا سکول کے لئے لباس اور ناشتہ کھیت میں ہی پہنچ جاتا تھا۔

وہ وہاں سے سکول روانہ ہوجاتے اور ماموں والد صاحب کے بیلوں کو لیکر گھر آتے اس طرح روزو شب گزرتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا والد صاحب خود ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ چوتھی جماعت میں نمایاں پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہوا تو گھر آتے ہوئے یہ سوچ کرکون خوشی کا اظہار کرے گا ،والد صاحب چند روز قبل انتقال کر چکے ہیں اور بڑے بھائی ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھے۔

گھریلو حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے والد صاحب نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوا تاہم صاف ماحول میں گھی کا چمچ شروع سے نصیب ہوتا رہا کھیتی باڑی کے تمام مراحل میں عملاً حصہ لیا فصل کاٹنے ہل چلانے اور دوسرے کام اپنے ہاتھوں سے کئے ہیں مڈل کا امتحان مسلم ہائی سکول وسوہا سے پاس کر چکا تو اس کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے امکانات معدوم نظر آنے لگے تو کچھ اساتذہ نے سرپرستی کی خواہش کا اظہار کیا لیکن والدہ محترمہ نے نہایت ادب سے پیشکش قبول نہ کی، کسی نہ کسی طرح مارچ1942ء میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا والد صاحبؒ نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ ایک بار مویشیوں کیلئے کھیت سے سرسوں کا پودا اکھاڑ رہا تھا ایک پودا نہ اکھاڑ سکا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے روتے روتے اللہ پاک سے فریاد کی کہ مجھے ان مشکلات سے نجات دے، مشکل کام کیلئے ہمت نہیں ہے اجمیر گاؤں میں جز وقتی طور پر اول مدرس ملازمت بھی کر رہا تھا تھوڑے عرصے میں والد صاحب کے دوست شوکت علی کا خط موصول ہوا کہ لاہور کارپوریشن میں ملازمتوں کے اشتہار کے جواب میں جونیئر کلرک کی آسامی کے لئے درخواست دی گئی جس پر انٹرویو کیلئے بلایا گیا ہے اس خط میں مقررہ تاریخ تک پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی والد صاحبؒ نے خاندان اور والدہ کے اصرار پر لاہور کے لئے رختِ سفر باندھا، گرنا صاحب کے اسٹیشن سے سوار ہو کر جالندھر کیلئے روانہ ہوئے جالندھر سے ہوڑہ ایکسپریس کے ذریعے لاہور پہنچے۔ 24اکتوبر1942ء کو لاہور پہنچے تو پہلا قیام داتا گنج بخشؒ کے مزار پر کیا ابھی فجر کی نماز میں کچھ وقت باقی تھاسفر کی تھکان اتارنے کے لئے فرش پرلیٹ گئے نماز فجرکے بعدجب سورج نکلاتو ہجویری محلے سے متصل شیش محل پارک کی عثمان غنی سٹریٹ میں شوکت علی صاحب کے گھر پہنچ گئے بعد میں بڑے بھائی قدرت اللہ اور دو قریبی رشتہ دار بھی پہنچ گئے شوکت صاحب کی مدد سے لاہور کارپوریشن میں باقاعدہ ملازمت اختیار کر لی۔ پھر دوستوں کے مشورہ سے منشی فاضل میں داخلہ لیا1946ء میں اپنے دوست صادق ظفر کے ساتھ منشی فاضل کا امتحان پاس کر لیا۔

قیام پاکستان کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔ ریڈ کلف نے ہوشیار پور اور گرداس پور کے اضلاع بد نیتی سے ہندوستان میں شامل کر دیئے، ریڈ کلف نے ہمیں آزادی کی نعمتوں سے وقتی طور پر محروم کرکے غلامی کے شکنجوں میں جکڑ دیاجس سے بھی بڑھ کر جس ظلم و ستم کا سامنا ہمیں کرنا پڑا وہ گھر سے بے گھر ہونے کا المیہ تھا، بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں نہ صرف یہ بلکہ قتل و غارت گری کا بازار بھی گرم ہوا۔

مصطفی صادقؒ نے اپنی ہندوستان سے پاکستان نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایاکہ ہندو اور سکھ مسلمانوں پر شب خون مارتے اور عورتوں کو اغواء کرلیتے تھے لہٰذا ہمیں اپنی خواتین اور بچوں کو حفاظت سے پاکستان لانا بہت دشوار گزار مرحلہ تھا۔لاہور پہنچنے کے بعدکارپوریشن کی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے تاہم قومی اسمبلی کے رکن چودھری علی اکبر کی سفارش پر لاہور کارپوریشن کی ملازمت دوبارہ حاصل ہوئی اگرچہ لاہور کارپوریشن میں 1946ء میں کلرک بھرتی ہوا تھا لیکن جنرل اسسٹنٹ کی ایسی پوسٹ پر تعینات کردیا گیا تھاجو انتہائی قابل احترام تھی لاہور کارپوریشن میں آخری تقرری آفس انسپکٹر کے طور پر ہوئی تھی۔

ملازمت کا سفر 1950ء میں ختم ہو گیا 1950ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے امیر جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ نے قصبات اور دیہات میں دعوتی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لئے نائب کے تقرر کی تجویز دی ملک نصراللہ خان عزیز نے مصطفی صادق ؒ کا نام تجویز کیا جس کے بعد میاں عبدالحفیظ عبدالحمید کھوکھر اور دیگر ارکان نے تجویز کی تائید کی جس پر مولانا مودودیؒ نے رکنیت کا حلف لیا اور یوں رکن جماعت اسلامی کی حیثیت سے سیاسی سفر کا آغاز ہو گیا۔

مصطفی صادقؒ کے سیاسی سفر میں مارچ1953ء خاص اہمیت کا حامل ہے جب ختم نبوت تحریک کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی بیان پر سرکردہ سیاسی و دینی شخصیات سے دستخط لینے کی مہم شروع کی جس کاغذ پر دستخط حاصل کئے جا رہے تھے مقامی پولیس نے خلاف قانون قرار دے کر ضبط کر لیا جماعت اسلامی لاہور کے دفتر پر چھاپہ مارا اور کچھ ہی دنوں کے بعد مصطفی صادقؒ کو 18 پریس آرڈیننس کے تحت گرفتار کر لیا گیا چند گھنٹوں کی حراست کے بعد ضمانت پر رہائی مل گئی۔جماعت اسلامی سے سیاسی و دینی وابستگی جاری تھی کہ 1954-55ء میں ارشاد حقانی نے جماعت اسلامی کے ترجمان روزنامہ تسنیم میں شامل ہونے کی ترغیب دی جس کو قبول کرنا ہی پڑا اور پھر صحافتی سفر کا آغاز ہو گیا جو ان کی آخری سانس تک جاری رہا۔ روزنامہ تسنیم سے علیحدگی کے بعد فیصل آباد میں مولانا عبدالرحیم اشرف کے المنبر میں صحافت شروع کی جس کے بعد روزنامہ آفاق میں ملازمت مل گئی اس اخبار میں سینئر سب ایڈیٹر کی ذمہ داری دی گئی آفاق میں بطور صحافی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے جمیل اطہر صاحب بھی ہم سفر ہو گئے انہوں نے آفاق فیصل آباد میں ملازمت حاصل کر لی روزنامہ آفاق فیصل آباد سے علیحدگی اختیار کر کے 25 دسمبر1959ء کو فیصل آباد سے وفاق کی اشاعت کا آغاز کیا جمیل اطہر بھی شامل سفر تھے۔

مصطفی صادقؒ صحافتی حلقوں میں نہایت احترا م کا مقام رکھتے تھے دو مرتبہ آل پاکستان نیوز پیپرزسوسائٹی کے صدر منتخب ہوئے، انہیں یہ اعزاز 1991ء اور 1993ء میں حاصل ہوا۔ انتخاب کے پہلے سال سالانہ تقریب میں صدر فاروق احمد خان لغاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ دوسرے دورِ صدارت میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

دونوں نے اے پی این ایس کی سابقہ روایات کے مطابق 25، 25 لاکھ کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ منتخب صحافیوں اور اخباری ایجنسیوں کو سندات کے علاوہ 25 ،25 ہزار کے چیک بھی دوران اجلاس ہی ہمارے حوالے کئے۔

اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے باقاعدگی کے ساتھ رکن منتخب ہوتے رہے لیکن سب سے اہم اور قابل فخر یہ اعزاز ہے کہ 2005--2006 کے لئے اے پی این ایس کی جنرل باڈی کے اجلاس میں تاحیات ایگزیکٹو کمیٹی کا اعزازی رکن بلا انتخاب چنا گیاجس کی تجویز حمید ہارون نے پیش کی تھی جبکہ مسٹر سرمد علی اور دوسرے سینئر صحافیوں اور ایڈیٹروں نے اس کی بھرپور تائید کی۔

صدر مملکت جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے مصطفی صادق ؒ نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کابینہ میں شمولیت کی سب سے پہلے تجویز مجیب الرحمن شامی صاحب نے جنرل ضیاء الحق سے ایک ملاقات کے دوران پیش کی جس کو صدر ضیاء الحق نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ آپ سے ابھی حلف لے لیا جائے۔

تاہم بات بدل گئی کچھ دنوں کے بعد صدر ضیاء الحق نے مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا عبدالرحیم اشرف کے ساتھ مجھے بھی کھانے کی دعوت پر بلایا۔ اس دعوت میں سردار محمد عبدالقیوم خان اور بہاولنگر کے محمد رفیق شاہ بھی شامل تھے۔ کھانے کی میز پر صدر ضیاء الحق نے یہ فیصلہ سنایا کہ مصطفی صادق ؒ صاحب کو حکومت میں شامل کیا جارہا ہے۔ مولانا عبدالرحیم اشرف نے تحفظات کا اظہار کیا جب کہ سردار محمد عبدالقیوم خان نے اصرار کیا کہ دوست جس مورچے پر کھڑا ہونے کا تقاضا کریں اسے بلا تردد تسلیم کرلینا چاہئے

۔ کچھ تردد کے بعد میں نے بھی حامی بھرلی اور کچھ دنوں کے بعد باقاعدہ حلف برداری کی تقریب ہوئی اور کابینہ میں شامل کرلیا گیا۔ مصطفی صادقؒ کو ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو ، سردار فاروق احمد خان لغاری کے علاوہ تمام قومی ، سیاسی جماعتوں اور دینی تنظیموں میں انتہائی معتبر مقام حاصل تھاکیونکہ وہ قومی رہنماؤں کو ملکی مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کیلئے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے اور کبھی بھی تعلقات کو خبروں کا موضوع نہیں بنایا، راز کو راز ہی رکھا ، یہی وجہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو کی مولانا سید ابواعلیٰ مودودی سے ملاقات، 1973ء کے آئین کی تیاری اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی کوششوں میں انتہائی مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں مصطفی صادقؒ کی کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک خط لکھاجس میں ان کوششوں کو قومی سطح کی کاوش قرار دیاجو ان کے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔

مزید : کالم