نواز شریف کا نظریہ؟

نواز شریف کا نظریہ؟
 نواز شریف کا نظریہ؟

وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ سارے مشورے، ساری تجاویز اور ساتھیوں کی تمام درخواستیں رائیگاں گئیں، نواز شریف نے اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کیا، بلکہ ایبٹ آباد کے جلسے میں کچھ زیادہ ہی تندوتیز باتیں کرگئے۔

جیل جانے اور موت سے نہ ڈرنے کی باتیں نواز شریف کی اپنی تاریخ کے تناظر سے کچھ لگا نہیں کھاتیں۔ انہوں نے 1999ء میں جیل سے گھبرا کر ڈیل نہ کی ہوتی اورپرویز مشرف کے جبر کا مقابلہ کرلیتے تو شاید آج ملک کے حالات ہی مختلف ہوتے۔

جس انقلاب کی بات وہ آج کررہے ہیں، وہ بہت پہلے بپا ہوچکا ہوتا۔ جہاں تک موت سے نہ ڈرنے کی بات ہے تو ایسے کوئی حالات نہیں کہ انہیں ایسی کسی صورت حال کا سامنا ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ اب نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے۔ کس نظریے کا اس کی وضاحت وہ نہیں کرپارہے۔ وہ کرپشن کے الزام میں نیب عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں، وہ اگر اپنے نظریے کو منوانا چاہتے ہیں تو پہلے ان مقدمات میں ٹھوس شہادتوں کے ساتھ خود کو سچا اور ایماندار ثابت کریں۔

وگرنہ اُن کا نظریہ تو یہی نظر آئے گا کہ وہ مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کرنے کی بجائے عوامی عدالت میں کرنا چاہتے ہیں اور اسی کے دباؤ پر ان مقدمات سے گلو خلاصی چاہتے ہیں۔

اپنے ذاتی مفاد یا اپنی ذاتی مشکلات سے چھٹکارے کے لئے بنایا گیا کوئی نظریہ کبھی پروان نہیں چڑھتا۔ نواز شریف اگر جمہوریت کی بات کرتے ہیں، یا سول بالادستی کا بیانیہ اختیار کرتے ہیں، تو انہیں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ کیسے اس نوعیت کا انقلاب برپا کریں گے کہ یہ مقاصد پورے ہوسکیں؟ مجھے کوئی یہ بتائے کہ ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کو ہدف تنقید بناکر کوئی جمہوری انقلاب کیسے برپاکرسکتا ہے؟

نواز شریف نے ایبٹ آباد کے جلسے میں بھی کہا ہے کہ کروڑوں عوام کا فیصلہ 5جج کیسے بدل سکتے ہیں؟ کیا دنیابھر میں سپریم کورٹ کروڑوں افراد پر مشتمل ہوتی ہے کیا چند جج ہی فیصلے نہیں کرتے۔

نواز شریف اگر پانچ ججوں کو بے گناہی کے ثبوت نہیں دے سکے تو اس کا الزام وہ سپریم کورٹ یاکسی اور کو کیا دے سکتے ہیں؟کیا نواز شریف کے نظریے کو مان کر ہم ملک کی سب سے بڑی عدالت کو بند کردیں، کیا آئین نے اسے جو اختیارات دیئے ہیں، انہیں چھین لیں؟

صرف اس لئے کہ نواز شریف کے بیانیے کو درست تسلیم کیا جانا چاہئے۔ ملک میں ایسا کون ہے جو سول بالادستی کے حق میں نہیں، کون ایسا ہے جو جمہوریت نہیں چاہتا، کس کی خواہش ہے کہ پارلیمنٹ کی بساط لپیٹ دی جائے اور فوج ملک پر حکومت کرے؟ شاید ہی کوئی باشعور پاکستانی یہ سب کچھ چاہتا ہو، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوئی نہیں چاہتا کہ ملک میں مادر پدر حکمرانی کا دور دورہ ہو، جمہوریت ایک بے لگام طرزِ حکمرانی کا نقشہ پیش کرے اور لوٹ مار کا بازار گرم رہے۔

دنیابھر میں جمہوریت کو زیادہ ذمہ دار طرزِ حکومت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اُس میں منتخب حکومت عوام کو جوابدہ ہوتی ہے اور اُس میں تمام آئینی ادارے مکمل آزادی کے ساتھ کام کررہے ہوتے ہیں۔ تین بار وزیر اعظم بننے والا شخص اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت کو ہی نہیں مانتا تو اس میں اور کسی آمر میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ نواز شریف نے ایبٹ آباد کے جلسے میں کہا ہے کہ انہی ججوں نے آمروں کو نظریۂ ضرورت کے نام پر سپورٹ کیا، انہیں رہزنی کی اجازت دی۔۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ خود ان ججوں کی کون سی توقیر کررہے ہیں۔ جرنیلوں نے اگر اپنی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کیا اور سپریم کورٹ سے نظریۂ ضرورت کی چھڑی بھی حاصل کی۔

نواز شریف بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ عدلیہ اُن کے من پسند فیصلے دے۔ سامنے کی حقیقتوں کو دیکھنے کے باوجود آنکھیں بند کرلے۔۔۔نواز شریف اپنے نظریے کے نام پر ایک خطرناک راستہ اختیار کرچکے ہیں۔ جمہوری طاقتیں اُن کے اس راستے کی سنگینی سے خوفزدہ ہیں،جبکہ وہ خود تو یہی وہ چاہتے ہیں کہ تخت یاتختہ ہو جائے، اگر وہ نہیں ہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہونا چاہئے۔یہ بات کسی ایسے شخص کو زیب نہیں دیتی، جس نے ملک پر حکمرانی کی ہو اور جس کے پاس ایک بڑی سیاسی جماعت بھی ہو۔

کیا انہیں معلوم نہیں کہ اُن کے جلسوں یا بیانات سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ کوئی انتظامی فیصلہ ہے جو دباؤ ڈال کر تبدیل کرایا جاسکے۔ کیا نیب کے کیس اس طرح کی مہمات سے ختم ہوسکتے ہیں؟ بالفرض یہ کیس کسی این آر او کے تحت واپس لے لئے جائیں تو کیا نواز شریف تب بھی اپنے انقلاب پر گامزن رہیں گے۔

انہیں کوئی کیسے سمجھائے کہ سجاد علی شاہ کے دور میں جب اُن کی جماعت نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا تو مسلم لیگ (ن) کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ وہ داغ دھوتے دھوتے آج کتنے برس بیت گئے ہیں، مگر اُس کی پرچھائیاں آج بھی عدلیہ کا احترام نہ کرنے کے حوالے سے اُن کا پیچھا کررہی ہیں۔

اب وہ دوبارہ ایک ایسے راستے پر چل نکلے ہیں، جس کی کوئی منزل نہیں، البتہ دامن پرچھینٹے پڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ایسی گرد اڑانے کی بجائے اگر وہ حوصلے اور تدبر سے کام لیں تو اپنے مقاصد بھی حاصل کرسکتے ہیں اور جمہوریت کو داؤ پر لگنے سے بھی بچا سکتے ہیں۔

وہ ایک ہی بیانیہ سے اپنی بے گناہی کیسے ثابت کرسکتے ہیں؟ جبکہ اُن کے خلاف مہیا کردہ ثبوت پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں۔ صرف یہ کہہ دینے سے کہ عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم کو پانچ جج کیسے نکال سکتے ہیں، بات نہیں بنتی، کیونکہ وہ تو اب نکل چکے ہیں اور یہ عدالت کا آئینی اختیار تھا، جس کے تحت انہیں نکالا گیا۔

وہ عدالت کا یہ آئینی اختیار تسلیم کرکے وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہوچکے ہیں، اس لئے اب بات آگے کی ہونی چاہئے۔ ایک ہی بات دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔عوام کے ریفرنڈم سے عدالتوں کے فیصلے بدلوانے کی حکمتِ عملی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، اسلام آباد میں جاری تحریک لبیک کے دھرنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ غیر قانونی قراردے کر ختم کرنے کا حکم دے چکی ہے، وزیر داخلہ احسن اقبال بار بار عدالت کے حکم کا حوالہ دے کر دھرنے کے منتظمین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ توہین عدالت نہ کریں اور عدالت کا حکم مان کر دھرنا ختم کردیں۔ گویا عدالت کا حکم عوام کے دھرنے پر فضیلت رکھتا ہے۔ تو پھر نواز شریف کیسے عوام کے ریفرنڈم سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو رد کرانا چاہتے ہیں۔

یہ خواہ مخواہ کی ایک محاذ آرائی اور سیاسی ساکھ بچانے کی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کے خطرناک نتائج یوں نکل سکتے ہیں کہ عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے، سیاسی انارکی عروج پر پہنچ جائے اور اداروں کا ٹکراؤ ملک کو ایک ایسے بحران میں مبتلا کردے جس سے نکلنا ممکن ہی نہ رہے۔

نواز شریف چاہیں تو ایک باریک سا راستہ نکال سکتے ہیں، وہ عوامی جلسوں کا سلسلہ جاری رکھیں، مگر اپنا بیانیہ تھوڑا ساتبدیل کردیں۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ کوئی عدالتی فیصلہ انہیں عوام سے دور نہیں کرسکتا، تو ٹھیک کہتے ہیں۔

وہ ایک بڑے سیاسی رہنما ہیں اور عوام سے اُن کا تعلق بہت گہرا ہے، مگر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ججوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا تھاکہ انہیں اقتدار سے نکالتے تو وہ خود اپنی حدود سے نکل جاتے ہیں۔ وہ اگر سپریم کورٹ کے ججوں کی تحقیرکو اپنا نظریہ بناچکے ہیں تو یہ خود اُن کے لئے بھی کوئی مناسب بات نہیں۔

اس سے اُن کی شخصیت کا خود غرضانہ تاثر اُبھرتا ہے، اگر وہ سول بالادستی چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے عدالتوں کا احترام کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ عدالتیں ہی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔ آمریت کو صرف آمریت تک محدود رکھا جائے۔

یہ کوئی طریقہ نہیں کہ عدالتیں اگر میرے خلاف فیصلہ دیں تو میں انہیں بھی سویلین بالادستی کے خلاف قرار دے کر سڑکوں پر آجاؤں۔ نواز شریف جسے اپنا نظریہ کہتے ہیں، اُس پر نظر ثانی کریں، کیونکہ یہ نظریہ صرف اُن کی ذات کے گرد گھوم رہا ہے اور ایسے نظریے کبھی کسی انقلاب کا باعث نہیں بنتے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...