جنرل ہائی ٹن کا تاریخی استدلال

جنرل ہائی ٹن کا تاریخی استدلال
 جنرل ہائی ٹن کا تاریخی استدلال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہیری ایس ٹرومین (Truman) امریکہ کا 33واں صدر تھا جس نے 12 اپریل 1945ء کو عنانِ اقتدار سنبھالی۔ اسے یہ خبر نہ تھی کہ 12اپریل کو وائٹ ہاؤس میں صدر روز ویلٹ کا اچانک انتقال ہو جائے گا اور اس کی جگہ اسے سنبھالنا پڑے گی اور تاریخ میں جوہری حملے کے تناظر میں اس کا نام امر ہو جائے گا۔

اسے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر اس عہدے پر فائز ہو گا، صرف 18دن بعد ہٹلر اپنے بنکر میں ایوا براؤن کے ساتھ خودکشی کر لے گا اور اگلے روز یکم مئی کو یورپ میں تو دوسری عالمی جنگ ختم ہو جائے گی لیکن ایشیاء میں جاپان ہار نہیں مانے گا۔

اسے اس بات کا سان گمان بھی نہ تھا کہ اسی کے عہد میں جولائی 1945ء میں ایٹم بم کا پہلا تجربہ (صحرائے نوادا میں) کامیاب ہو جائے گا اور اسے 6اگست 1945ء کو ہیروشیما پر پہلا جوہری بم گرانے کا ’’اعزاز‘‘ حاصل ہوگا۔

اس کے تین دن بعد اسے بارِ دگر ناگا ساکی پر دوسرا بم گرانے کے احکامات بھی دینے پڑیں گے اور ان دونوں حملوں کے سبب لاکھوں انسان چشم زدن میں ہلاک ہو جائیں گے، لاکھوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں گے اور دونوں شہروں میں گراؤنڈ زیرو کے آس پاس پھیلے ہوئے سینکڑوں میلوں پر نہ تو گھاس کا کوئی تنکا باقی بچے گا اور نہ کوئی عمارت صحیح سالم دیکھنے کو ملے گی۔ دنیا دم بخود رہ جائے گی۔

شہنشاہِ جاپان ہیرو ہیٹو کو خود ریڈیو پر آکر جنگ بند کرنے کے احکامات صادر کرنے پڑیں گے اور ساتھ ہی غیر مشروط طور پر جاپانی مسلح افواج کو سرنڈر کرنے کا وہ شرمناک حکم دینا پڑے گا جس کو ماننے سے پہلے کئی جاپانی فیلڈ کمانڈرز ہیرا کیری (خودکشی) کو سرنڈر پر ترجیح دیں گے۔۔۔

ٹرومین کے بعد 2016ء تک گیارہ صدور اور بھی آئے ۔کسی نے چار سال حکومت کی، کسی نے 8سال ، کسی نے 6سال اور کسی نے پانچ سال۔۔۔ صدارت کا یہ دورانیہ اس لئے کم و بیش ہوتا رہا کہ کوئی قتل ہو گیا (کینیڈی) اور کوئی مواخذے (نکسن) کی بھینٹ چڑھ گیا۔

البتہ ان سب 11صدور کے ادوار اس وجہ سے یاد رکھے جائیں گے کہ ان صدور کے ہاتھ میں بنی نوعِ انسان کی بقا یا فنا کی آپشن موجود تھی۔ دنیا کی سپرپاور ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اسلحہ خانے میں ہزاروں ایٹم اور ہائیڈروجن بم موجود تھے اور ہزاروں بین البراعظمی میزائل بھی ان کی افواج کے ترکش میں تھے۔۔۔۔ سٹرٹیجک بمبار کمانڈ اور جوہری آبدوزیں ان کے علاوہ تھیں۔۔۔ دنیا میدانِ حشر کے کنارے بیٹھی ان صدورِ کا منہ تکتی رہتی تھی کہ ان کے ایک اشارۂ ابرو پرسارے نظامِ عالم کے عدم یاوجود کا انحصار ہوگا!

مطلب یہ ہے کہ صدرِ امریکہ کی شکل میں اس کرۂ ارض پر کم از کم ایک انسان ایسا پیدا ہو گیا تھا جو خداوندِ جلیل کا ان معنوں میں خلیفہ (نائب) تھا کہ خدا کے علاوہ اس نائبِ خدا کے ہاتھ میں حشر برپا کرنے یا نہ کرنے کی آپشن موجود تھی۔

اس نائبِ خدا نے ایک اسرافیل بھی ملازم رکھا ہوا تھا جو امریکی جوہری کمانڈ کا سربراہ تھا۔ اس کو جب بھی حکم دیا جاتا وہ صور پھونکتا اور قیامت آ جاتی۔

اس نائبِ خدا کے ہاتھ میں قیامت بپا کرنے کی آپشن تو تھی لیکن اس کے بعد مُردوں کو زندہ کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ ایک اور وجہ جو حشر برپا کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی وہ یہ تھی کہ اس حشر میں وہ نائبِ خدا خود بھی اور اس کی ساری قوم بھی ملیا میٹ ہو جاتی۔ چنانچہ 9اگست 1945ء کے بعد سے آج تک کسی بھی خلیفہ ء خدا کو اس باہمی خودکشی (Mutual Assured Destruction) کی ہمت نہ پڑی!

لیکن اس برس 20جنوری 2017ء کو امریکہ کا ایک ایسا صدر بساطِ عالم پر نمودار ہوا جس نے اپنے گزشتہ 11پیش رو صدور کے برعکس یکے بعد دیگرے علی الاعلان قیامت برپا کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔۔۔ اس صدر کا نام ڈونلڈٹرمپ ہے، یہ 45ویں صدر امریکہ ہیں اور انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اپنے پہلے ہی خطاب میں اڑھائی کروڑ کی آبادی والے ایک آزاد اور خود مختار ملک کو صفحہ ء ہستی سے نیست و نابود ہونے کی ’’نوید‘‘ سنا چکے ہیں۔

ٹرمپ صاحب نے اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ یکے بعد دیگرے مختلف مواقع پر یہی دھمکی بار بار دہرا چکے ہیں۔ البتہ یہ نائبِ خدا شائد بھول گیا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ اس کی اپنی قوم اور سارا امریکہ بھی خاک و خون میں نہلا جائے گا۔لہٰذا اس امر میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ اس کی قوم کے بہت سے سربرآوردہ لوگ جب ٹرمپ کی اس بڑھک کو سنتے ہیں تو دل ہی دل میں کہتے ہیں: ’’پاگل ای اوئے!‘‘

لیکن قارئین کرام، اس لن ترانی کو سنتے سنتے اب اس نائبِ خدا کے اسرافیل نے بھی پچھلے دنوں ایک ایسا بیان داغا ہے جس کی گونج ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اس امریکی فرشتے کا نام جنرل جان ہائی ٹن (John Hyten)ہے، امریکی ائر فورس سے اس کا تعلق ہے اور وہ امریکہ کی سٹرٹیجک کمانڈ کا کمانڈر ہے یعنی سارے جوہری بموں کا انچارج۔۔۔ اس نے دو روز پہلے ایک انٹرنیشنل سیکیورٹی فورم میں جو کینیڈا کے ایک شہر نووا سکوٹیا میں منعقد ہوئی، یہ بتا کر دنیا میں ایک کھلبلی مچا دی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے اس کو کسی ملک پر جوہری حملہ کرنے کے احکامات صادر کئے تو وہ اس غیر قانونی حکم کی تعمیل نہیں کرے گا۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!

جنرل ہائی ٹن نے اس فورم میں برملا یہ بھی کہا کہ میں نے اس مسئلے پر بہت سنجیدگی سے کئی بار سوچا ہے کہ اگر مجھے جوہری حملہ کا حکم صادر کیا گیا تو میرا ردِعمل کیا ہوگا۔۔۔۔ اس فورم میں کسی نے جنرل سے یہ پوچھا تھا کہ اگر اسے ٹرمپ نے Go کا آرڈر دیا تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟۔۔۔ اس نے جواب دیا: ’’میں سوچتا ہوں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم بے وقوف قوم ہیں۔ لیکن ہم بے وقوف نہیں ہیں۔ ہم ان مسائل پر بہت غور و خوض کرتے ہیں، بہت سوچتے ہیں۔

جب آپ کے سر پر اس طرح کی ذمہ داری آن پڑے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اس پر کماحقہ غور نہ کریں۔ بطور کمانڈر، سٹرٹیجک کمانڈ، میں اس بات کا پابند ہوں کہ صدر کو اس موضوع پر مشاورت فراہم کروں۔ وہ مجھ سے جب پوچھیں گے کہ کیا کرنا ہے تو اگر یہ بات غیر قانونی (Illegal) ہوگی تو آپ خود اندازہ لگائیں کہ میں صدر کو اس سوال کا کیا جواب دوں گا۔ میں ان کو یہی کہوں گا کہ صدر صاحب! یہ حکم غیر قانونی ہے۔ اور اس کے بعد آپ یہ اندازہ بھی لگائیں کہ وہ دوسرا سوال کیا کریں گے؟ وہ یہی کہیں گے ناں کہ: ’پھر قانونی آپشن کیا ہے؟‘ ۔۔۔ میں ان کو جاری صورتِ حال کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دوں گا۔ ان کے سامنے مختلف آپشنز رکھوں گا، ہم لوگ ان کو مختلف صورتوں کے پیش نظر اپنی مختلف اہلیتوں اور قابلیتوں کی آپشنز بتائیں گے اور اس طرح یہ عمل آگے بڑھے گا۔۔۔۔ یہ مسئلہ اتنا زیادہ پیچیدہ نہیں‘‘۔۔۔

جنرل کا یہ تبصرہ سن کر ایک اور صحافی نے یہ سوال کیا: ’’فرض کریں آپ کو ایک غیر قانونی حکم دیا جاتا ہے تو اس کی تعمیل یا عدم تعمیل کی سٹینڈرڈ پریکٹس کیا ہو گی؟‘‘۔۔۔ جنرل ہائی ٹن نے جواب دیا: ’’پریکٹس یہ ہو گی کہ اگر آپ کوئی غیر قانونی (Unlawful)یا (Illegal) حکم مانتے ہیں تو آپ جیل جائیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ باقی ساری عمر جیل ہی میں گزاریں ‘‘۔

قارئین گرامی، گزشتہ 6عشروں سے صدرِ امریکہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت جب چاہیں اور جس ملک کے خلاف چاہیں، جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ تن تنہا کم از کم چار بار شمالی کوریا کو دھمکی دے چکے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ اس ملک کو صفحہء ہستی سے مٹا دیا جائے، اس کی دو کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کو موت کی نیند سلا دیا جائے اور صدر شمالی کوریا کم جانگ اُن (Kim Jang Un) کو سبق سکھا دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس قسم کی عاقبت نا اندیشانہ دھمکیاں اور بیانات امریکہ کے سنجیدہ طبقوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر چکے ہیں کہ صدر کے اس اختیار کو واپس لے لیا جائے اور اس کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرنے کے لئے اسے ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے مشترکہ اراکینِ کانگریس کی ایک الگ کمیٹی کے حوالے کر دیا جائے جو اس قسم کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے صدر کو مشورہ دے۔ تاکہ صدر(اتفاق رائے سے) اس کمیٹی کے مشورے کے بغیر نہ تو اس قسم کے بیانات داغ سکیں اور نہ بلا شرکتِ غیرے کسی کمانڈر، سٹرٹیجک کمانڈ کو یہ حکم دے سکیں کہ جاؤ فلاں ملک پر جوہری بموں کی بارش کردو!

میں کئی باریہ سوچ کر لرزگیا ہوں کہ آج دنیا کی جوہری اقوام کے پاس ہزاروں جوہری وارہیڈز موجود ہیں اور ان کو دشمن پر پھینکنے کے تینوں ذرائع (ارضی، سمندری اور فضائی) بھی ہزاروں کی تعداد میں ان کے پاس موجود ہیں۔ اگر کسی صاحبِ جوہری صلاحیت سے ذرا سی بھی بھول چوک ہو گئی اور اس نے ’’بزن‘‘ کا حکم دے دیا تو کیا ہو گا؟ (اور یہ بھول چوک تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہے)۔

میں نے بارہا یہ بھی سوچا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے آج تک پہنچنے کے سفر میں حضرتِ انسان نے جو زمانی فاصلہ طے کیا ہے اور جو ارتقائی منازل سر کی ہیں، کیا وہ ایک پل کی صرف ایک بھول چوک سے ملبے کا ڈھیر بن جائیں گی؟۔۔۔ لیکن جب میں نے جنرل ہائی ٹن کی یہ خبر پڑھی ہے کہ جس کا ذکر اوپر کیا گیا تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ قیامت ابھی قرنوں دور ہے۔ یہ کب آئے گی اس کی خبر صرف خدائے عز و جل کی ذات کو ہے۔

اس کا کوئی نائب، یہ اختیار نہیں رکھتا کہ وہ الل ٹپ ایسا کر دے۔ احادیث اور روایات میں قربِ قیامت اور وقوعِ قیامت کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان کی ابتداء نہ جانے کب ہو۔

جنرل ہائی ٹن کا یہ بیان کہ اگر اس کو صدر امریکہ نے کسی ملک پر کوئی جوہری وارہیڈ گرانے کا حکم دیا تو وہ اس کو اس طرح اندھا دھند نہیں مانے گا جس طرح 6اگست 1945ء کو صدر ٹرومین کا حکم مانا گیا تھا، ایک انقلاب آفریں بیان ہے۔ اور دنیا کے سب سے بڑے جمہوری اور جوہری ملک کے سب سے زیادہ بااختیار انسان کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

جاپان پر جوہری حملے کی نفی اور اثبات پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ 6اگست 1945ء کو ٹرومین کے پاس دونوں آپشنز تھیں۔ لیکن اس نے حملہ کرنے کی آپشن کیوں استعمال کی اس کے خلاف جو دلائل دیئے جاتے ہیں وہ حملہ کرنے کی آپشن کے مقابلے میں زیادہ قومی اور زیادہ وزنی ہیں۔

جنرل ہائی ٹن کا یہ بیان بارش کا وہ پہلا قطرہ بھی ثابت ہو سکتا ہے جو جوہری آپشن کو سرے سے خارج از امکان قرار دے دے اور دنیا کو اس جوہری آفت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات دلا دے۔

شاہاں چہ عجب گر بنواز مذگدارا

مزید : کالم