غرب اردن میں مسجد کے قریب یہودیوں کی عبادت پر تنازع

غرب اردن میں مسجد کے قریب یہودیوں کی عبادت پر تنازع

 مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ایک مسجد کے قریب یہودی آباد کاروں نے اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق نماز ادا کرنے کی کوشش کی جس پر فلسطینی عوام میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں الحاسیدیہ تنظیم کے بریسلوف فرقے سے تعلق رکھنے والے 300 یہودی آباد کاروں نے غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل الحلحول میں ایک مسجد میں گھسنے کی کوشش کی۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ اس مسجد میں ان کے دو انبیاء کرام کی قبریں موجود ہیں۔ایک یہودی آباد کار نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب 18 سال کے بعد انہیں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقے میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کا موقع ملا ہے۔درایں اثناء اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں ایک مسجد کے قریب نماز ادا کی۔ اس موقع پر مشتعل فلسطینیوں نے آباد کاروں پر پٹرول بموں سے حملہ کیا اور سنگ باری کی تاہم سیکیورٹی فورسز نے فلسطینیوں کو منتشر کردیا تھا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔یہودیوں کی روایات کے مطابق الخلیل کے شمالی علاقے حلحول کی جامع مسجد میں یہودیوں کی قبریں موجود ہیں۔ گذشتہ روز یہودی اس مسجد کے قریب گئے جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں میں بیت لحم میں واقع قبر راحیل اور نابلس حضرت یوسف کا مزار جیسے اہم مقامات ہیں۔

 

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...