ورچوئل یونیورسٹی کے زیرِاہتمام چوتھی انٹرنیشنل کانفرنس کاآغاز

ورچوئل یونیورسٹی کے زیرِاہتمام چوتھی انٹرنیشنل کانفرنس کاآغاز

لاہور(پ ر)ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کے زیرِاہتمام چوتھی انٹرنیشنل فاصلاتی نظام تعلیم کانفرنسELDEC کا باقاعدہ آغازایم اے جناح کیمپس میں ہوگیا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور پنجا ب ہا ئر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے منعقد کی جانے والی اس بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء میں ملکی اور بین الاقوامی ماہرِتعلیم شامل ہیں۔اس کانفرنس میں شرکت کے لیے ای لرننگ سے تعلق رکھنے والے غیرملکی مندوبین ملائشیا، انڈونیشیا اور جرمنی سے خصوصی طور پرشریک ہورہے ہیں۔ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کے زیرِاہتمام اس سے پہلے بھی فاصلاتی نظام تعلیم کی تین کانفرنس منعقدہوچکی ہیں۔اس کانفرنس میں فاصلاتی نظام تعلیم کے مختلف پہلوؤں،چیلنجز،مستقبل اور رجحانات پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔اس کانفرنس میں 30سے زائد تحقیقی مقالات پیش کیے جارہے ہیں۔ ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کے ریکٹر ڈاکٹر نوید اے ملک نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکاء کوخوش آمدید کہا۔انہوں نے کہا کہ فاصلاتی نظام تعلیم کے ماہرین کی کہکشاں لاہور میں دانشورانہ خیالات کے باہمی تبادلے کے لیے جمع ہے جو ورچوئل یونیورسٹی کے لیے ایک اور اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ورچوئل یونیورسٹی پاکستان میں فاصلاتی نظام تعلیم میں مؤثر نظام اورمعیاری تعلیمی پروگرامزکے ساتھ ایک منفرد مقام کی حامل ہے ۔اس موقع پرایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی مہمانِ خصوصی تھے۔پہلے روز تین تکنیکی سیشن منعقد کیے گئے جن کی مجلس صدارت کے اراکین میں ڈاکٹر نجمہ نجم، ڈاکٹر محمود احمد بودلہ اور ڈاکٹرمنور سلطانہ مرزا شامل ہیں۔اس موقع پرغیرملکی ماہرِتعلیم پروفیسر ڈاکٹر تیان بلواتی، سابق ریکٹراوپن یونیورسٹی انڈونیشیا اور ایشیا یونیورسٹی ملائشیا کے پروفیسر ڈاکٹرجان ارول فلپ نے جامعات اور ڈیجیٹل دور اور تعلیمی انقلاب میں نصاب اور حکمت عملی پر خطاب کیا۔اس موقع پرملک بھر کی دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مزید : کامرس