ایف پی سی سی آئی کادرآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی واپس نہ لینے پر اظہار تشویش

ایف پی سی سی آئی کادرآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی واپس نہ لینے پر اظہار ...

کراچی(این این آئی)ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ثاقب فیاض مگو ں نے تاجر برادری کے مسلسل مطالبے کے باوجود مجموعی طور پر731درآمدی آئٹمز پر موجود ریگولیٹری ڈیوٹی واپس نہ لینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت تجا رت اور ایف بی آر سے ایس آر او SRO 1035(I)/2017 کے ذریعے عائد کیے گئے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ کیو نکہ اس کی زد میں وہ صنعتی خام مال بھی آگئے ہیں جو کہ ملک میں پیدا نہیں ہو تے ۔ یہ با ت انہوں نے ایف پی سی سی آئی کی قا ئمہ کمیٹی برا ئے درآمدات کے ممبرا ن سے خطا ب کر تے ہو ئے کہی جس کا اجلا س قائمہ کمیٹی برائے درآمدات کے چیئر مین خر م اعجاز کی سر براہی میں فیڈریشن ہا ؤس کراچی میں ہو ا۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ثا قب فیاض مگو ں نے کہاکہ ریگو لیٹر ی ڈیو ٹی کے نفا ذ سے متعلق فیصلہ کر تے وقت نہ ہی ایف پی سی سی آئی کو اور نہ ہی کسی بھی متعلقہ ایسوسی ایشن کو اعتما د میں لیا گیا اور یکطر فہ طو ر پرریگو لیٹری ڈیو ٹی لگا دی گئی۔ خا م ما ل جو کہ ملک میں پیدا نہیں ہو تا کی در آمد پر ریگو لیٹر ی لگانے سے ان کی در آمدی لا گت مین خا طر خواہ اضا فہ ہو گا جس کی وجہ ان اشیا ء کی قا نو ناً درآمدات کی حوصلہ شکنی اور اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہو گی اور مقامی طو ر پر تیا ر کی گئی اشیا ء کی مسا بقت مقامی ما رکیٹ میں اسمگل ہونے والی اشیا ء کے مقابلے میں اور بین الا قوامی ما رکیٹ میں غیر ملکی اشیا ء کے مقابلے میں بر ی طر ح متا ثر ہو گی جس کے نتیجے مین ایک طر ف مقامی صنعتیں بتد ریج تبا ہی کے کنا رے پر پہنچ جا ئیں گی اور دوسری طر ف ان اشیاء کی اسمگلنگ کے نتیجے میں حکومت کے محصولا ت میں بھی کمی واضح ہو گی۔چنا نچہ انہوں نے تجو یز دی کہ پر تعیش اشیا ء پر بھی ریگو لیٹر ی ڈیو ٹی اس حد تک نہ بڑ ھائی جا ئے کہ اس سے ان اشیا ء کی اسمگلنگ کو تر غیب ملے اور پْر کشش ہو۔ قائمہ کمیٹی برائے درآمدات کے چیئر مین خر م اعجازنے اس موقع پر کہاکہ ریگو لیٹری ڈیو ٹی کے نفاذ سے تجا رتی خسارے میں کمی نہیں ہو گی کیو نکہ ہما ری اشیا ء کی لا گت پیداوار میں اضا فہ ہو نے کی وجہ سے وہ بیر ونی منڈ یو ں مین غیر ملکی اشیا ء سے مقا بلہ نہیں کر سکیں گی اور برآمدات بھی متا ثر ہوں گی ۔ انہوں نے کہاکہ بر آمدات میں اضا فے کا حل صر ف یہ ہے کہ خا م مال جو ملک میں پیدا نہیں ہو تا کی در آمدی لا گت کو کم کیا جا ئے تا کہ مسلسل بڑ ھتے ہو ئے تجا رتی خسارے کو برآمدات میں اضا فہ کر کے کم کیا جا ئے۔ انہوں نے مز ید کہاکہ ریگو لیٹر ی ڈیو ٹی کے نفا ذ سے اسمگلنگ کے خا تمے کیلئے اب تک کیے گئے تمام انتظامی اقدامات متا ثر ہو نے کا امکان ہے۔اجلاس میں مختلف ایسو سی ایشنز کے نما ئندگا ن نے بھی خا م ما ل جو کہ ملک میں نہیں بنتا پر ریگو لیٹری ڈیو ٹی کے نفا ذ پر اپنے تحفظا ت و خدشا ت کا اظہا ر کیا اور کہاکہ اس سے ملکی صنعت کی اسمگل ہونے والی اشیاء کے مقا بلے میں مسا بقتی صلا حیت کم ہو گی اور وہ تبا ہی سے دو چار ہو جا ئیں گی۔ دیگر افراد کے علاوہ پی اے ایل آئی ایم اے کے چیئرمین شبیرمنشا اور سو پ منیو فیکچر ر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سنیئر وائس چیئر مین طا رق ذکریا نے بھی شر کت کی۔

مزید : کامرس