شادی بیاہ کی تقریبات خواتین سے باتیں

شادی بیاہ کی تقریبات خواتین سے باتیں

بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ، سڑکوں پر گاڑیوں کے اژدھام اور ٹریفک کی بدنظمی نے اس شہر کے ماحول کو گہنا دیا ہے جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا اور لوگ اس کی ٹھنڈی سڑک پر خوش دلی کے ساتھ رواں رہتے تھے۔ اِکا دُکا گاڑیوں کے ہارن اور تانگوں کے گھوڑوں کے ٹاپوؤں کی آواز شہر کا سکوت توڑتی تھی۔ لوگ مقررہ اوقات میں اپنی منزلوں پر پہنچتے تھے اور شادی بیاہ کی تقریبات روایتی دھوم دھام مگر سادگی سے منائی جاتی تھیں۔ آج صورت حال یکسر مختلف ہے۔ اب شور ہے، دکھاوا ہے اور مہنگائی کا عفریت برہنہ رقص کرتا ہے۔

موسمِ سرمام ہمیشہ سے شادیوں کا موسم رہا ہے۔ پہلے گلیوں، محلوں میں پنڈال سج جاتا تھا اب بینکویٹ ہال ہیں، مارکی ہیں، ہوٹل ہیں اور کھلی گراؤنڈز ہیں جہاں بے پناہ خوشی کی اس تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جگہیں بنتی جارہی ہیں لیکن جگہ پھر بھی نہیں ملتی۔ تقریب کی تاریخ کے لئے ضرورت مند مارے مارے پھرتے ہیں۔ مہینوں پہلے بکنگ حاصل کی جاتی ہے چاہے تقریب گھر سے میلوں دور ہو۔ تاہم یہ موقع ہی ایسا ہے کہ اس میں وقتی تکلیف دُکھتی نہیں ہے۔

موسمِ سرما اب پھر زور پکڑ رہا ہے اور شادیوں کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے۔ مہنگائی کا شور تو ہے لیکن دلہن کا عروسی جوڑا دس سے پندرہ لاکھ روپے میں تیار ہو رہا ہے اور دلہن کے پہناوے کے لئے ہیروں کا سیٹ ایک کروڑ روپے سے کم نہیں ہے۔یہ حقائق افسانوی نہیں بلکہ میرے علم میں ہیں۔ صاحبِ حیثیت لوگ اپنی اُمنگوں اور آرزووں کو اس موقع پر دل کھول کر عملی جامہ پہناتے ہیں۔ جبکہ غریب لوگ بھی اس تقریب کے بھرپور انعقاد میں پیچھے نہیں رہتے خواہ آنے والے برسوں میں وہ اس کا تاوان ادا کرتے رہیں۔ ہاں ایک چیز میں دونوں طبقوں کے درمیان فرق رہتا ہے اور وہ ہے کھانے کی میز۔ غریبوں کے لئے ون ڈش کی پابندی ہے جبکہ صاحبانِ اختیار و اقتدار کی میزوں پر اٹھارہ بیس ڈشوں کا پایا جانا معمول کی بات ہے۔

بہر حال شادی کی تقریب کسی بھی گھر کے لئے بے پناہ مسرت کا موقع ہوتا ہے۔ کئی دن پہلے ہی گھروں میں آرائشی روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے اور ڈھولکی کی آواز ہمسایہ گھروں میں تقریب کا پیغام پہنچاتی ہے۔ شادی کے لئے اُن عروسی جوڑوں کی تیاری کا کام چھ ماہ پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے جو صرف ایک ہی روز کے لئے دلہن کا لباس بنتے ہیں۔ بعض پہناوے تو اتنی مالیت کے ہوتے ہیں کہ صرف ایک ہی کی قیمت میں ایک غریب لڑکی باآسانی بیاہی جاسکتی ہے۔ ابھی دور کی بات نہیں کہ میں اپنے ہاتھوں سے ڈھائی لاکھ روپے میں پانچ لڑکیوں کے بیاہ رچائے اور کھانے کے اچھے انتظام کے ساتھ ساتھ مناسب جہیز سے انہیں ان کے گھروں سے وداع کیا۔ کھانے میں بریانی اور قورمے کی چار دیگیں تھیں جبکہ جہیز میں مناسب فرنیچر، برتن اور سلائی مشین وغیرہ تھیں۔ اب پانچ لاکھ روپے بھی ایک بچی کی شادی کے لئے کم پڑتے ہیں۔

زندگی مشکل نہیں ہے، ہم خود اسے مشکل بناتے ہیں۔

اب بیوٹی پارلرز ہی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر ایک نگاہ ڈالیں۔ بناؤ سنگھار عورتوں کی ضرورت اور شادی بیاہ کی تقریبات کا ایک تقاضا ہے۔ لیکن اس ضرورت کو بھی ہم نے ایک مسئلہ اور ایک مشکل بنا دیا ہے۔ بناؤ سنگھار کے اخراجات ہزاروں سے تجاوز کرکے لاکھوں کے پیکج میں بدل چکے ہیں۔ اس میک اَپ پر جو تین چار گھنٹوں کی زندگی رکھتا ہے ایک یا ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کرنا چہ معنی دارد۔ لیکن یہ ایسا رجحان ہے جو غریب و امیر دونوں طبقوں میں ایک جیسی مقبولیت رکھتا ہے۔ شادی کی تقریب میں دلہن اسی سبب تاخیر سے آتی ہے کہ بیوٹی پارلر میں اسے دیر ہو جاتی ہے۔ اب تو وقت کے ساتھ ساتھ پیکج بھی ایسے دل پذیر ہیں کہ خواتین کی توجہ کھینچ لیتے ہیں۔بارات سے دس دن پہلے ہی سے دلہن کے چہرے اور ہاتھ پاؤں کا ٹریٹ منٹ شروع کردیا جاتا ہے۔ اور بارات کے روز اس کے میک اَپ کی تکمیل اس طرح کرتے ہیں کہ چہرہ روشن و منور دکھائی دیتا ہے۔

شادی بیاہ کی تقریب ایک سماجی ضرورت ہے۔ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کے گھروں کے لئے اس کی بہ احسن ادائیگی ایک اہم فریضہ ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی میں بُردباری اور کفایت شعاری سے کام لیا جائے تو دونوں خاندانوں کو مشکلات و مسائل کا سامنا کرنا نہیں پڑتا لیکن اگر اسراف سے کام لیں تو دونوں خاندان پریشانی اٹھاتے ہیں۔

شادی بیاہ کی تقریبات کا انعقاد سوجھ بوجھ اور لوک حکمت کا متقاضی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ تقریب ایک ہی بار منعقد ہوتی ہے۔ بے پناہ خوشیاں اس کی ساعتوں سے وابستہ ہوتی ہیں لیکن عقلمندی یہی ہے کہ بے جا خرچ، دکھاوے اور چادر سے باہر پاؤں کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ بزرگوں کی آراء کو اہمیت دی جائے اور رسوم و رواج کے بارے میں ان سے مشورہ ضرور کیا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی مارننگ شوز پر اس سنجیدہ اور اہم تقریب سے متعلق غیر سنجیدہ اور غیر اہم مشوروں پر کان دھرے جائیں نہ ان کی خود ساختہ رسموں کی نقل کی جائے۔

زندگی میں سادگی اور متانت ہی کو اہمیت حاصل ہے۔ خوشی کی ہر تقریب ہمیں سکون، امن اور آشتی دے سکتی ہے اگر اس تقریب کے انعقاد میں ہم زمینی حقائق پر توجہ دیں، فطرت سے قریب تر رہیں اور سادگی اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...