سوشل میڈیا کی بدولت نوجوان کی دوستوں کے ہاتھوں ہلاکت

سوشل میڈیا کی بدولت نوجوان کی دوستوں کے ہاتھوں ہلاکت

سجاد اکرم بیورو چیف سرگودھا

سوشل میڈیا کی بھرمار نے مثبت رویوں کو کم اور منفی رویوں کو زیادہ فروغ دیا ہے، جو نوجوان طبقے میں بگاڑ کے ساتھ ساتھ بڑے المناک سانحات کا باعث بھی بن رہا ہے۔ جس سے ہنستے بستے گھر اجڑ رہے ہیں، کہیں ہمسایہ ممالک سے آ کر یہاں شادیاں رچانے والی خواتین لٹ رہی ہیں اور کہیں سوشل میڈیا کی دوستی سے شادی رچانے والے پاکستانی بیرون ممالک میں جا کر دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں، اسی میڈیا کی یلغار کے بگڑے نوجوانوں نے نواحی گاؤں 9 شمالی میں غریب محنت کش بھٹہ مزدور جو کہ اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا کا گھر اجاڑ کر رکھ دیا ہے، جس کی مختصر داستان کچھ یوں ہے کہ نواحی گاؤں 9 شمالی کا رہائشی محمد اعظم قریبی بھٹہ پر محنت مزدوری کرتا تھا جس کی 6 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں جن میں ظفر اقبال چھوٹا ہونے کے باعث پورے گھر کا لاڈلا تھا، اعظم کے تین بچوں کی شادی ہو چکی ہے جبکہ وہ اپنی منجھلی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا جو وقوعہ سے چند روز بعد طے تھی۔ ظفر اقبال نے پڑھائی میں کمزور ہونے کے باعث میٹرک پاس نہ کر سکا تو اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالنے کا فریضہ سر انجام دینے لگا۔ اس کا زیادہ وقت بڑے گھرانے کے دوستوں عاقب اور آکاش کے ساتھ گزرتا تھا، ظفر اقبال غریب، اکاش اور محمد عاقب سرمایہ دار تھے۔ مگر اس کے باوجود تینوں آپس میں جگری یار بنے ہوئے تھے۔ ان کے گھر بھی قریب قریب تھے، ظفر اقبال کی بہن کا جہیز شادی سے کچھ دن پہلے آ گیا جسے اعظم نے گھر تنگ ہونے کے باعث ہمسائے کے گھر میں رکھوا دیا اور ظفر اقبال کی ڈیوٹی رات کو جہیز کے سامان والے کمرے میں سونے پر لگ گئی۔ اس طرح ظفر اقبال اپنی بہن کے سامان کی حفاظت پر مامور ہو گیا، دن کو وہ مویشیوں کو چارا ڈالتا اور رات کو وہ اپنی بہن کے سامان والے کمرے میں جا کر سو جاتا۔ مالی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے عاقب اور آکاش کو سوشل میڈیا پر آگاہی تھی اور وہ دن بدن بگڑتے جا رہے تھے، مگر ظفر اقبال نے جگری یار ہونے کے باعث لوگوں کے کہنے کے باوجود ان کا یارانہ نہ چھوڑا۔ 6 نومبر کی شب وہ گھر میں تھا کہ ایک اجنبی نے دستک دی، چھوٹی بہن نے دروازہ کھولا تو اجنبی نے ظفر اقبال کو باہر بلوایا اور آپس میں بغل گیر ہونے کے بعد ظفر اقبال اجنبی کے ساتھ چلا گیا۔ صبح ماں ظفر اقبال کو ناشتہ دینے کیلئے گئی تو ظفر اقبال بہن کے جہیز والے کمرے میں موجود نہیں تھا جس پر ثریا بی بی نے سمجھا کہ ظفر اقبال مویشیوں کو چارہ ڈالنے کیلئے چلا گیا ہو گا۔ محمد اعظم اور اسکا بیٹا بھی محنت مزدوری کے لئے معمول کے مطابق چلے گئے۔ دن دس بجے کے قریب گاؤں کی مسجد میں اعلان ہوا کہ للیانی کے علاقہ میں کھیتوں میں ایک لاش پڑی ہے، لاش پر مارکر سے چک 9 شمالی لکھا ہوا ہے، اعلان کرنے والے نے کپڑوں، جوتے کی بھی نشانی بتائی تو ظفر اقبال کی ماں ثریا بی بی کو جھٹکا سا لگا کیونکہ مسجد میں اعلان کرنے والے نے جو نشانیاں بیان کی تھیں وہ جوتے، کپڑے اورہاتھ میں ڈوری اس کے لاڈلے بیٹے ظفر اقبال نے ہی باندھ رکھی تھی۔ ثریا بی بی پہلے آکاش اور پھر عاقب کے گھر گئی مگر دونوں نے ظفر اقبال بارے لا علمی کا اظہار کیا جس پر ثریا بی بی کا شک پختہ ہو گیا جس پر ثریا بی بی نے اپنے بڑے بیٹے مظہر اقبال کو فون پر ساری صورتحال بتائی جو موٹر سائیکل پر موقعہ پر پہنچا تو اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر بیہوش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد سنبھلا تو اس اثناء میں پولیس ظفر اقبال کی میت اٹھا کر تھانے لے جا چکی تھی۔ وقوعہ سے گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ شادی والے گھر میں ماتم بچھ گیا اور وہ رشتہ دار جو چند دن بعد شادی میں آنے والے تھے ظفر اقبال کے قتل کا سن کر ان کے گھر پہنچ گئے، نماز جنازہ میں قرب و جوار کے دیہاتوں کے لوگوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی مگر دونوں جگری یار عاقب اور آکاش غائب تھے۔ جس پر گاؤں والوں اور مقتول کے اہل خانہ کو شک گزرا، پولیس نے مظہر اقبال کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جس میں بااثر گھرانوں کے عاقب اور آکاش پر قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ وقوعہ کے دوسرے روز جائے وقوعہ سے پولیس نے گولیوں کے خول اور ایک چادر برآمد کی، مقتول کو فائرنگ کرنے کے علاوہ بہیمانہ طریقے سے تشدد کر کے قتل کیا گیا تھا۔ تھانہ صدر پولیس نے عاقب اور آکاش کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو آکاش اور عاقب نے جگری یار کو مارنے کا اعتراف کر لیا ہے، تا ہم پولیس تفتیش کے تمام پہلوؤں کو صیغہ راز میں رکھ رہی ہے۔ دوسری طر ف مقتول ظفر اقبال کے ورثاء جو کہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں کا کہناہے کہ انہیں ملزمان کے با اثر ورثاء سے جان کا خطرہ ہے۔ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دو بگڑے نوجوانوں نے اپنے ہی جگری یار کو ابدی نیند سلا دیا مگر کیا وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکیں گے کیونکہ ورثاء غریب ہیں کیا سرکاری سطح پر مقدمہ کی پیروی کے لئے کوئی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ یا کہ انصاف کے حصول کے لئے غریب خاندان اب کچہریوں میں دربدر پھرے گا؟

ترتیب تصاویر

*مقتول ظفر اقبال کی فائل فوٹو

*مقتول ظفر اقبال کی لاش

مزید : ایڈیشن 2