بیرون ملک مقیم خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کرائے جارہے ہیں

بیرون ملک مقیم خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کرائے جارہے ...

گجرات جو ملک کے قد آور سیاستدانوں کی سرزمین ہے وہاں اس دھرتی سے تعلق رکھنے والے خطرناک اشتہاری مجرمان کی ایک اپنی ہی دنیا ہے جو گجرات کے حدود دربہ کی وجہ سے کبھی چناب کے بیلے میں اور کبھی آزاد کشمیر کے ساتھ گجرات کی سرحد لگنے کی وجہ سے آزادانہ طور پر وہاں فرار ہو جاتے ہیں موقع ملتے ہی وہ اپنی مذموم کاروائیاں کر کے روپوش ہو جاتے ہیں گجرات پولیس کے ساتھ سینکڑوں پولیس مقابلے کسی سے پوشیدہ نہیں ان پولیس مقابلوں میں 69سے زائد پولیس افسران و ملازمین نے جام شہادت نوش کیا گجرات پولیس کے سربراہ کی سیٹ کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے امن و امان قائم رکھنا ‘ اشتہاری مجرمان کی گرفتاری ‘ عوام کو انصاف کی فراہمی ‘ اور پولیس ملازمین کی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس ایک مشکل کام ہے گجرات میں تعینات رہنے والے بعض افسران آئی جی کے عہدے تک پہنچے جن میں چوہدری تنویر ‘ سرمد سعید خان ‘ طاہر عالم خان سرفہرست ہیں ماضی کی روایات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ گجرات پولیس کا سربراہ مقرر ہونے پر کئی افسران نے معذرت کر لی جرات مندوں نے حامی بھر لی اور پھر تاریخ رقم کرتے چلے گئے تقریبا دو ماہ قبل ڈی پی او خانیوال جہانزیب نذیر خان کو گجرات پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا گجرات میں جرائم کے حوالے ان سے معلومات حاصل کرنے کیلئے انٹر ویو کیا۔

جہانزیب نذیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں بتایا کہ میں نے کراچی سے گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلی تعلیم حاصل کی 1999میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیااور 2000میں اکیڈمی کلیئر کی اس سے قبل وہ ایک بینک میں آفیسر تھے اور ان کی اس وقت تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد تھی محکمہ پولیس میں آفیسر بھرتی ہونے کے بعد انہوں نے 6ہزار 7سو روپے پہلی تنخواہ وصول کی خصوصی طور پرمحکمہ پولیس کا انتخاب کرنے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے تدارک اور سسٹم میں بہتری کیلئے فورس کو منتخب کیا اور ان کی پہلی پوسٹنگ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ہوئی جو انتہائی غیر محفوظ اور ڈاکوؤں کی آماجگاہ تھا حساس اداروں کی مدد سے وہاں پر ایک زبردست آپریشن جاری تھا جس میں انہیں کامیابیاں حاصل ہوئیں اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی تھے اور وہ نصیر آباد کے ہی رہائشی ہیں انہوں نے کبھی بھی پولیس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور نہ ہی کبھی ان کی کوئی خصوصی ملاقات ہوئی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہ میں بہادر ہوں اور نہ ہی نڈر ‘ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہوں اور جس بات کی مجھے سمجھ نہ آئے میں دو نفل حاجت ادا کر کے خدا وند کریم کی مدد طلب کرتا ہوں یہ خداوند کریم کی خاص مہربانی ہے کہ مجھ پر اسکی خاص عنایت ہے میری رہنمائی بھی وہی کرتا ہے اگر کسی کے ساتھ ظلم ہو اور وہ آدمی کیفر کردار تک نہ پہنچے تو وہ سخت پریشان ہوتے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ظالم کو اسکی سزا ضرور ملنی چاہیے خواہ وہ عام آدمی ہو یا کوئی خاص‘ پولیس فورس کے جوانوں سے انہیں محبت ہے مگر اگر کوئی کسی سے رشوت حاصل کرے جھوٹ بولے اور محکمہ کے قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کرے تو سزا اور جزا کا عمل بھی اشد ضروری ہے اپنے پہلے پولیس مقابلہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ گلبرک کے اے ایس پی کے طور پر فرائض ادا کر رہے تھے اس دوران اس علاقے سے بے شمار گاڑیاں چوری ہو رہی تھیں چوروں کو گرفتار کرنے کیلئے سادے کپڑوں میں وہ خود گشت کرتے ایک دن ان چوروں سے آمنا سامنا ہو گیا جنہوں نے ان پر اور ان کی ٹیم پر سیدھی فائرنگ کی جوابی فائرنگ میں چار ڈاکو موت کے گھاٹ اتار دیے گئے گجرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم خطرناک اشتہاری مجرمان کی تعداد 8سو کے قریب ہے جب سے انہوں نے چارج سنبھالا ہے 80سے زائد بیرون ملک مقیم اشتہاریوں کے ریڈ وارنٹ جاری کرائے گئے ہیں جبکہ 90فیصد کا ابھی پراسس چل رہا ہے ان اشتہاریوں کی انفارمیشن نائیکوپ کارڈ ‘ ایکسائز ‘ کے دفاتر کے علاوہ بینکوں سے بھی حاصل کی جا رہی ہے جس میں انہیں حیران کن کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں چند یوم قبل ایک خطرناک اشتہاری مجرم کو بیرون ملک سے واپس لایا گیا اور ایک کو ائیر پورٹ سے فرار ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں چالان پیش کرنے کی شرح انتہائی کم 27فیصد تھی جس کی وجہ سے لوگ بے گناہ یا گنہگار جیل میں اپنے مقدمہ کے شروع ہونے کا انتظار کرتے رہتے اور اب اس وقت چالان پیش کرنے کی شرح 90فیصد سے زائد ہے اور ہم پنجاب کے پہلے دس اضلاع میں آ گئے ہیں اشتہاری مجرمان پکڑنے میں گجرات کا نمبر آخری تھا اور اس وقت ہم ریجن میں پہلے نمبر پر آ گئے ہیں ہم فرضی کاروائیوں کی بجائے عملی کام پریقین رکھتے ہیں انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے دو ماہ کے اندر ریجن میں بیسٹ ڈی پی او کا ایوارڈ حاصل کیا ہے جبکہ گجرات کے تین ڈی ایس پیز عرفان الحق سلہریا‘ ڈی ایس پی صدر ‘ رمضان کمبوہ ڈی ایس پی لالہ موسی ‘ اور حافظ امتیاز ڈی ایس پی سٹی کو بہترین ڈی ایس پی قرار دیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گجرات میں گزشتہ دس برس سے کوئی گاڑی چور گینگ گرفتار نہیں کیا گیا تھا حتی کہ موٹر سائیکل چور بھی جو نئی موٹر سائیکلیں چرا کر لے جاتے تھے مگر خداوند کریم نے انہیں کامیابی دی ہے تین بڑے کار چور گینگ گرفتار کیے اور سینکڑوں موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں جلد ہی ایک بڑی تقریب میں لوگوں کو گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دیے جائیں گے گجرات میں موجود اس وقت خطرناک اشتہاری مجرمان جن کی تعداد 5ہزار کے قریب تھی جن میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے کیٹگری بی کے5 ہزار اشتہاری تھے جن میں سے دو ہزار کو گرفتار کر لیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گجرات کے عوام کے زیادہ تر مسائل دیگر اضلاع کی طرح زن ‘ زر اور زمین سے وابستہ ہیں لوگ خاندانی دشمنوں میں مبتلا ہیں جائیداد کے تنازعات اور غیرت کے نام پر قتل و غارت گری نے گجرات کا امن تباہ کر رکھا ہے مقتول ایک اور قاتل ایک ہوتا ہے مگر مقدمے میں پورے پورے گاؤں کو شامل کر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے دشمنیاں ختم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ہیں خاندانی دشمنیوں کے خاتمے کے لیے گجرات کے سیاستدانوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کچھ ہٹ کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں خانیوال میں انہوں نے ویری فکیشن کا ایک نظام متعارف کرایا جس میں کوئی بھی اوورسیز پاکستانی یا عام شہری گاڑی ‘ موبائل حتی کہ ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی کے حصول کیلئے رجوع کر سکتا تھا یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا انشا اللہ 30نومبر کو اسکا گجرات میں بھی باضابطہ افتتاح کر دیا جائیگا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس دیگر صوبوں کی پولیس کی نسبت بہت بہادر اور فرض شناس ہے گجرات پولیس کا تو جواب نہیں یہ اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ بہتر کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی ‘ شاباش ‘ انعامات اور نقد انعام دینے سے بھی گریز نہیں کرتے جھوٹ سے انہیں سخت نفرت ہے خواہ کوئی سائل یا پولیس ملازم ان سے جھوٹ بولے اسکا اندازہ کرنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ‘ سرمد سعید ایک بہترین پولیس آفیسر اور بڑے نام کے بڑے آفیسر تھے وہ انہیں اپنا آئیڈیل تصور کرتے ہیں انہوں نے محکمہ پولیس کی جس انداز سے خدمت کی ہے وہ کسی کسی کا طرہ امتیاز ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اکثر اوقات رات کو پولیس کے گشت کو دیکھنے کیلئے بھیس بدل کر نکلتے ہیں اور انکے نکلنے کی وجہ سے پولیس کارکردگی مزید بہتر ہوئی ہے پولیس کا گشت جرائم روکنے میں معاون اور مددگار ثابت ہوتا ہے گجرات پولیس کی تمام گاڑیوں میں ٹریکر لگوا دیے گئے ہیں جن کی پوزیشنیں معلوم ہوتی رہتی ہیں گوجرانوالہ ریجن کے آر پی او ان پر بڑا اعتماد کرتے ہیں ان کی رہنمائی پر ان کے مشکور بھی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ گجرات پولیس جعلی کاروائیو ں سے اپنا قد کاٹھ بلند کرنے کی بجائے اصل ملزم گرفتارکرے بے گناہوں کو تھانے کی سطح پر ہی فارغ کر دیا جائے گجرات پولیس شہدا کی ویلفیئر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ورثا اور اولاد کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں انہوں نے اپنے محکمے کے لیے جان نچھاور کی اور ہم ان کے لیے جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس سے زائد کے حقدار ہیں گجرات پولیس کے محکمے اکاؤنٹ میں سابقہ ادوار میں ہونیوالی کرپشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کرپشن کا میگا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس پر محکمانہ طور پر تحقیقات جاری ہیں کیاوہ حقیقت پر مبنی تھا یا پھر کوئی اور بات ‘ انہوں نے پولیس کے پاس موجود فنڈ کو شفاف طریقے سے خرچ کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنا دی ہے جس میں عوام کو بھی نمائندگی دی گئی ہے تاکہ رقم کا استعمال شفاف طریقے سے ہو کیونکہ محکمہ پولیس دیگر محکموں کی طرح عوام کے ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی ہونیوالی رقم سے تنخواہیں وصول کرتا ہے کرپشن کسی صورت بھی قابل معافی نہیں بلکہ اسکی بڑی سزا دی جانی چاہیے ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ وہ سارا دن عوام کے مسائل کو حل کرنے میں راحت محسوس کرتے ہیں آخرانسان ہیں تھک بھی جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ایک آدھ گھنٹہ اپنے بچوں کو بھی دے دیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ بچے انتظار کر کے سو جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ چند لمحے ضرور گزاریں تاکہ انہیں احساس محرومی نہ ہو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ گجرات میں سود کا کاروبار بھی ہوتا ہے مگر ان کے پاس باضابطہ طور پر ایسی کوئی شکایت نہیں ہاں البتہ اب محکمانہ طور پر ایک قانون نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت ہم سود کا کاروبار کرنے والوں کو گرفتار کر سکیں گے گجرات کے عوام اپنا مسئلہ بے جھجک ان کے پاس لا سکتے ہیں انہیں کسی سفارش یا چٹ کی ضرورت نہیں میرٹ پر کام کرنا انکا طرہ امتیاز ہے کیونکہ ان کے دل میں خوف خدا اور انکا مشن انسانیت کی خدمت ہے روزنامہ پاکستان کے کرائم ایڈیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں ہر منگل کا انتظار رہتا ہے کہ وہ پنجاب بھرمیں ہونیوالے جرائم اور پولیس کی کارکردگی کے بارے میں آگاہی حاصل کریں مقامی صحافی بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو جرائم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نماز ‘ روزہ ‘ ہر مسلمان کا فرض ہے خدا کے حضور جھکنے والے اور کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکتے کیونکہ اللہ سب سے زیادہ طاقتور ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈی پی او کے پی آر او اسد پولیس اور میڈیا کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...