چار سالہ بچی کو زندہ جلانے کا سانحہ

چار سالہ بچی کو زندہ جلانے کا سانحہ

خادم اعلیٰ پنجاب نے انتھک محنت کرتے ہوئے پولیس رویوں میں تبدیلی اور روائتی کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی باگ ڈور ذمہ دار افراد پر عائد کی ہے تاکہ کسی بھی شہری کو انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے پر دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑیں ،مگر جب بات ہو جائے خواتین کے تقدس کی تو خادم اعلیٰ کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس خاتون کے گھر جا کر اس کی داد رسی کرتے ہوئے اس سے ظلم اور زیادتی کرنے والے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا ئیں مگر پنجاب پولیس میں شامل چند عناصر نیک تمناء رکھنے اور خواتین کی بے حرمتی پر چین کی نیند نہ سونے والے خادم اعلیٰ کی پالیسی اور خدا خوفی کہ آڑے آرہے ہیں جس پر خادم اعلیٰ کو پنجاب پولیس کی اہم سیٹوں کے ساتھ ساتھ ان کے کارخاص اورسفارشوں پر تعیناتیاں حاصل کرنے والے عناصر کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں کرنے کی اشدضرورت ہے ۔جس کی تازہ ترین مثال گذشتہ کئی روز سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے والاگوجرانوالہ کا خاندان اپنی بدقسمتی کا رونا رو رہا ہے ۔ ان کی 4سالہ بیٹی میر ب حسین کو مقامی ملز ما ن نے معمو لی رنجش کی بنا ء پردن دیہا ڑے گھر کو آگ لگا کر اس وقت زندہ جلا دیا جب اس کے والد ین گھر سے با ہر کسی کا م کے سلسلے میں گئے ہو ئے تھے ۔ اس خاندان کے سا تھ ایسا افسو س نا ک سا نحہ پیش آیا ہے کہ وہ ایسے کبھی بھی بھلا نہیں سکیں گے کہ کا ش وہ اپنی کمسن بیٹی کو گھر اکیلا نہ چھوڑ کر جا تے تو شاید آج وہ زند ہ ہو تی یہ با ت نہ انھیں سو نے دیتی ہے اور نہ ہی انھیں چین لینے دیتی ہے ۔ اور پھر ظلم سے بڑھ کر ظلم اس خاندان کے وایلا کرنے پر انصاف کے تقاضوں کو جوتوں تلے روندے ہوئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔

مدد چاہتی ہے یہ حواء کی بیٹی

یشودا کی ہم جنس یہ رادھا کی بیٹی

پیمبر کی امت یہ زلیخا کی بیٹی

ثناء خواں تقدیس مشرق کہاں ہیں

ذرا ملک کے رہبروں کو بلواؤ

یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ

ساحر لددھیانوی کے ان الفاظوں کی گونج شاید خادم اعلیٰ پنجاب تک نہ پہنچ سکے مگر اس حواء کی بیٹی کی کہا نی کچھ یو ں ہے کہگوجرانوالہ کے نواحی گاؤں واہنڈو میں سنگدل اور شقی القلب اہل خانہ نے معمولی لڑائی جھگڑے کی پاداش میں ہمسائے محنت کش شاکر حسین کے گھر کو آگ لگا دی جس سے 4سالہ کمسن بچی 2ہفتے میوہسپتال کے برن وارڈ میں داخل رہنے کے بعد دم توڑ گئی جبکہ بچی کو جھلستے دیکھ کر آگ سے نکالنے کے دوران ایک محلے دار بھی زخمی ہو گیا افسوسناک بات یہ ہے کہ 2ہفتے گزرنے کے باوجود مقامی پولیس نے ملزم گرفتار کرنا تو درکنار مقدمہ بھی درج نہ کیا۔گوجرانوالہ کے نواحی قصبہ تمبولی کے محلہ چاہ جموں والا کے رہائشی محنت کش شاکر حسین اور اس کے دیگر اہل خانہ نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ اس کامحلے دار ثریا بی بی اور اس کے بچوں سے جھگڑا ہوا ۔اس جھگڑے میں ملزمان نے اس کی بیگم کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر انہوں نے مقامی پولیس کو ثریا بی بی اور اس کے بیٹوں ارسلان اور کامران کیخلاف ایک تحریری درخواست دے دی جس کا ملزمان کو رنج تھا اور درخواست واپس لینے کے لئے مسلسل دباؤ ڈالتے رہے۔ درخواست واپس نہ لینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اگر آپ نے درخواست واپس نہ لی تو اس کا انجام اچھا نہ ہو گا اس روز وہ گھر سے باہر تھے کہ کامران ارسلان اور ان کی والدہ ثریا بی بی نے اس رنجش کا بد لہ لینے کی غر ض سے دن دیہا ڑے ان کے گھر کواس وقت آگ لگا دی جب وہ گھر سے با ہر تھے کمرے میں موجود اس کی کمسن بیٹی میرب حسین آگ کی لپیٹ میں آنے سے بری طرح جھلس گئی مقامی لوگوں نے گھر سے دھوائیں اور آگ کے شعلے دیکھ کر وہاں پہنچ کر آگ بجھانا چاہی تو اس دوران بچی کو آگ میں جھلستا دیکھ کر ایک محلے دار نے بھاگ کر بچی کو آگ کے اندر سے باہر نکالا جس سے بچی تو مکمل طور پر جل چکی تھی تا ہم ابھی اس کی سا نسیں زند گی کی بھیک ما نگ رہی تھیں جبکہ اس کی جان بچانے والے فرشتہ صفت انسان کے اسے باہر نکالنے کے دوران اس کے بھی ہاتھ جھلس چکے تھے۔تاہم زخمی بچی کو مقامی ہسپتال لیجایا گیا جہاں اس کی حالت نازک دیکھ کر ڈاکٹروں نے داخل کر نے کی بجا ئے اسے میوہسپتال لاہور بھجوا دیا جہاں بچی تقر یباً 15روز زند گی کی بھیک مانگتے دم توڑ گئی اس دوران متاثرہ خاندان نے مقامی پولیس کو آگ لگانے کے الزام میں مقامی ملزمان کے خلاف نامزد درخواست دے دی مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ پولیس نے ملزم پارٹی کیخلاف مقدمہ درج کر نا منا سب نہ سمجھا مقامی پولیس اس واقعے کو کسی دوسرے رنگ سے دیکھتی رہی متاثرہ خاندان نے بار بار پولیس سے رابطہ کر کے مقدمے کے اندراج اور ملزمان کی گرفتاری کی استدعا کی مگر پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی مقامی پو لیس مبینہ ملز ما ن سے ساز باز ہو گئی اور کہتی رہی کہ بچوں کے لڑائی جھگڑوں کے مقدمات درج نہیں ہونے چاہئیں اگر بچی جل گئی ہے تو ٹھیک بھی ہو جائے گی اب جب مقامی پولیس کو پتہ چلا کہ بچی موت کے منہ میں چلی گئی ہے تو مقامی پو لیس نے کہا کہ اللہ کو ایسے ہی منظور تھا اب ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا کرنا ہے مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ بچی کی ہلاکت کے بعد میوہسپتال کی انتظامیہ نے لاش دینے سے انکار کر دیا اور مقامی پولیس کو ہسپتال پہنچ کر ڈاکٹ حوالے کرنے کو کہا کہ اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے مگر مقامی پولیس ہسپتال نہ پہنچی ۔

اس سارے وقو عہ کا علم جب روز نا مہ پا کستان کو ہوا تو پا کستان اخبار کی وساطت سے ڈاکٹروں نے خدا ترسی کرتے ہوئے لا ش ورثا کے حوالے کر دی اور مقامی تھا نے کی حدود میں جا کر کا مو نکی ہسپتال سیخودپوسٹمارٹم کر وانے کی ہدایت کی ۔ روز نا مہ پا کستان میں خبر کی اشاعت کے بعدواہنڈو کے غمزدہ خا ندان کی سنی گئی اور صلح کے لیے دبا ء ڈالنے والی مقامی پو لیس کو معصوم بچی میرب حسین کو جلا کر ہلا ک کرنیوالے ملز ما ن کے خلا ف مقد مہ درج کر نا پڑا ۔جب معصوم بچی کی لا ش پو سٹمارٹم کے بعدگھر سے اٹھائی گئی تو وہا ں رقت آمیز منا ظر دیکھنے کو ملے ،غمزدہ والدہ کو غشی جبکہ والد کو بے ہو شی کے دورے پڑتے رہے۔ غمزدہ خا ندان کے رشتے داروں اور محلے داروں نے اس با ت کی تصدیق کی ہے کہ مبینہ ملز ما ن نے رنجش کی بنا پر گھر کو آگ لگائی جس سے متاثرہ خا ندان کا جا نی و ما لی نقصان ہوا ۔اس افسوس نا ک بچی کی ہلا کت کے بعد پہلے روز مقامی افسران ڈی ایس پی اور ایس ایچ او نے جا ئے وقو عہ کا دورہ کیا جبکہ ملز ما ن کے با ر ے میں بتا یا کہ وہ گھرو ں کو تالے لگا کرغا ئب ہو گئے ہیں۔ بچی کے رشتے دار تایا شوکت حسین اور چچا نزاقت نے اس افسو س نا ک واقعہ کے حوالے سے بتا یا ہے کہ انھو ں نے خود مبینہ ملز ما ن کو گھر کو آگ لگا تے دیکھا ہے جو پو لیس کل تک ہما ری با ت سننے کو تیا ر نہ تھی اب اخبا ر میں واقعہ کی اشا عت کے بعد انھو ں نے مقد مہ درج کر لیا ہے ۔انھو ں نے بتایا کہ ان کامحلے دار ثریا بی بی اور اس کے بچوں سے وقوعہ سے چند روز قبل جھگڑا ہوا اس جھگڑے میں مبینہ ملزمان نے اس کی بیگم کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر انہوں نے مقامی پولیس کو ثریا بی بی اور اس کے بیٹوں ارسلان اور کامران کے خلاف ایک تحریری درخواست دے دی جس کا ملزمان کو رنج تھا اور درخواست واپس لینے کے لئے مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے درخواست واپس نہ لینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ اگر آپ نے درخواست واپس نہ لی تو اس کا انجام اچھا نہ ہو گا ۔بچی کے والد شاکر حسین اور والدہ شاہین بی بی نے روتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی تو دنیا ہی اجڑ گئی ہے ظالموں نے بہت ظلم کیا ہے اور پولیس اس سے زیادہ ظالم ہو گئی ہے جو اب ہمارے مبینہ ملز م گرفتارنہیں کر رہی مقامی پولیس مبینہ ملزمان سے ساز باز ہو کر ہماری بچی کے خون کا سودا کر چکی ہے ۔ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب ، آئی جی پولیس پنجاب اور سی پی او گوجرانوالہ سے اپیل ہے کہ ہماری بچی کے موت کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور غفلت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔میو ہسپتال کے علاج کر نیوالے ڈاکٹروں نے بتا یا ہے کہ کمسن بچی 80فیصد جھلس چکی تھی۔ایسے افراد کا زندہ رہنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہو تا ہے ۔مقا می لو گو ں نے اپنا نا م شائع نہ کر نے کی شرط پر بتا یا ہے کہ آگ انھی ملز ما ن نے لگائی ہے اور پو لیس کو اس وقوعہ کا سارا علم ہے۔پو لیس ملز ما ن سے ساز با ز ہو چکی ہے ۔متا ثرہ خا ندان کو انصاف ضرور ملنا چاہیے

۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ظلم کی داستان کی اشاعت کی گئی تو قانون بھی حرکت میں آگیا ۔ جس گھر میں آگ لگی تھی وہاں تقریباً 15 روز بعد فرانزک سائنس کے ماہرین نے اب دورہ کیا ہے اور گھر سے ضروری شواہد اکٹھے کرلئے ہیں، تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ گھر کو آگ کیسے لگی ہے۔ آگ میں پٹرول کا یا کسی دوسری چیز کا استعمال تو نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ کام وقوعہ کے روز ہی ہونا چاہئے تھا۔ متاثرہ خاندان نے کہا ہے اب تو موقع سے شواہد بھی غائب ہوگئے ہونگے۔ بچی کے والد شاکر حسین، تایا شوکت حسین نے کہا ہے کہ اب پولیس کے اعلیٰ افسران بھی ان کے گھر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جو پولیس ملزمان سے سازباز میں لگی تھی، اب ہمیں انصاف کی یقین دہانی کروا رہی ہے۔ کیا یہ ہمیں خاک انصاف فراہم کرے گی، جنہوں نے ہمارا مقدمہ ہی 15 دن بعد درج کیا ہے اور ملزم بھی تاحال گرفتار نہیں کئے۔ پولیس کی ایک ٹیم انصاف کی بات کر رہی ہے جبکہ دوسری ٹیم ملزم پارٹی سے حلف لے لینے کی باتیں کر رہی ہیں۔ ملزم پارٹی کا حلف ہم کیسے لے لیں۔ یہ تو انصاف نہ فراہم کرنے والی بات ہے۔ اگر مقدمات کے فیصلے قرآن پاک پر ہی ہونے ہیں تو تھانے اور عدالتیں ختم کر دی جائیں۔ متاثرہ خاندان نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم قانون کے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے اجتماعی خود سوزی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کیونکہ آج کل انصاف قیمتاً حاصل کرنا پڑتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اب وکیل نہیں ملزم سزا ملنے سے قبل ہی بری کروا لئے جاتے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں انساف ملنا چاہیے۔ مقامی پولیس نے بچی کی ہلاکت کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے ملزم پارٹی کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے مدعی پارٹی بچی کے علاج معالجہ کے سلسلے میں مصروف تھی اور ان کے تھانے نہ پہنچنے کی وجہ سے پہلے کارروائی عمل میں نہ لائی گئی اب جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے اس کی تحریر کچھ یو ں ہے ۔ جناب SHOصاحب تھانہ واہنڈو جناب عالی! گذارش ہے کہ سائل تمبولی کا رہائشی ہے اور میر پور آزاد کشمیر میں کڑہائی کا کام کرتا ہے، مورخہ2-11-2017 کو بوقت قریب 10بجے دن اطلاع ملی کہ آپ کی بیٹی مسماۃ میرب بعمر 4سال آگ لگنے سے جھلس گئی ہے جو شدید مضروبی حالت میں سول ہسپتال گوجرانولاہ میں ہے جو سائل فوری طور پر سول ہسپتال گوجرانوالہ پہنچا جو ڈاکٹر صاحب نے سائل کی بیٹی مسماۃ میرب کو میوہسپتال لاہور ریفر کر دیا جو ہسپتال میں مسمیان -1محمد نزاکت حسین -2محمد شوکت حسین پسران محمد حسین نے سائل کو بتایا کہ بوقت 9:30 بجے دن ہم نے ملزمان مسمیان:۔ محمد کامران -2محمد ارسلان پسران محمد زمان اقوام گجر ساکنائے تمبولی کو آپ کے گھر سے بوقت وقوعہ گھر سے باہر نکلتے دیکھا جو سائل اپنی بیٹی مسماۃ میرب کو میوہسپتال لاہور لیکر چلا گیا جو سائل کی بیٹی موت کی کشمکش میں مبتلا رہی کہ مورخہ 15-11-2017کو بوقت 8بجے رات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میوہسپتال لاہور میں جاں بحق ہو گئی ہے سائل کی بیٹی مسماۃ میرب کو ملزمان محمد کامران، محمد ارسلان نے آگ لگا کر قتل کیا ہے یہ وقوعہ ملزمان نے اپنی والدہ مسماۃ ثریا بی بی زوجہ محمد زمان کے ایماء پر کیا ہے وجہ یہ ہے کہ عرصہ 2ماہ قبل سائل کی بیوی مسماۃ شاہین بی بی اور مسماۃ ثریا بی بی زوجہ محمد زمان کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا جو اس رنجش پر ملزمان نے اپنی والدہ کا بدلہ لینے کے لئے سائل کی بیٹی کو گھر میں گھس کر آگ لگائی ہے سائل آج تک اپنی بیٹی میرب کے علاج معالجہ میں مصروف رہا ہوں جو آج حاضر تھانہ اگر درخواست پیش کرتا ہوں۔ سائل کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے کارروائی کی جائے ۔اب یہ ایف آئی آر درج ہے تاہم پولیس بچی کی ہلاکت اور آگ لگانے کی تصدیق ہونے پر ہر صورت ملز ما ن کو چالان کرے گی۔ ملز ما ن گھروں کو تالے لگاکر آزاد کشمیر بھاگ گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے وہا ں ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کئی روز گزرنے کے باوجود اس مقدمے کا فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا اگر تو ملزمان گنہگار ہیں تو انہیں ہر حال میں گرفتار ہونا چاہئے اگر کوئی اور بات ہے آگ لگنے کے شواہد نہیں ملتے تو سوچنے کی بات ہے تو ملزمان گھروں کو تالے لگا کر کیوں غائب ہوئے ہیں اگر وہ گنہگار نہیں تو انہیں سامنے آنا چاہئے تاکہ اس مقدمے کا فیصلہ ہو سکے افسران بالا کو اس مقدمے کی تفتیش کسی سی ایس پی افسر سے کروانی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے کسی بیگناہ کو سزا دینا بہت بڑا ظلم ہے اور کسی گنہگار کو چھوڑ دینا اس سے بڑا ظلم ہے۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...