لاہور میں80فیصد عوام سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہے،عبدالعلیم خان

لاہور میں80فیصد عوام سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہے،عبدالعلیم خان

لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو ایمانداری نہیں سیکھا سکتے ،شریف برادران نے اپنی اور اپنے بچوں کی جائیدادیں بنائی ہے ، لاہور میں80فیصد عوام سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہے ، گزشتہ 30سالوں میں لاہور میں کوئی نیا ہسپتال نہیں بنا،کوئی نیا کالج یا سکول تک نہیں بنایا گیا صرف حکمرانوں نے سڑکوں ،پلوں اورنج ٹرین ،میٹرو بس بنائی ہے ،کمیشن سکولوں ،کالجز اور ہسپتالوں بنانے سے نہیں ملتا ، اگر حکمرانوں نے ہر منصوبے میں کمیشن کھانا ہی ہے تو نئے سکول یا ہسپتال بنا کر لے لیں ، اورنج ٹرین چلانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن پہلے حکمران عوام کے مسائل تو حل کریں ۔

، میرے حلقہ میں جس راستے پر اورنج ٹرین چلے گی وہاں کی رہنے والی عوام کے پاس پہننے کے لئے کپڑے تک نہیں ہے علاج ،تعلیم اور صحت کی سہولتیں تو دور کی بات ہے ، گٹروں کا پانی گلیوں میں ابل رہا ہے ،

یہ غریب عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے حکمرانوں کی ترجہات میں مسائل حل کرنا نہیں بلکہ کمیشن اور مال اکٹھا کرنا ہے ملک جس حال میں ہے اس کی بنیادی وجہ دیانت دار قیادت کا نہ ہونا ہے ،عمران خان ان حکمرانوں کی طرح بے ایمان نہیں ہے ، عوام کے پیسوں پر پہرا دیں گے ،حکومت نے ہر شعبے کو نظر انداز کیا ہے ،زرعی شعبہ کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے پاس بہترین ٹیم جو آگے اقتدار میں آ کر اپنی صلاحتیوں کا بھرپور مظاہر ہ کرے گی ، پنجاب حکومت نے کسانوں اور کاشتکاروں کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے پاکستان کی زیادہ تر آبادی کا انحصار زراعت پر ہے ،پی ٹی آئی اقتدار میں آ کر کسانوں کو اپنے پاؤ ں پر کھڑا کرے گی کسان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے ، وہ مقامی ہوٹل میں سنٹرل پنجاب کے نائب صدر اور اوریگا گروپ کے سی ای او جمشید اقبال چیمہ کی صدارت میں ہونے والی ایک روزہ ’’ فوڈ سیکورٹی کانفرنس ‘‘ سے خطاب کر رہے تھے ، کانفرنس سے جمشید اقبال چیمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جب بھی حکومت آئے گی تو زراعت ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہو گی ، بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے زراعت پر ہمیں خصوصی توجہ دینا ہو گی حکمرانوں کی عد م توجہ کی وجہ سے خوراک کی کمی میں ہمار افغانستان کے ساتھ شمار ہو رہا ہے ، پاکستان میں اس وقت ’’ مجھے کیوں نکالا ‘‘ سے بڑا بحران خوراک کی کمی کا ہے ، خوراک کی کمی کے بحران پر موجود ہ حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے ،مردم شماری کے بعد ہماری ساری پلاننگ فیل ہو گئی ، مردم شماری سے پہلے جو اعداد و شمار متوقع تھے اس کے برعکس آئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوراک کی کمی کی وجہ سے 45فیصد پاکستانیوں کا قد پورا نہیں کر پا رہے ہیں ، 10فیصد بچوں کا وزن پورا نہیں ہوتا، 8فیصد بچے خوراک کی کمی کی وجہ سے پانچ سال سے پہلے ہی مر جاتے ہے ، ملک کی آدھی خواتین کو خوراک پوری نہیں مل رہی ،نواز شریف نے خوراک کی قلت ، غربت اور بھوک افلاس کو دور کرنے کا 30ارب روپے کا فنڈ اپنی جماعت کے لوگوں کو سیاسی رشوت کے طور پر دے دیا ہے ، پاکستان میں آبادی زیادہ اور خوراک میں کمی ہو رہی ہے ،پاکستان وہ واحد ملک ہے جو زراعت سے حاصل ہونے والی 20فیصد آمدنی کا صرف ایک فیصد دوبارہ زراعت پر خرچ کر رہا ہے ، سارے ممالک زراعت میں ترقی کر رہے ہیں اور ہماری حکومتوں کی زراعت پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں ،ارشاد عارف نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ غلط ترجہات کی وجہ سے ہم خوراک کے بحران میں مبتلا ہو چکے ہے ، ہمار ا المیہ یہ ہے کہ جس کے پاس زیادہ وسائل ہے وہ زیادہ سے زیادہ وسائل اکٹھا کرنا چاہتا ہے ، 48فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے ، انہوں نے کہا کہ غریب اور امیر کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے انتشار پیدا ہو رہا ہے ،ڈاکٹر عرفان الحق نے کانفرنس میں ملک بھر سے شرکت کرنے والے شرکاء کو زراعت میں جدت کے نئے انداز اپنانے کے لئے زور دیا ،کسانوں کو اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے بہترین کھادوں کے استعمال کے مفید مشورے دئیے ۔کانفرنس میں ڈاکٹر عرفان الحق، آصف بٹ، حاجی نزیر ، ندیم بخاری ، سیلمان چیمہ ، رانا عبدالعزیز، مسرت جمشید اقبال چیمہ، شعیب صدیقی ، نذیر چوہان،میاں یامین ٹیپو، سمیت ملک بھر سے نمائندوں نے شرکت کی ۔

 

مزید : میٹروپولیٹن 4