خیبر پختونخوا کا ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ، پندرہ لاکھ بچے تعلیم سے محروم : یونیسف رپورٹ

خیبر پختونخوا کا ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ، پندرہ لاکھ بچے تعلیم سے ...

پشاور (این این آئی) خیبر پختونخوا میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق صوبے کا ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ہے غذائی قلت کی بڑی وجہ غربت نہیں بلکہ والدین کی عدم توجہی ہے، ایک اور سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں پانچ سے سولہ سال عمر کے پندرہ لاکھ بچے سکول نہیں جارہے اور تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں ۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں42 لاکھ بچے یتیم ہیں جن کی عمریں 17 سال سے کم ہیں اوران میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں صحت،خورا ک اور تعلیم وتربیت کی مناسب سہولیا ت میسر نہیں ،گزشتہ چند برسوں کے دوران خانہ جنگی کی وجہ سے یتیم بچوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اوران کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں یتیم بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے تاہم اس حوالے سے صحیح ڈیٹا میسر نہیں۔ اس وقت صوبے میں سرکاری سطح پر سکولز کے علاوہ بیت المال ٗآغوش سنٹر اور امہ ویلفیئرٹرسٹ یتیم بچوں کی بہترین کفالت کررہا ہے مگر اب بھی ہزاروں یتیم بچے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق پینے کے ناقص پانی کے استعمال سے پاکستان میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے اڑھائی لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہر ہزار بچوں میں 54 ایک ماہ کی عمر سے قبل جبکہ 73 بچے ایک سال کی عمر کوپہنچنے سے قبل فوت ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ غذائی قلت ہے۔ صوبے کے 27 فیصد بچے پیدائش سے قبل ہی غذائی قلت کا اس لئے شکار ہوتے ہیں کہ مائیں مناسب خوراک نہیں لیتیں۔ پورے پاکستان میں 66 لاکھ بچے پینے کے صاف پانی جبکہ 60 لاکھ بچے صابن سے ہاتھ دھونے کی سہولت سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ہر سال 53 ہزار بچے ہیضے میں مبتلا ہو کر فوت ہو جاتے ہیں۔پاکستان کے 60 فی صد بچے چھ ماہ تک ماں کے دودھ سے محروم رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف قسم کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اگر یہ تناسب 15فیصدسے تجاوز کرجائے تو ملک میں ایمرجنسی بنیادوں پر کام کیا جائے۔صورتحال یہی رہی تو آئندہ چند سال میں پست قامت اور وزن میں کمی کے شکاربچوں میں اضافہ ہوگا ٗ نیوٹریشن کے حوالے سے قوانین کی موجودگی کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے حالات روز بروز ابتر ی کی طرف جارہے ہیں۔نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق 2000میں وٹامن اے کی کمی کے شکار بچوں کی تعدا د 08.0 فیصد سے بڑھ کر2011میں 20.0فیصد تک پہنچ گئی ۔ پاکستان میں بھی بچوں کا عالمی دن کے موقع پر عوام میں شعور و بیداری پیدا کی جا ئے۔

غذائی قلت

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...