کلبھوشن کیس، پاکستان نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کوعالمی عدالت انصاف میں ایڈہاک جج نامزد کردیا

کلبھوشن کیس، پاکستان نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کوعالمی عدالت انصاف ...

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو عالمی عدالت انصاف میں ایڈہاک جج نامزد کردیا ہے۔ پاکستان کلبھوشن کے حوالے سے اپنا تفصیلی جواب 17 دسمبر تک عالمی عدالت انصاف کو بھجوائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس میں سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی کو ایڈہاک جج نامزد کردیا ہے۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کیس میں آئندہ سماعت میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی ججز پینل کا حصہ ہوں گے۔۔جسٹس تصدق حسین جیلانی 2004 سے 11 دسمبر 2013 تک سپریم کورٹ کے جج اور 11 دسمبر 2013 سے 5 جولائی 2014 تک چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔عالمی عدالت انصاف کا طریقہ کار کے مطابق ایک فریق کو ایسے حالات میں ایڈہاک جج کو نامزد کرنے کا اختیار دیتا ہے جب متعلقہ قومیت کا کوئی جج وہاں موجود نہ ہو۔ اس وقت عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کا کوئی جج نہیں، جبکہ بھارت کا جج بھنڈاری عالمی عدالت انصاف میں جج کی حیثیت سے موجود ہیں۔ ایڈہاک جج کے اختیارات بھی دوسرے ججز کے برابر ہوتے ہیں۔ذرائع کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے بھارت کو آگاہ کردیا ہے کہ حکومت پاکستان نے سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کو یادیو کیس میں اپنا ایڈہاک جج مقرر کیا ہے۔

تصدق جیلانی ،ایڈہاک جج

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...