اسلامی فوجی اتحاد کا پہلا اجلاس 26 نومبر کو ریاض میں طلب

اسلامی فوجی اتحاد کا پہلا اجلاس 26 نومبر کو ریاض میں طلب

ریاض(صباح نیوز)دہشت گردی مخالف اسلامی فوجی اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع کا پہلا اجلاس سعودی دارالحکومت ریاض میں 26 نومبر کو ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف اتحاد کے عنوان سے اس اجلاس میں رکن ممالک کے سعودی عرب میں تعینات سفارت کار بھی شریک ہوں گے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے)کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس اجلاس کا مقصد اکتالیس اسلامی ریاستوں پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد کے درمیان تعاون اور تعلق کو مضبوط بنانا اور اس کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کوششوں کو مزید مثر اور بین الاقوامی کاوشوں سے مربوط بنانا ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال دسمبر میں چونتیس مسلم ممالک پر مشتمل اس اتحاد کا ا علان کیا تھا۔اس کا مشترکہ آپریشنز سنٹر الریاض میں قائم کیا گیا ہے۔پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اس فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں۔اس اتحاد کے قیام کامقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کا ایک متحدہ اور مشترکہ محاذ تشکیل دینا تھا۔اس کے علاوہ رکن ممالک کے درمیان عسکری ، علمی ، دانشوری اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا اور دہشت گرد گروپوں کے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس کے تبادلے کو مربوط بنانا تھا۔قبل ازیں الریاض ہی میں اس اتحاد میں شامل مسلم ممالک کے فوجی سربراہان کا اجلاس ہوا تھا ۔ انھوں نے اس میں دہشت گردوں کے مالی وسائل ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور مسلم ممالک کو درپیش دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے اس کے نظریاتی ،میڈیا ،مالیاتی اور عسکری پہلوں پر غور کیا تھا۔

اسلامی فوجی اتحاد

مزید : علاقائی