نئی حلقہ بندیوں ک بغیر عام انتخابات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہو گی : اشتر اوصاف

نئی حلقہ بندیوں ک بغیر عام انتخابات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہو گی : اشتر ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں سے قبل عام انتخابات کروانے کی کوشش کی گئی تو ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی ۔آئین کے تحت قومی اسمبلی کی نشستوں کا تعین آخری مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔لاہور ہائی کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ عام انتخابات وقت سے قبل نئی حلقہ بندیوں کے بغیر کروائے گئے توآئینی طور پر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے اسمبلیاں توڑنے یا سزامعاف کرنے کا اختیار وزیر اعظم اور کابینہ کی سفارش سے مشروط ہے۔میاں محمدنوازشریف کی جانب سے رائے ونڈ میں کابینہ اجلاسوں کی صدارت سے متعلق اعتراضات بے بنیاد ہیں، جمہوری ممالک میں پارٹی سربراہ ہی کابینہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں۔وزیراعظم مکمل بااختیار ہیں کسی کے اشاروں پر کام نہیں کر رہے،انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کی شقیں بحال ہونے کے بعد دھرنا پرامن طور پر ختم ہونا چاہیے ،وزیر خزانہ کو ڈالا گیا سٹنٹ درست کام نہیں کر رہا وہ سفر نہیں کر سکتے اسی لئے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ،اسحاق ڈار اور زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ بے بنیاد ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کلبھوشن کی درخواست پر اس کی اہلیہ کو اسلامی تعلیمات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے ۔

اشتر اوصاف

مزید : صفحہ آخر