ڈیرہ میں لڑکی کو برہنہ کرنے کا واقعہ، قومی اسمبلی میں خواتین کا تحقیقات کا مطالبہ

ڈیرہ میں لڑکی کو برہنہ کرنے کا واقعہ، قومی اسمبلی میں خواتین کا تحقیقات کا ...

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی خواتین ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 16سالہ لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے کی تحقیقات کر کے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے اور واقعے میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نقطہ اعتراض پر مسلم لیگ (ن) کی رکن شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 16سالہ لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، صوبائی حکومت واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔پاکستان میں سر عام خواتین کی عزتیں اچھالی جا رہی ہیں ، وہ وقت کب آئے گا جب پاکستان میں خواتین کو انصاف ملے گا ۔ڈیرہ اسماعیل خان کا واقعہ صرف ہمارے لئے نہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے شرمندگی کا باعث ہے ، اسپیکر قومی اسمبلی اس واقعہ کا نوٹس لیں اور رپورٹ منگوائیں ۔ پیپلزپارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسا وحشیانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ، میں بھی ایک بچی کی ماں ہوں ، داور خان کنڈی نے معاملہ ایوان میں اٹھایا تو ان کو اپنی جماعت کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ پارلیمنٹ کی ویمن کاکس کا وفد ڈیرہ اسماعیل خان جائے اور واقعہ کے حوالے سے اپنی تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کرے ۔ایم کیو ایم کی سمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ اس معاملے پر ایوان میں بہت پہلے بات ہونی چاہیے تھی ، میں اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینی چاہتی ، چادر اور چاردیواری کا تقدس قائم رہنا چاہیے ، ڈیرہ اسماعیل خان واقعہ کی صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی کی منزہ حسن نے کہا کہ یہ واقعہ 27اکتوبر کو پیش آیا مگر ایوان میں آج اس پر بات کی جا رہی ہے ۔ واقعے کے فوراً بعد صوبائی انتظامیہ نے اس کا نوٹس لیا ، میں اپنی پارٹی کی جانب سے اس واقعے کی پرزور مذمت کرتی ہوں ۔ مسلم لیگ (ن) کی آسیہ ناز تنولی نے کہا کہ ہمارے ملک میں تیزاب گردی اور معصوم بچیوں کیساتھ زیادتی جیسے واقعات سے پاکستان بدنام ہوا مگر ڈیرہ اسماعیل خان جیسے واقعے کی ملک میں مثال نہیں ملتی ، شرمناک واقعے میں صرف آٹھ ملزمان ہی ذمہ دار نہیں بلکہ اس گاؤں میں موجود تمام لوگ اس واقعے کے ذمہ دار ہیں ۔

لڑکی کو برہنہ کرنے کا معاملہ

مزید : صفحہ آخر