میانمار کی صدر روہنگیا مسلمانو ں کے مسائل کے حل کیلئے چینی تجویز پر متفق

میانمار کی صدر روہنگیا مسلمانو ں کے مسائل کے حل کیلئے چینی تجویز پر متفق

ینگون (آئی این پی ) چینی وزیر خارجہ نے میانمار کی صدر آنگ سانگ سوچی پرزور دیا ہے کہ میانمار اور بنگلہ دیش مشاورت کے ذریعے روہنگیا مسلمانو ں کا مسئلہ حل کر یں ۔عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونس کو دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرنی چاہیئے جبکہ میانمار کی ریاستی مشیر آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانو ں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے چین کی پیش کردہ تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ مشاورت کے ذریعے متعلقہ مسئلہ کو حل کرنے کی امید ظاہر کی۔چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق میانمار کے دورے پر گئے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے میانمار کی قومی امور کی مشیر آن سانگ سوچی سے ملاقات کی ۔ جس میں وانگ ای نے کہا کہ چین میانمار میں قومی مفاہمت کے عمل میں حاصل شدہ پیش رفت کا خیر مقدم کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ متعلقہ فریق ملک کے وفاقی آئین کی روشنی میں قومی یکجہتی اور علاقائی خود مختاری کے بارے میں سمجھوتہ طے کریں گے ۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین میانمار کو دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کا اہم ساتھی سمجھتا ہے۔چین میانمار کے قومی ترقیاتی منصوبے اور حقیقی ضروریات کے پیش نظر چین میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کا منصوبہ طے کرنے پر تیار ہے تاکہ خطے کے علاقائی تعاون اور میانمار کی متوازن ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ملاقات کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں چین کے وزیرخارجہ وانگ ای نے چین -میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کا تصور پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین میانمار کو دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں اہم ساتھی کی اہمیت دیتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی بڑی گنجائش موجود ہے۔چین کی جانب سے چین،میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کا تصور پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چین میانمار کے ساتھ مل کر چین-میانمار سفارت اور دفاع کے ٹو پلس ٹو مشاورت سمیت دیگر طریقہ کار سے فائدہ اٹھا کر شمالی میانمار کی صورتحال پر کنڑول اور سرحدی علاقے میں استحکام کے تحفظ کے لئے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے تعاون کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔میانمار کی ریاستی مشیر اور وزیرخارجہ آنگ سان سوچی نے راکھین ریاست کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے چین کی پیش کردہ تجویز پر اتفاق کیا۔

روہنگیا مسلمان

مزید : صفحہ آخر