حکومت ضد چھوڑ کر بامقصد مذاکرات کرے اور شہریوں کو دھرنے کی اذیت سے نجات دلوائے

حکومت ضد چھوڑ کر بامقصد مذاکرات کرے اور شہریوں کو دھرنے کی اذیت سے نجات ...
 حکومت ضد چھوڑ کر بامقصد مذاکرات کرے اور شہریوں کو دھرنے کی اذیت سے نجات دلوائے

  

لاہور( شہزاد ملک،دیبا مرزا ) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا لیکن ہمارے قائد اور اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس وقت کے وفاقی وزراء کی ایک ٹیم تشکیل دی تھی اور انہیں تمام تر اختیارات بھی تفویض کئے کہ وہ دھرنے کے شرکاء کو بات چیت اور پر امن مذاکرت سے اسلام آباد سے اٹھائیں اور اس دھرنے کی وجہ سے عوام الناس کو جو تکلیف ہو رہی ہے اس سے عوام کو نجات دلوائیں۔انہوں نے کہا کہ اب بھی دھرنے والوں کو بات چیت سے اٹھایا جا سکتا ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کو اتنا لمبا دھرنا دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اس پر ہم تمام تر ذمے داری حکومت وقت پر ڈالتے ہیں کیونکہ اگر حکومت ان کے مطالبات کو بروقت مان لیتی تو پھر انہیں اس دھرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑنی تھی اور اب بھی اگر حکومت ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر ان سے بامقصد مذاکرت کرے تو اسلام آباد کے شہریوں کو اس ازیت سے فوری طور پر نجات دلوائی جا سکتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی صدر و سابق وفاقی وزیر ثمینہ خالد گھرکی نے روز نامہ پاکستان کے مقبول عام سلسلے ایشو آف دی ڈے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہی عوام کو اپنے حقوق کے لئے دھرنوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اگر حکومت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ضروریات کا خاص خیال رکھے تو پھر کسی کو بھی دھرنے دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی ہمارے دور حکومت میں بھی معاشرے کے کچھ طبقات نے دھرنے دینے کی کوشش کی تھی لیکن ہم نے انہیں بات چیست سے منا لیا تھا اور اسلام آباد کے لوگوں کو اذیت سے بچا لیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ حکومت کا رویہ ایک ضدی بچے جیسا ہے تو اسی لئے عوام کو بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے جارحانہ رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس کی تمام تر ذمے داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔

ثمینہ خالد گھرکی

مزید : صفحہ اول