افغانستان کو دہشتگردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنا ہی امریکہ کا ہدف : رینڈل شیرور

افغانستان کو دہشتگردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنا ہی امریکہ کا ہدف : رینڈل ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) افغانستان میں امریکہ کا قومی سلامتی کا بنیادی مقصد یہ ہے اس ملک کو ان دہشتگردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکا جائے جو یہاں سے امریکی سرزمین اس کے شہریوں اور مفادات کے علاوہ اس کے اتحادیوں کیخلاف منصوبہ بندی و حملو ں کا اہتما م کرتے ہیں۔ یہ بیان امریکی وزارت دفاع کے نامزد اسسٹنٹ سیکرٹری رینڈل شیرور نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو ایک سوال کے جواب میں دیا۔ یہ اجلاس ان کی نامزدگی کی توثیق کیلئے بلایا گیا تھا جہاں قبل ازیں وزارت دفاع کے نامزد انڈر سیکٹری جان روڈ نے اپنا شہادتی بیان ریکارڈ کرایا تھا جو پہلے رپورٹ کیا جاچکا ہے۔ نامزد اسسٹنٹ سیکرٹری رینڈل شیرور نے اپنے شہادتی بیان میں مز ید بتایا جنوبی ایشیا کیلئے امریکہ کی نئی حکمت عملی کا مقصد افغانستان کی اپنی دفاعی اور سکیورٹی فورسز کی جنگ لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ افغانستان اور اس کے شہریوں کا خود تحفظ کرسکیں، وزیر دفاع میٹس نے افغانستان کیلئے امریکہ کے مشیروں اور تکنیکی سہولت کا ر و ں میں اضافہ کیا ہے تاکہ افغانستان فوجی اور سیاسی اعتبار سے خود مختار ہوسکے۔ انہوں نے واضح کیا نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ ایک مستحکم افغانستان کیلئے سفارتی مفاہمت پیدا کرنا چاہتا ہے اور کابل انتظامیہ کی قیادت میں امن مذاکرات اور مسائل کا سیاسی تصفیہ کرانے کا خوا ہشمند ہے۔ امریکہ ان ممالک کو بھی ذمہ دار ٹھہرائے گا جو افغانستان میں پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں،رینڈل شیرور نے امریکہ اور پاکستان کے سکیورٹی تعلقا ت کی تازہ صورتحال پرسوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا امریکہ پاکستان کیساتھ ایسے تعمیری تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے جس سے باہمی مفادات کو فروغ حاصل ہو جس میں داعش اور القاعدہ کو شکست دینا شامل ہے تاہم امریکہ کو دو معاملات میں پاکستان کے بارے میں گہری تشویش ہے جن میں سے ایک اس کا فروغ پذیر ایٹمی پروگرام ہے دوسرا اپنی سرزمین پر شدت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کیا وہ سمجھتے ہیں پاکستان کو دی جانیوالی فوجی امداد موثر ثابت ہو رہی ہے اور وہ امریکہ کے قومی سلامتی مفادات کے تقاضے پورے کرتی ہے؟ ان کا جواب تھا یقیناًسکیورٹی امداد کا مقصد امریکہ کے قومی سلامتی مفادات کا حصول ہے اور اگر وہ اس عہدے پر فائز ہوئے تو ہو امریکی حکومت کے سبھی شعبوں کیساتھ مل کر پاکستان کو دی جانیوالی فوجی امداد کو مؤثر بنانے کیلئے کام کریں گے۔ انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا وہ وزارت دفاع میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جائزہ لیں گے کس طرح امریکہ اور خصوصاً ان کا اپنا محکمہ پاکستان کو قائل کرسکتا ہے وہ شدت پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت ترک کردے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں نہ بنانے دے۔ اگر پاکستان نے شدت پسندوں کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم اور ان کی حمایت کرنے کی پالیسی تبدیل نہ کی تو کیا وہ پاکستان پر مزید پابندیاں لگانے کی سفارش کرنے کے سوال پر جواب دیا موقع دیکھ کر وہ پالیسی تبدیل کرنے کا جائزہ لیں گے۔

رینڈل شیرور

مزید : صفحہ اول