ایم ایم اے کی بحالی سے پہلے ہی مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کو پیارے ہو ئے

ایم ایم اے کی بحالی سے پہلے ہی مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کو پیارے ہو ئے
ایم ایم اے کی بحالی سے پہلے ہی مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کو پیارے ہو ئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

جمعیت العلمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے کو ’’مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کا اتحاد‘‘ قرار دے دیا ہے۔ ان پر یہ انکشاف عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد ہوا، جن سے ان کی گزشتہ روز اسلام آباد کے خیبرپختونخوا ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی، جس میں طے پایا تھا کہ دونوں جماعتیں انتخابی اتحاد کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گی۔ اگرچہ اس کی تفصیلات تو طے نہیں ہوئیں۔ تاہم جو قدم اٹھا لیا گیا ہے، وہ اب آگے ہی آگے بڑھے گا، پیچھے نہیں ہٹے گا۔ مولانا سمیع الحق کے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ اب ان کی جماعت ایم ایم اے کا حصہ نہیں رہے گی، جس کی بحالی کی کوششیں ہو رہی ہیں اور وہ خود بھی ان کوششوں میں نیم دلی سے شریک تھے۔

سیاسی اتحاد تو ہمیشہ سے بنتے رہے ہیں اور جب انتخابات کا بگل بجنے والا ہو تو یہ عمل ذرا تیز ہو جاتا ہے، اس لئے اگر اب اتحاد بن رہے ہیں تو حیرت کی کوئی بات نہیں۔ البتہ یہ دلچسپ صورت حال ضرور ہے کہ بعض جماعتیں بیک وقت ایک سے زیادہ اتحادوں کا حصہ بن رہی ہیں، اس کی جو وجہ ہمیں نظر آتی ہے وہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ جس اتحاد میں کامیابی کے زیادہ امکانات ہوں، اس میں شامل رہا جائے اور جو ناکام ہوتا نظر آئے، اسے خیرباد کہہ دیا جائے۔ ابھی 8 نومبر کو منصورہ میں ایم ایم اے میں شامل چھ جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ اتحاد بحال کیا جائیگا۔ پہلے بھی اتحاد کی کوششیں تو ہو رہی تھیں لیکن ’’اصولی فیصلہ‘‘ پہلی دفعہ کیا گیا کہ اتحاد کی بحالی ہونی چاہئے۔ ویسے بھی ہر بات اپنے وقت معین پر ہوتی ہے۔ ’’ہر بات کا اک وقت معین ہے ازل سے‘‘ شاید پہلے یہ وقت نہیں آیا تھا، لیکن اتحاد کی بحالی کے فیصلے میں شریک ایک جماعت جمعیت علمائے اسلام (س) نے تحریک انصاف سے راہ و رسم بڑھا لی ہے۔ شاید اس نے سوچا ہو ایم ایم اے کے پاس اسے دینے کے لئے کیا ہے؟ مولانا سمیع الحق اور عمران خان نے ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات اور نیک جذبات کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف تھا کہ مولانا سمیع الحق کی جماعت قومی ایشوز پر ذہنی اور نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہے۔ عمران خان نے کہا صوبائی حکومت کی تائید و معاونت پر شکرگزار ہیں، جواب میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ’’اسلامی اقدامات‘‘ کی تعریف کرتے ہیں۔ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت نے کون کون سے اسلامی اقدامات کئے ہیں۔ ان کی تفصیلات تو اس موقعہ پر سامنے نہیں لائی جاسکتیں۔ البتہ پرویز خٹک کی حکومت مدارس کی سرپرستی ضرور کر رہی ہے۔ زبانی کلامی حمایت تو کوئی بات نہیں، ان کی حکومت ان مدارس کے لئے باقاعدہ مالی امداد کا اہتمام بھی کرتی ہے۔ سال رواں کے بجٹ میں مولانا سمیع الحق کے مدرسوں کے لئے تیس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا تھا، اگر ایک عالم دین کے مدرسوں کے لئے اتنی رقم مختص کی جاسکتی ہے تو اندازہ لگا لیجئے باقی مدرسوں کی سرپرستی میں پرویز خٹک کی حکومت کس حد تک جاسکتی ہے۔ اس لئے مولانا سمیع الحق نے بالکل درست اور بروقت فیصلہ کیا ہے کہ اگلا انتخاب تحریک انصاف کے ساتھ مل کر لڑا جائے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومت جو اسلامی اقدامات کر رہی ہے اور جو آئندہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جے یو آئی (س) اس نیک مشن کو آگے بڑھانے میں معاونت کرے گی۔ اگرچہ 2013ء کے انتخابات کے بعد جماعت اسلامی اب تک تحریک انصاف کی حکومت میں شامل رہی ہے۔ پہلے سراج الحق خود اس کے وزیر خزانہ تھے، لیکن امیر جماعت اسلامی منتخب ہونے کے بعد انہوں نے صوبائی وزیر کا عہدہ چھوڑ دیا اور مارچ 2015ء میں سینیٹر منتخب ہوگئے۔ اب ان کی جگہ مظفر سید وزیر خزانہ ہیں، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہوئی کہ خیبر بینک کے معاملے پر بینک کے ایم ڈی اور وزیر خزانہ کے درمیان نہ صرف اختلافات پیدا ہوگئے بلکہ ایم ڈی نے وزیر خزانہ پر ایسے الزامات بھی لگائے جن کی وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی تائید نہیں کی، وہ اپنے وزیر خزانہ کی حمایت میں کھڑے رہے۔ تاہم ایم ڈی کا بال بھی بیکا نہ ہوسکا، وہ بدستور اپنے عہدے پر رہے اور جماعت اسلامی ان کی برطرفی کا مطالبہ ہی کرتی رہ گئی لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی، تاآنکہ ان کی مدت ملازمت ہی پوری ہوگئی۔

منصورہ کے اجلاس کے بعد سینیٹر سراج الحق نے کہا تھا کہ ایم ایم اے کی بحالی کے بعد جماعت اسلامی کے پی کے حکومت سے الگ ہو جائیگی، اس طرح حکومت کی حلیف جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی الگ ہو جائیں۔ جے یو آئی (ف) حکومت کی نہ صرف حلیف ہے بلکہ اس کے نمائندے وزارتوں پر بھی براجمان ہیں۔ اسی طرح مرکزی جمعیت اہل حدیث بھی حکومت کی حلیف ہے۔ مواصلات جیسی اہم وفاقی وزارت پر جمعیت کے جنرل سیکرٹری حافظ عبدالکریم فائز ہیں۔ خود پروفیسر ساجد میر بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ جب سے ایم ایم اے کی بحالی کی کوششیں شروع ہوئی تھیں، مولانا سمیع الحق کی خواہش تھی کہ ان کے معاملات مولانا فضل الرحمن سے طے ہو جائیں جو ایم ایم اے کی سب سے بڑی جماعت ہے اور 2002ء میں اس کے رکن اکرم درانی صوبہ کے پی کے میں وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، وہ اب بھی وفاقی وزیر ہیں۔ مولانا سمیع الحق غالباً اپنی جماعت کے لئے زیادہ نشستیں مانگ رہے تھے اور مولانا فضل الرحمن اس ضمن میں کوئی وعدہ کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ اس لئے انہوں نے تحریک انصاف کے ساتھ جانا پسند کیا، جس نے زیادہ نشستوں کا وعدہ کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق کی یہ بھی خواہش تھی کہ تحفظ پاکستان کونسل کو بھی ایم ایم اے کا حصہ بنا لیا جائے۔ ایم ایم اے کا اگلا اجلاس دسمبر میں کراچی میں مولانا اویس نورانی کی رہائش پر ہونے والا ہے۔ دیکھیں اس وقت تک کیا تبدیلیاں ظہور میں آتی ہیں۔

مولانا زبیر احمد ظہیر نے بھی لگے ہاتھوں ایک اتحاد بنا لیا ہے، انہوں نے سوچا ہوگا جب اتنے اتحاد بن رہے ہیں تو وہ کیوں پیچھے رہیں۔ انہوں نے تحریک تحفظ حرمین الشریفین کے نام سے جماعت بنا رکھی ہے۔ اس نویں نکور اتحاد میں دس جماعتیں شامل ہیں۔ اتحاد کا نام ’’اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس نام سے ایک اتحاد پہلے بھی بن چکا، نواز شریف اس کے صدر رہ چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ وزیراعظم بھی آئی جے آئی کے سربراہ کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔

تحریک انصاف کو پیارے

مزید : تجزیہ