صوبہ سرائیکستان ہماری منزل‘ لاہور سے خیرات نہیں حق چاہیے‘ شوکت مغل

صوبہ سرائیکستان ہماری منزل‘ لاہور سے خیرات نہیں حق چاہیے‘ شوکت مغل

ملتان (سٹی رپورٹر)صوبہ سرائیکستان ہماری منزل ہے ۔ لاہور سے خیرات نہیں حق لینے آتے ہیں ۔ حکمران سرائیکی وسیب سے بنگالیوں والا سلوک بند کریں ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں پروفیسر شوکت مغل، خواجہ غلام فرید کوریجہ، ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ، سید نثار صفدر ایڈوکیٹ ، ملک اللہ نواز وینس، ظہور دھریجہ، آصف خان، ایم اسلم میاں ، راشد عزیز بھٹہ ، ماسٹر مبین ، طاہرہ (بقیہ نمبر44صفحہ7پر )

خان اور دوسروں نے میاں ہاؤس صفانوالہ چوک لاہور میں ’’صوبہ سرائیکستان ، ضرورتِ پاکستان ‘‘کے موضوع پر منعقد کئے گئے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میزبانی کے فرائض ظہور دھریجہ نے سر انجام دیا ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ سرائیکی صوبہ نہ ہونے سے نہ صرف یہ کہ وفاق پاکستان عدم توازن کا شکار ہے بلکہ چھوٹے صوبوں میں بھی پنجاب کے بڑے حجم کی وجہ سے احساس محرومی کا شکار ہیں ، صوبہ نہ ہونے کی وجہ سے انسان پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب زرعی ریجن ہے ، کپاس کا نرخ 5 ہزار روپے فی من اور گنے کا 3 سو روپے من ہونا چاہئے ۔ شوگر مافیا کرشنگ سیزن میں تاخیر کر کے کاشتکاروں کے معاشی قتل کا مرتکب ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کا قدم قدم پر استحصال ہو رہا ہے ۔ سرائیکی وسیب کے دریا بیچ دیئے گئے اور دریاؤں سے پانی کا پورا حصہ نہیں دیا جا رہا اور ارسا میں بھی سرائیکی وسیب کی نمائندگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ رنجیت سنگھ کے بعد انگریز سامراج نے بھی سرائیکی وسیب سے ظلم کیا اور ان کا صوبہ ملتان پنجاب کے پیٹ میں ڈال دیا ۔ انگریز سامراج کے بعد اس کے جانشینوں نے ون یونٹ کے خاتمے پر بہاولپور کو بھی ہڑپ کر لیا اور پھر چولستان اور تھل میں ناجائز الاٹمنٹوں کا طوفان اٹھایا گیا اور سرائیکی وسیب کو عدلیہ، انتظامیہ ، فوج اور دوسرے تمام محکموں کے ساتھ ساتھ فارن سروسز کی ملازمتوں سے محروم کر دیا گیا ۔

شوکت مغل

مزید : ملتان صفحہ آخر