اراضی پر قبضہ کیخلاف احتجاج کرنیوالے بزرگ جوڑے پر پولیس کا تشدد

اراضی پر قبضہ کیخلاف احتجاج کرنیوالے بزرگ جوڑے پر پولیس کا تشدد

ملتان(کرائم رپورٹر) ملتان پولیس کے اہلکاروں نے بزرگ جوڑے کو جائیداد پر قبضہ کے خلاف احتجاج کرنے پر تشدد کا نشانہ بناڈالا۔تشدد کی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او ملتان سے رپورٹ طلب کرلی،آر پی او ملتان نے ایس ایچ او چہلیک سمیت5اہلکار معطل کر کے تحقیقات کا حکم دے دیا۔تفصیل کے مطابق 75 سالہ معمرخاتون نسیم بی بی اپنے شوہر ادریس کے ہمراہ ایم ڈی اے کے اہلکاروں کے خلاف ایم ڈی اے دفتر کے باہر احتجاج کررہی تھیں، انہوں (بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

نے بینرز بھی اٹھارکھے تھے، جوڑے کا موقف تھا کہ ایم ڈی اے کے افسر اکرام بلوچ ہماری 5 کنال 6 مرلے کی اراضی ہتھیا رہے ہیں ۔ ہماری آبائی اراضی ایم ڈی اے کی کالونی فاطمہ جناح ٹاؤن میں آگئی تھی ایم ڈی اے والوں نے انہیں زمین اور نہ ہی رقم دی گئی اس کا کیس کیلئے وہ عرصہ سے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں،جس کے بعدانہوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا اور وہ پرامن طورپر دفتر کے باہر بیٹھ گئے تھے ۔ایم ڈی اے سٹاف نے پہلے ریسکیو 15بعدازاں پولیس کو اطلاع دی کہ ان کے دفتر کے باہر بزرگ جوڑا خود کشی کی دھمکی دے رہا ہے۔جس پر چہلیک پولیس موقع پر پہنچ گئی،ایس ایچ او مصطفی ،اے ایس آئی عبدالمالک ،لیڈی کانسٹیبل نائلہ، کانسٹیبل سلیم اورنور نے جوڑے پر تشدد شروع کردیا جب کہ اکرام بلوچ نے بزرگوں کے ہاتھ سے بینرز چھین کر پھاڑ دیا، پولیس اہلکاروں نے احتجاج روکنے کے لئے معمر جوڑے کی سرِعام تذلیل کی اور سڑک پر گھسیٹے ہوئے زبردستی گاڑی میں ڈال کر تھانے لے گئی ،اس دوران شہریوں کی بڑی تعداد بزرگ جوڑے کی آہ وبکا سنتے رہے ۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے وہاں سے گزرنیوالے اسد نامی لڑکے کو بھی زبردستی پکڑلیا اورلے جاکر حوالات میں بند کر دیا۔واقعہ کی فوٹیج سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر وائرل ہوتے ہی،وزیر اعلیٰ پنجاب نے فوری طور پر سٹی پولیس آفیسر ملتان سرفراز احمد فلکی کو بذریعہ فون واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی،جبکہ آرپی او محمد ادریس نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او چہلیک غلام مرتضی ،اے ایس آئی عبدالمالک ،لیڈی کانسٹیبل نائلہ، کانسٹیبل سلیم اورنور کو معطل کردیا جب کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے ایس ایس پی آپریشنز عمارہ اطہر کو انکوائری افسر مقرر کردیا گیا ہے۔دوسری جانب راہگیر سولہ سالہ اسد کو پولیس نے تین گھنٹے تک حوالات میں بند رکھا بعد ازاں والدین کے شور شرابا پر اسے رہائی ملی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر