سی پیک پورے خطے کا شاندار گیم چینجر منصوبہ ہے :پرویز خٹک

سی پیک پورے خطے کا شاندار گیم چینجر منصوبہ ہے :پرویز خٹک

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہا ہے کہ سی پیک پورے خطے کا شاندار گیم چینجر منصوبہ ہے جس کیلئے تیاریوں کا معیار بھی اتنا ہی اونچاہونا چاہئے اس مقصد کیلئے ہماری صوبائی حکومت نے بھرپور تیاریاں شروع کی ہیں اور ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سی پیک کا انتہائی کارآمد شعبہ ہے جس کی بدولت ہم باقی تمام شعبوں میں اپنی پیداوری صلاحیت کو کئی گنا زیادہ بڑھا سکتے ہیں ہماری جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تیاری پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے جو سافٹ اور ہارڈوئیر کے علاوہ الیکٹرانکس، ٹیلی وموبائل کمیونیکیشن اور دیگر تمام امور پر مکمل دسترس رکھتے ہوں اور سی پیک و نان سی پیک تمام ترقیاتی سکیموں اور شعبوں کو دن دگنی رات چوگنی فروغ دے سکیں انہوں نے نوجوان نسل پر بھی زور دیا کہ دیگر شعبوں کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی اعلیٰ مہارت حاصل کریں تاکہ وہ قوم کے روشن مستقبل کو یقینی بنا سکیں وہ ایڈورڈ کالج پشاور میں آئی ٹی انفراسٹرکچر کے نئے شعبے کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے تقریب سے کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نیئر فردوس اور دیگر ماہرین تعلیم نے بھی خطاب کیا جنہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات اور کالج کے مختلف تاریخی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں انقلابی اصلاحات پر صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور اپنے بھر پورتعاون کا یقین دلایا تقریب میں کالج اور ذیلی تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد کے علاوہ صوبائی مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی نے بھی شرکت کی اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کالج میں بی ایس آئی ٹی شعبہ کے منتظمین کو شیلڈز بھی دیں پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت شروع دن سے تعلیم کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ ہم اسے نظام کی تبدیلی اور شفافیت لانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس مقصد کیلئے خطیر فنڈز مختص کئے گئے اور کئی منصوبے شروع کئے گئے جن میں 60 کروڑ روپے کی لاگت سے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سنٹر کا قیام، 25 کروڑ روپے کی لاگت سے بے روزگار آئی ٹی گریجویٹس کیلئے اعلی تربیتی مرکز کا قیام ، 20 کروڑ روپے کی لاگت سے شعبہ صحت اور غریب تک علاج کی سہولیات پہنچانے میں آئی ٹی کا استعمال ، 14 کروڑ روپے کی لاگت سے خواتین کیلئے آئی ٹی تربیتی سہولیات کی فراہمی، 11 کروڑ روپے کی لاگت سے سرکاری سکولو ں میں شمسی توانائی کے ذریعے آئی ٹی لیبز کا قیام اور دوسری ان گنت سکیمیں قابل ذکر ہیں انہوں نے کہا کہ نیاخیبر پختونخوانئی سڑکوں، پلوں اور اونچی عمارات سے نہیں بلکہ مستحکم نظام اور اداروں کی مضبوطی سے ممکن ہے جس کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت شروع دن سے کوشاں ہے ہم عوام کو قانون ، میرٹ اور انصاف کی بالادستی پر مبنی شفاف نظا م دینا چاہتے ہیں تاکہ ہماری نوجوان نسل کو ترقی کے بھر پور مواقع ملیں انہوں نے ایڈورڈز کالج پشاور کو صوبے کا تاریخی علمی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے طلباء نے تحریک پاکستان سے لیکر ملکی تاریخ کے ہر مرحلے پر قومی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں عمدہ خدمات انجام دی ہیں جس کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر اعتراف بھی ہوا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی تعمیر و ترقی کا بنیادی زینہ ہے اگر ہم اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں اورقوم کو مخلص قیادت دیں تو پھر ہمیں غیر ملکی قرضوں اور امداد کی ہر گز ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ہم اپنے دستیاب وسائل کو بہترین انداز میں بروئے کار لا کر قوم کا درخشاں مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں پرویز خٹک نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں سرکاری اور نجی شعبے کے امتیاز پر یقین نہیں رکھتی اور تمام اداروں کی ہر طرح معاونت جاری رکھے گی انہوں نے ایڈورڈ کالج پشاور سے بھی بھرپور معاونت کا یقین دلایا اور واضح کیا کہ تعلیمی مقاصد کیلئے فنڈز کی کمی آڑے نہیں آنے دی جائے گی انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت نے صوبے میں طبقاتی اوردوہرے نظام تعلیم کاخاتمہ کرکے انگریزی زبان میںیکساں نصاب تعلیم کانفاذ کیاہے تاکہ عوام میں تعلیم کے ذریعے پیداکی جانے والی امیر و غریب کی طبقاتی اونچ نیچ کاخاتمہ ہو اور ہمارے نوجوان یکساں طور پر قومی دھارے میں شامل ہونے کے علاوہ دنیامیں ہونے والی تبدیلیوں اور چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے قابل بن سکیں اسی طرح پرائمری سے ہائی سکولوں تک کے تعلیمی اداروں میں نامکمل سہولیات کی مکمل فراہمی پر بھی توجہ دی اور ان پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ کیا انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں سکول و کالج کے نام پر صرف عمارتیں کھڑی کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں تعلیمی، علمی، تحقیقی اورتخلیقی ادارے قائم ہوں اور سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت کے علاوہ ہمارے نوجوانوں کی تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہو ہمارے تعلیمی پروگرام کا مقصد میںیونیورسٹیوں اورکالجوں کی تعدادمیں اضافے کے علاوہ انہیں حقیقی معنوں میں علم وحکمت کے گہوارے بنانا ہے پرویز خٹک نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ صوبے میں قیام امن اور سماجی انصاف پر بھی فوکس کیا گیا اور یہ کوشش بھی کی گئی کہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنا کر ان پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمیں تباہ حال انفراسٹرکچر اور خراب نظام ورثے میں ملا تھا ہم نے نظام کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، افغان مہاجرین ، آئی ڈی پیز اور قدرتی آفات سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کا بیڑا اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس میں بھی کافی سرخرو ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلیمی مراکز سمیت اداروں نے قومی جذبے سے اپنے فرائض انجام دئیے تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)یہ ایک فطری عمل ہے کہ آج کے بچے کل کے نوجوان یعنی مستقبل کی قیادت ہوتے ہیں۔ کسی بھی قوم کے کامیاب مستقبل کا سارا دارومدار نئی نسل یعنی بچوں کی عمدہ پرورش اور معیاری تعلیم و تربیت پر منحصر ہو تا ہے۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت اس سلسلے میں نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آشنا ہے بلکہ بچوں کے تحفظ اور تعلیم و تربیت کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ ہم ایک صحت مند ، تعلیم یافتہ ، با کردار اور زندہ قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں جو نئے پاکستان کی تشکیل کی طرف عملی قدم ہے ۔بچوں کی تعلیم و تربیت کو کل وقتی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے تاہم اس سلسلے میں مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے حکومت وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات خصوصاً والدین اساتذہ ، صحت کے اداروں ، علماء ، میڈیا ، سول سوسائٹی اور فیصلہ ساز اداروں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہاروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے یہاں سے جاری اپنے پیغام میں کیا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج ساری دُنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہاہے جو بڑی خوشی کی بات ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بچے ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔ پیدائش سے لے کر 18 سال کی عمر تک بچے کی تربیت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔معاشرے کے تمام طبقات اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان بچوں کے تحفظ اور بہتر مستقبل کیلئے ہم آہنگی اور تعاون ناگزیر ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت بچوں کے تحفظ ، اُن کی تعلیم و تربیت ، مخصوص بچوں کی بحالی اور فلاح کیلئے ٹھو س اقدامات کر رہی ہے ۔خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اور ویلفیئر کمیشن قائم کیا گیا ہے اور صوبے کے 12 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم ہو چکے ہیں۔ رسک میں پڑے بچوں کے 28654 کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں 17528 بچے ، 11120 بچیاں اور6 کا تعلق خواجہ سرا برادری سے ہے۔13643 بچوں کو مالی معاونت مہیا کی گئی ہے۔نچلی سطح پر 1052 چائلڈ پروٹیکیشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔صوبے میں بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید بہتر کرنے کیلئے پانچ سالہ سٹرٹیٹجک پلان تیار کیا گیا ہے۔بچوں کے تحفظ اور فلاح کیلئے سرکاری اور نجی سٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے ۔ صرف پشاور اور مردان کے اضلاع میں بھیک مانگنے میں ملوث 150 سے زائد بچوں کو سپیشل آپریشن کے ذریعے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں اور حکومت خیبرپختونخوا کی طرف سے یقین دلاتے ہیں کہ اُن کا ہردن بچوں کیلئے ہے۔ ہم نے بچوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم وتربیت پرپہلے سمجھوتہ کیا ہے اور نہ آئندہ کوئی سمجھوتہ کریں گے۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...