کوہاٹ ،کالج وسکول میں سٹاف کی کمی ،طلباء کو مشکلات

کوہاٹ ،کالج وسکول میں سٹاف کی کمی ،طلباء کو مشکلات

کوھاٹ( بیورورپورٹ) چار ماہ گزر گئے ایم این اے شہریار آفریدی کوھاٹ کے سکول اور کالجز میں سٹاف کی کمی پورا کرنے کا وعدہ نہ نبھا سکے ضلع بھر کے سکول اور کالجز میں سینکڑوں کی تعداد میں خالی پوسٹیں تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر دھبہ اور ٹی وی ٹاک شو میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایم این اے کے لیے باعث شرم قرار‘ تفصیلات کے مطابق ممبر قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے اگست 2017 میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئندہ ایک ہفتے میں کوھاٹ کے سرکاری سکولز اور کالجز میں اساتذہ کی خالی پوسٹوں پر تعیناتیوں کے لیے وہ وزیر تعلیم سے بات کر کے مسئلہ حل کروا لیں گے مگر افسوس کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود ضلع کوھاٹ کے درجنوں سکولز اور کالجز بغیر سربراہان کے چل رہے ہیں اور ان تعلیمی اداروں میں اساتذہ کرام کی بھی پوسٹیں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو حصول تعلیم میں سخت مشکلات کا سامنا ہے عوامی حلقوں اور والدین کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں ایمرجنسی کا اعلان تو کر دیا مگر افسوس دونوں محکموں کے وزارتوں پر براجمان کزن وزیروں نے ان محکموں کا حال تباہ کر کے رکھ دیا ہے جو کہ تعلیمی ایمرجنسی اور عمران خان کے دعوؤں کی یکسر ناکامی کے مترادف ہے دوسری جانب ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر پنجاب حکومت اور مرکزی حکومکت کی خامیاں بیان کرنے والے ایم این اے شہریار آفریدی بھی کوھاٹ میں تعلیم اور صحت کے مسائل حل کرنے میں یکسر ناکام ہو چکے ہیں انہیں بھی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ناکامی کو تسلیم کر کے عوام سے معافی مانگی چاہیے۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر