ختم نبوتؐ بل میں تبدیلی کرنے والے عناصر کے بے نقاب کیا جائے :عبدالرزاق اسکندر

ختم نبوتؐ بل میں تبدیلی کرنے والے عناصر کے بے نقاب کیا جائے :عبدالرزاق اسکندر

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مختلف مذہبی اور سیاسی راہنماؤں نے انتخابی اصلاحات کے بل میں ختم نبوت کے حلف و دیگر شقوں میں تبدیلی کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس سازش میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور آئندہ کے لئے اس پر گہری نظر رکھی جائے، راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ جلد از جلد منظر عام پر لائی جائے۔ ناموس رسالت کے قانون میں کسی بھی طرح کی تبدیلی، ترمیم یا منسوخی امت مسلمہ پر حملہ ہے اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔حلف نامہ اور دیگرشقوں کی بحالی پر پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ شرکاء نے اسلام آباد میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مطالبوں کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دھرنے کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ باہمی بات چیت سے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ شرکاء نے مطالبہ کیاہے کہ زاہد حامد کو فوری برطرف کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے بیانات کا نوٹس لے کر ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے، ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مجلس کے مرکز جامع مسجد باب الرحمت نورانی (نمائش) چورنگی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پاکستان کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفی، جمعیت علماء اسلام کے راہنما قاری محمد عثمان، جماعت اسلامی پاکستان کے راہنما اسد اللہ بھٹو، جمعیت علمائے پاکستان کے راہنما قاضی احمد نورانی، جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا راحت علی ہاشمی، غربأ اہل حدیث کے راہنما حافظ محمد سلفی، پیپلز پارٹی کے راہنما اور سابق رکن سندھ اسمبلی حاجی مظفرعلی شجرہ، حبیب الدین جنیدی، سربراہ پی ڈی پی بشارت مرزا، متحدہ علماء محاذ کے راہنما علامہ مرزا یوسف حسین، مولانا شبیر حسن میثمی، محمد حسین محنتی، پیر عبدالشکور نقشبندی، مستقیم نورانی، حافظ عبدالقیوم نعمانی، الحاج محمد رفیع، علامہ نوید عباسی، تاجر راہنما محمد اوصاف، محمد امین، مفتی نوید، مولانا عطاء الرحمن، مولانا مشتاق عباسی، مولانا جعفر سبحانی، مولانا عبداللطیف، صحافی عبدالجبار ناصر و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے اور منظور کی گئی مشترکہ قراردادوں کے ذریعے کیا۔ اے پی سی میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں، ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکمران اور دیگر عناصر ختم نبوت اور دیگر اسلامی شقوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی، تنسیخ سے آئندہ گریز کرے کہ یہ امت مسلمہ کے ایمان کا مسئلہ ہے جو عناصر اس طرح کے اقدام میں ملوث ہیں وہ دراصل ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ میں حلف نامے اور مختلف شقوں کی ترمیم میں ملوث وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو فوری طور پر برطرف کیا جائے، کیونکہ ان کی نااہلی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی کے بعد اب وہ اس منصب پر رہنے کا جواز کھو چکے ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اسلام آباد میں علامہ خادم حسین رضوی کے دھرنے کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دھرنے کے خاتمہ کے لئے کسی بھی طرح کی طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور ایسا کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ قرارداد میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے بعض بیانات کا بھی سختی سے نوٹس لیا گیا اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں فوری طور پر وزارت سے برطرف کیا جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کہا کہ اس وقت امت مسلمہ کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے، ہر طرف سے دشمن موقع کے انتظار میں ہے ہم دشمنانِ اسلام کی پاکستان کے خلاف سازشوں کو اپنے اتحاد کے ذریعے ہی ناکام بناسکتے ہیں، تمام سیاسی و مذہبی قوتوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، اتحاد امت تحفظ ناموس رسالت کے لئے اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کریں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ آل پارٹیز کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرتے ہوئے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد حقائق سے آگاہ کریں گے۔ لہٰذا فوری طور پر راجہ ظفرالحق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اوپن کی جائے، ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں عہدوں سے ہٹایا جائے اور ملک و قوم کو بے چینی و اضطراب میں مبتلا کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ عام کی جائے اور جو لوگ ختم نبوت حلف نامہ میں براہِ راست ملوث ہیں، ان کا اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا استحقاق ختم ہوگیا ہے انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ آئندہ کے لئے یقین دہانی کرائی جائے کہ اس قسم کی سازشوں کا اعادہ نہیں کیا جائے گا، ان راہنماؤں نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام محکموں میں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کا علیحدہ ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے۔ شرکاء نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، اراکین پارلیمنٹ اور دیگر تمام احباب کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اصلاحاتی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو دوبارہ بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر