نوجوانوں کی ذہنی استعداد پر ہی ملک کی ترقی کا دارو مدار ہے ،سعدیہ راشد

نوجوانوں کی ذہنی استعداد پر ہی ملک کی ترقی کا دارو مدار ہے ،سعدیہ راشد

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کی معاشی، معاشرتی ترقی اور اقوام عالم میں اس کا احترام اس کی نوجوان افرادی قوت کی ذہنی ، علمی اور جسمانی استعداد پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ مصور پاکستان علامہ محمد اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں کو دیگر اقوام کے نوجوانوں سے مختلف اور بلند تر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے افکار عالیہ، اقوال زریں اور ان کی نصیحتوں کی مخاطب زیادہ تر نوجوان نسل ہی ہے۔ انہوں نے یہ باتیں ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی میں ’’مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے۔ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘ کے موضوع پرہمدرد نونہال اسمبلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقبال نوجوان نسل کو غیرت، حمیت، خودی اور خوداری جیسے اعلیٰ اوصاف کا حامل دیکھنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے پیارے قائد شہید حکیم محمد سعید بھی علامہ اقبال کی آرزوؤں میں موجود ایک مرد مومن کی اعلیٰ صفات کے حامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آج کی اس تقریب کا عنوان جو شعر ہے وہ علامہ کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال کے اپنے والد کو لکھے گئے خط کے جواب میں لکھی گئی ایک نصیحت آموز نظم کا حصہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے نونہالوں کو یہی نظم پڑھنے کی تاکید کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز دانشور ، صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی نے کہا کہ ادارہ ہمدرد کی مہربانی سے ایک صلاحیتوں سے بھرپور گفتگو سننے کو ملی ۔ بچوں کے درمیان تقریر کی ادائیگی کا ایک شاندار مقابلہ دیکھنے کو آیا یقیناًاقبال کے حوالے سے گفتگو کرنا وہ بھی ننھے منے بچوں کے لیے یہ بڑا کھٹن کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تقاریر سن کر صرف بچوں ہی کے نہیں بلکہ نوجوان، اساتذہ کے ذہنوں کو جھٹکے ضرور لگے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آخری مقررہ کی تقریر نے مجھے وہ نکتہ فراہم کر دیا جس کی میں تلاش میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بچی نے اپنی تقریر میں ایک جملہ جو میں ان ہی کے الفاظ میں دھراتا ہوں کہ ’’ہمیں خودی کا عرفان سمجھنے کی ضرورت ہے‘‘ کیا ہم خودی کو سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ تمام والدین اس تجربے سے گزرے ہوں گے جب بچہ اپنے طور پر بولنے یا چلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خود کہنے یا چلنے کی کوشش کرتا ہے یہ وہ احساس ہے جو فطرتاً ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ چیز ہر انسان میں ڈالی ہے اور یہیں سے اس کی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ جب آدمی دو پہیوں کی سائیکل سیکھتا ہے تو توازن بگڑنے کی وجہ سے باربار گرتا ہے مگر جب کوئی سائیکل سکھانے والا ہو اور وہ اس کی سائیکل کو پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ پیڈل مارو اور جب سائیکل سیکھنے والا پیڈل مارتا ہے اور سائیکل چلنے لگتی ہے تو وہ فوراً کہتا ہے کہ چھوڑ دو، چھوڑ دو میں خود چلا لوں گا مگر چھوڑنے پر ایک دو پیڈل مارنے کے بعد توازن بگڑنے پر گر جاتا ہے۔ انسان میں عجلت ہے ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی کام کسی کی مدد کے بغیر آزادانہ طور پر خود کر لیں یہی خودی کا پرتو اور خودی کا Reflection ہے جو ہماری زندگی میں پایا جاتا ہے۔ ہم اس طرح رفتہ رفتہ سیکھتے چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سیکھنے کا جو طریقہ زندگی میں اپناتے ہیں وہ طریقہ درست ہے کہ نہیں اگر وہ طریقہ درست ہے ، ہمیں راستہ دکھانے والے موجود ہیں تو ان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم سیکھنے کی کوشش کریں گے تو ہمارا سیکھنا بہتر ہو جائے گا اور ہم جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے لیکن اگر ہم نے ان مثالوں کو نظرانداز کیا ، ان بزرگوں کو نظرانداز کیا جو ہمارے لیے مشعل راہ ہو سکتے ہیں ، اپنے اساتذہ کی تربیت،نصیحتوں کو نظرانداز کیا تو اس بات کا امکان ہے کہ ہم اپنی منزل سے بھٹک جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وہ پیغام تھا جو اقبال نے اپنی اولاد کو دیا اور پوری قوم کو دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے بچوں سے کہا کہ جب ہم اپنے اسلاف کو بھول جاتے ہیں اور ان کے تجربوں سے فیض اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ہماری زندگی کھٹن ہو جاتی ہے۔ قائد ایوان حمنہ شکیل نے کہا کہ خودی اپنی ہی انا کا دوسرا نام ہے ۔ یہی خودی غیرت و حمیت کا مجسمہ بن کر یورپ کے کلیساؤں میں اللہ اکبر کی آوازیں بلند کرتی ہیں تو کہیں انگاروں پر لیٹ کے احد، احد کی آوازیں بلند کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ قائد حزب اختلاف ساجد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ زندگی آنی جانی اور فانی ہے، موت ہر بشر نے پانی ہے تو اتنی مختصر زندگی کو کیوں دنیاوی دولت کے حصول کی نظر کیا جائے، کیوں اپنی عزتِ نفس کا سودا کیا جائے۔ اس موقع پر بچوں نے ٹیبلوز اور دعائے سعید پیش کی۔ تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی نے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر