نوازشریف کیلئے قانونی راستے بند، نوازشریف بلی کی طرح جھپٹا مار کر سیاسی راستہ نکالنا چاہ رہے ہیں: سہیل وڑائچ

نوازشریف کیلئے قانونی راستے بند، نوازشریف بلی کی طرح جھپٹا مار کر سیاسی ...
نوازشریف کیلئے قانونی راستے بند، نوازشریف بلی کی طرح جھپٹا مار کر سیاسی راستہ نکالنا چاہ رہے ہیں: سہیل وڑائچ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے فیصلے کے بعد نوازشریف کیلئے قانونی راستے بند ہوچکے ہیں اب وہ بلی کی طرح پلٹ کر جھپٹا مار رہے ہیں تاکہ انہیں سیاسی طریقے سے کوئی راستہ مل جائے۔ نواز شریف کا ووٹر بالادست قوتوں کا پیروکار رہا ہے اس لیے اسے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑا کرنا محال ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ بلی کے جب تمام راستے بند کردیے جائیں اور اسے پنجرے کی طرف لے جایا جائے تو وہ جھپٹا مارتی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف بھی سمجھ رہے ہیں کہ قانونی طور پر انہیں ایک ایسے راستے کی طرف لے جایا جارہا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، اس لیے وہ جھپٹ کر وار کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کوئی راستہ ملے۔

نواز شریف بھی کسی اور کو خوش کرنے کیلئے کالا کوٹ پہن کر عدالت گئے، آپس کی لڑائیاں ملک کیلئے نیک فال نہیں : سہیل وڑائچ

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد نواز شریف کیلئے قانونی راستے تو بند ہوچکے ہیں اب وہ کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں سیاسی طریقے سے کوئی تازہ ہوا کا جھونکا ملے اس لیے وہ خود کو نظریہ ثابت کر رہے ہیں اور اشاروں کنایوں میں بات کر رہے ہیں۔

’مریم نواز جب جھوٹ بولتی ہیں تو ان کی ۔۔۔ ‘ لندن میں ن لیگ کی بیٹھک میں نواز شریف کو مریم کے بارے میں کیا بتایا گیا اور کیا فیصلے ہوئے؟ سہیل وڑائچ اندر کی تمام کہانی سامنے لے آئے

سہیل وڑائچ نے نواز شریف کے سیاسی پاور شوز کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی فلاسفی سب کو پتہ ہے، وہ مارکیٹ اکانومی کے آدمی ہیں اور کاروباری طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، کاروباری طبقہ پرو اسٹیبلشمنٹ ہوتا ہے اس لیے اسے اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ کے خلاف کھڑا کرنا مشکل کام ہے کیونکہ ان کا ووٹر اس سلسلے میں ٹرینڈ ہی نہیں ہے کیونکہ ان کا ووٹر تو ہمیشہ بالادست قوتوں کا ساتھی اور پیروکار رہا ہے، میاں نواز شریف مجبور ہیں اس لیے جلسے جلوسوں کے ذریعے راستہ بنانا چاہتے ہیں۔

مزید : لاہور