دیار رسول ﷺمیں بیتے ہوئے لمحات

دیار رسول ﷺمیں بیتے ہوئے لمحات

حصہ سوئم

ذرا سا آگے دو تین قدم پر سیدنا ابوبکر صدیقؓکی قبر مبارک ہے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں: (السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَابَکْرٍ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، رَضِيَ اللَّہُ عَنْکَ وَجَزَاکَ عَنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ خَیْرًا) پھر دو تین قدم آگے چل کر سیدنا عمر فاروقؓپر سلام ان الفاظ میں پیش کریں اور کہیں: (السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، رَضِيَ اللَّہُ عَنْکَ وَجَزَاکَ عَنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ خَیْرًا)

ہر مسلمان کے لیے اللہ کے رسولﷺپر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنا ضروری ‘ فرض اور بے شمار اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اس کی اہمیت وفضیلت واضح کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا إِنَّ اللَّہَ وَمَلَاءِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا ’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺپر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس نبی پرخوب درودوسلام بھیجا کرو۔‘‘ اس سلسلے میں اللہ کے رسول کی بڑی مشہور حدیث ہے کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا: ( مَنْ صَلَّی عَلَيَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ بِھَا عَشْرًا) ’’ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا‘ اس پر اللہ تعالیٰ دس مرتبہ رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘

حصہ دوئم پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مسجد نبوی کی اپنی ہی شان وعظمت ہے۔ یہ ان تین مساجد میں ایک ہے جن کی طرف ثواب کی نیت کر کے سفر کرنے کی اجازت ہے۔ ارشاد ہوا: ( لَا تُشَدُّ الرِّحاَلُ إِلاَّ إِلیَ ثَلاَثۃِ مَسَاجِدَ‘ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي ھٰذَا وَالْمَسْجِدِ الأَقْصٰی) ’’ اہتمام کے ساتھ سفر ان تین مساجد کے سوا کسی جگہ کے لیے نہ کیا جائے: مسجد حرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ۔‘‘

درود وسلام کی سعادت حاصل کرنے کے بعد باہر نکلا تو برطانیہ سے آئے ایک صاحب نے ہاتھ پکڑ لیا۔ ان کا حافظہ بڑا تیز تھا۔ کہنے لگے’’ میں نے آپ کو آج سے کوئی بیس سال قبل برطانیہ میں برمنگھم کی دعوت اسلامی کانفرنس میں دیکھا تھا۔ ان سے وہاں حالات کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی۔ وہ حجاج کا قافلہ لے کر آئے ہوئے تھے۔‘‘

اچانک میں نے موبائل پر ابو انس کے نمبر پر انگلی دبائی تو دیکھا کہ ان کا نمبر چل رہا تھا۔ ابو انس کہنے لگے’’ رات ہماری بس خراب ہو گئی تھی۔ ہم رات گئے مدینہ شریف پہنچے ہیں۔ میں روضہ کے سامنے ہی ایک ہوٹل کی لابی میں بیٹھا ہوں، آپ ابھی آجائیں‘‘

ابو تراب کہنے لگے’’ چلیے میں آپ کو ہوٹل چھوڑ آتا ہوں۔ مجھے اس کا محل وقوع معلوم ہے‘‘ چند منٹ کے بعد ہم ابو انس کو گلے لگا رہے تھے۔ قدرے چھوٹے قد کا خوبصورت نوجوان‘ آنکھوں میں بلا کی تیزی ‘ وہ ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے۔ لابی میں حجاج کا بے حد رش تھا۔ بیٹھنے کے لیے کوئی خالی جگہ نظر نہ آئی۔ ایک طرف ریسٹورنٹ والوں نے رسی لگا کر اپنے مہمانوں کے لیے جگہ بنا رکھی تھی۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ چلو کافی پیتے ہیں۔ بیٹھنے کے لیے جگہ بھی مل جائے گی اور بات بھی کر لیتے ہیں۔ ابو انس کہنے لگے’’ میں جرمنی سے ایک سو بیس حجاج کو لے کر آیا ہوں، میں ان کا مرشد دینی ہوں‘‘ قرآن پاک کے جرمنی ترجمہ کے حوالہ سے میٹنگ کامیاب رہی۔ میں ان پر اپنا نقطہ نظر واضح کرنے میں کامیاب ہو گیا اور انہیں اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کر لیا۔ اتنے میں ناشتہ آ گیا۔ میرا پسندیدہ ناشتہ‘ کپ چینو اور کروسینٹ، ابو انس کہنے لگے’’ جلدی کریں، ابھی آپ نے جرمن حجاج سے خطاب کرنا ہے‘‘ اس نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ باقی تین منٹ ہیں۔ اس دوران سارے لوگ لابی میں جمع ہو جائیں گے۔ کہنے لگا’’ جرمن قوم وقت کی بڑی پابند ہے‘‘ واقعی میں نے دیکھا کہ تمام حجاج عورتیں مرد ہوٹل کی لابی میں جمع ہو چکے تھے۔

ابو انس نے چھوٹا لاؤڈسپیکر اپنے ہاتھ میں لیا کہنے لگا’’ میں آپ لوگوں کی دنیا کے ممتاز پبلشرز دارالسلام کے مدیر عبدالمالک مجاہد سے ملاقات کروانا چاہتا ہوں‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے مائیک میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ کہنے لگا’’ اب آپ ہیں اور سامعین ہیں، جیسے چاہیں ان سے مخاطب ہوں‘‘ میری زندگی کے وہ لمحات بڑے ہی یادگار‘ اور فرحت بخش تھے جب میں جرمن قوم سے عربی میں مخاطب تھا۔ میری گفتگو کا ترجمہ ابو انس جرمن زبان میں کر رہے تھے۔ ان میں تیس نیو مسلم بھی تھے۔ ایک دو فیملیاں پاکستانی الاصل بھی تھیں۔ میں نے انہیں سلام پیش کرنے کے بعد حج کی مبارک باد پیش کی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کے حج کو حج مبرور بنائے۔ ان کے گناہوں کی مغفرت کرے اور اس کوشش کی اللہ تعالیٰ قدر فرمائے۔ تمام حجاج خوشی سے آمین کہہ رہے تھے۔ ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ جرمن حجاج سے مدینۃ الرسول میں خطاب کرنے کا موقع میری زندگی کے یادگارواقعات میں سے تھا۔ میں نے گفتگو ختم کی تو نیو مسلم حضرات نے آگے بڑھ بڑھ کر سلام پیش کیا۔ کتنے ہی ایسے تھے جنہوں نے گلے لگا کر اپنی محبتوں کا اظہار کیا۔ وقت بڑا مختصر تھا۔ سامنے بسیں اپنے مسافروں کا انتظار کر رہی تھیں۔ ابو انس جیسے نوجوان اسلام کا اور کسی بھی قوم کا بڑا قیمتی سرمایہ ہیں۔ مجھے ابو انس نے بتایا کہ وہ چار پانچ زبانوں میں بڑی اچھی تقریر کر لیتا ہے۔ دعوتی کاموں کے لیے مختلف ملکوں میں جاتا رہتا ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ وہ جورجیا کے ملک میں بھی دعوت کے کام کے لیے جاتا ہے۔ اسے ان کی مادری زبان پر عبور ہے۔ مجھے ایک مدت تک تجسس رہا کہ مسلمانوں نے جن عیسائیوں کے ساتھ کئی صدیوں تک جنگیں لڑیں وہ سلطان محمد بن فاتح کے استنبول کو فتح کرنے کے بعد کہاں چلے گئے، آیا انہوں نے اسلام قبول کر لیا؟ یہ درست ہے کہ ان کی اکثریت ماری گئی، مگر باقی کدھر گئے؟ خاصی جستجو کے بعد مجھے جواب ملا کہ وہ لوگ شکست سے دوچار ہونے کے بعد جورجیا منتقل ہو گئے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

ویسے جورجیا کی حدود ترکی کے ساتھ لگتی ہیں۔ ابو انس کے ساتھ طے ہو گیا کہ میں اکتوبر کے ماہ میں ان شا ء اللہ استنبول میں اس سے ملاقات کروں گا۔

ابو انس سے الوداعی معانقہ کر کے ہوٹل سے باہر نکلا تو بہاولپور کے ایک صاحب مل گئے۔ خوش ہو کر بتانے لگے’’ میں نے آپ کا پروگرام پیغام ٹی وی پر دیکھا ہے۔‘‘ وہ بھی حج کے لیے آئے ہوئے تھے۔ منیب کبریا اپنی گاڑی لیے ہوٹل کی نکر پر کھڑے تھے۔

اللہ کے رسولﷺ حدیث ہے کہ جو شخص اپنے گھر سے باوضو ہو کر مسجد قباء میں جائے تو اسے ایک عمرہ کا پورا ثواب ملتا ہے۔ اب مدینہ جائیں اور اس سعادت سے بہرہ ور نہ ہوں تو اسے بد قسمتی کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔

در اصل اللہ تعالیٰ بندوں کو معاف کرنے کے بہانے بناتے ہیں۔ بعض نیکیاں بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں‘ مگر ان کا اجرو ثواب بہت زیادہ ملتا ہے۔مسجد قبا مدینہ شہر سے زیادہ دور نہیں ، یہی کوئی پندرہ منٹ لگ جاتے ہوں گے۔ ہم مسجد میں پہنچے تو غیر معمولی رش نظر آیا۔ مسجد قبا میں چونکہ ہر شخص کو انفرادی نوافل پڑھنا ہوتے ہیں‘ اس لیے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ مسجد کا اگلا حصہ حجاج کرام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہم نے قدرے پیچھے دو نفل ادا کیے‘ دعا کی اور مسجد سے باہر آگئے۔

میں نے تو ناشتہ کر لیا تھا مگر گھر کے دوسرے افراد تو مسلسل عبادت میں مصروف تھے۔مدینہ کے ایک محلہ میں ایک خوبصورت پاکستانی ریسٹورنٹ پر لاہوری ناشتہ کیا۔ میں نے مدینۃ الرسول میں ایک ہی رات گزاری تھی ‘ مگر وقت بہت بھرپور گزرا۔ ہماری فلائٹ دوپہر ایک بجے کے قریب تھی۔منیب کبریاء نے ہمیں ائر پورٹ اتارااو رہم ریاض کے لیے رواں دواں تھے۔

(جاری ہے )

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...