ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 17

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 17
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 17

  

ہماری ادھوری کہانی۔ ۔ ۔

دھوپ کی وجہ سے ہم یہاں زیادہ دیر نہ رکے اور اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے ۔اب ہمیں حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار کی طرف جانا تھا۔مگر اس سے قبل پیری لوٹی کی پہاڑ ی سے شہر کا نظارہ بھی پروگرام میں شامل تھا۔ پیری لوٹی دراصل ایک فرانسیسی ناول نگار کا نام تھا جس نے جنگ بلقان، پہلی جنگ عظیم اور ترکوں کی جنگ آزادی میں ترکوں کی زبردست حمایت کی تھی۔ وہ کئی دفعہ استنبول آیا اور اسی علاقے میں قیام کیا تھا۔ اس کا پہلا ناول بھی استنبول ہی پر تھا۔ چنانچہ ترکی کی حکومت نے اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پہاڑ ی پر موجود کیفے کا نام اس کے نام پر رکھ دیا اور یہ پہاڑ ی اسی کے نام سے مشہور ہے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 16 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ پورا علاقہ حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار اور ان سے منسوب مسجد کی وجہ سے ایوب ڈسٹرکٹ ہی کہلاتا ہے ۔یہ گولڈن ہارن کی مشہور سمندری خلیج پر واقع ہے جو استنبول کی ایک پہچان ہے ۔ پیری لوٹی یہاں کی ایک بلند پہاڑ ی ہے جہاں سے گولڈن ہارن اور اس کے پارشہر کا نظارہ دور دور تک نظر آتا ہے ۔اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس پہاڑ ی تک پہنچنے کے لیے کیبل کار لگی ہوئی ہے ۔ ہم اسی کیبل کار کے ذریعے سے پہاڑ ی تک پہنچے ۔ یہاں شہر کا نظارہ کرنے کے لیے ایک جگہ بنی ہوئی تھی۔ یہاں سے ہم نے ایک خوبصورت ڈوبتی شام میں گولڈن ہارن کی سطح پر چلتی کشتیوں اور دور تک پھیلے شہر کو دیکھا۔ شام ڈھل گئی اور تاریکی پھیلنے لگی تو اس پھیلتے اندھیرے سے لڑ نے کے لیے رفتہ رفتہ شہر کی روشنیاں جگمگانا شروع ہوئیں ۔ان کا ساتھ دینے کے لیے آسمان کے جھلمل تارے بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے ۔ یہ منظرگویا کہ ایک طلسماتی منظر تھا۔بلندی سے دور تک کا نظارہ، کھلا آسمان، سمندرکا پانی ان میں سے ہر چیز انسان کو بہت اچھی لگتی ہے ۔پروردگار کی مہربانی تھی کہ اس نے ہم گنہ گاروں کے لیے یہ ساری چیزیں ایک ساتھ جمع کر دی تھیں ۔ ان مہربان لمحات میں اس حسین منظر نے ہمیں گویا کہ اپنا اسیر بنالیا تھا۔

مگر میری نظر بار بارآسمان سے پھسلتی ہوئی پہاڑ ی ڈھلوان کی طرف جا رہی تھی۔ یہاں ایک قبرستان تھا۔ ہر قبر اپنی خاموش زبان میں آج کے منکرین خدا وآخرت سے ایک ہی سوال کر رہی تھی۔ ایسا کیوں ہے سمندر اور دھرتی لاکھوں برس سے قائم و دائم ہیں ۔ آسمان اور ان پر موجود تارے اربوں سال کی زندگی پائیں ۔ اور ابن آدم۔ ۔ ۔ جو اس کائنات کی سب سے زیادہ بامعنی تخلیق ہے ۔ ۔ ۔ جو سوچتا، دیکھتا، سنتا اور کائنات کے جمال سے محظوظ ہوتا ہے ۔وہ بس چند برسوں کے بعد مر جاتا ۔ ۔ ۔ مٹی ہوجاتا ۔ ۔ ۔ فنا ہوجاتا ہے ۔ یہی اگر انسان کی آخری حقیقت ہے تو اس کائنات میں اس سے زیادہ بھونڈا مذاق کوئی اورنہیں ہو سکتا۔

پھر یہ انسان اگرشعور و فکر اور ذوق جمال ہی کاحامل ہوتو پھر بھی یہ بات گوارا کی جا سکتی ہے ، مگر یہ انسان ایک اخلاقی وجود ہے ۔ یہ خیر وشر کا مکمل شعور اپنے اندر رکھتا ہے ۔اس انسان کے پاس کائنات میں استثنائی طور پر یہ اختیار ہے کہ وہ ایک دائرے میں جو چاہے وہ عمل کرے ۔ یہ انسان ہی ہے جو اپنے سوئے اختیار سے کسی کی جان ، مال ، آبرو کو نقصان پہنچادیتا ہے ۔ یہ انسان ہی ہے جو سارے اختیار کے باوجود اپنے شر سے لوگوں کو بچاتا بلکہ ان کے لیے سراپا احسان اور ایثار بن جاتا ہے ۔

ایسی بامعنی خصوصیات کا حامل انسان اگر ایسی با مقصد کائنات میں رہ کر اس طرح بے معنی طور پر مرجائے تو اس سے زیادہ بے ہودہ بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری کہانی اِ س دنیا میں ادھوری ہے ۔ یہ کہانی مرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ اس کہانی کو پورا ہونا ہے ۔پیری لوٹی کی یہ حسین شام گواہی دے رہی تھی کہ ایک روز یہ ادھوی کہانی پوری ہو گی۔

یہ کائنات بے مقصد طور پر نہیں بنائی گئی۔ نہ اس میں موجود انسان اس طرح بے معنی طریقے پر مل کر ختم ہونے والے ہیں ۔ ایک دن آئے گا جب کائنات کا خالق اورمالک مرنے والوں کوزندہ کرے گا۔ جیسے مردہ زمین بارش کے بعد سبزے کو دوبارہ اگادیتی ہے ۔ پھر لوگوں سے ان کے اخلاقی اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ یہ کائنات ہمیشہ کے لیے صالحین کی بادشاہی میں دے دی جائے گی۔ اور بدکار جہنم کے کوڑ ا خانے میں جگہ پائیں گے ۔

ان دیکھا ایمان

خدا کا وجود علم، عقل اور فطرت کے پیمانوں پر اتنا زیادہ ثابت ہے کہ اس سے زیادہ ثابت اور کوئی چیز ہمارے علم میں نہیں ۔ میں نے اپنی زیرتصنیف کتاب ’’دلائل القرآن‘‘ میں ان سارے علمی، عقلی اور فطری دلائل کو جمع کر دیا ہے جو قرآن مجید اس حوالے سے پیش کرتا ہے اور جن کے بعد خدا کے انکار کی کوئی گنجائش کسی معقول آدمی کے پاس نہیں ۔ تاہم انسان کی یہ بنیادی کمزوری ہے کہ وہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے اصول پر زندگی گزارتا ہے ۔جبکہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے انسان کو جس امتحان می۔ں ڈالا ہے وہ یہی ہے کہ انسان کو بن دیکھے خدا کو ماننا اور اس کی عبادت کرنا ہے ۔ورنہ خدا جیسی بلند اور طاقتور ہستی کی حضوری میں عظیم اور طاقتور فرشتے لزرتے ہیں تو انسانوں کی کیا مجال ہے کہ وہ اس کے حضورچوں چراں کرسکے ۔

اس لیے اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہوتے ہوئے بھی انسانوں کے سامنے نہیں آتے ۔یہی وہ چیز ہے جس کا فائدہ اٹھا کر شیطان نے پچھلے زمانوں میں انسان کو شرک میں مبتلا کیا۔ انسان اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کی صرف اس لیے پرستش کرتا تھا کہ وہ نظر آتے تھے ۔دور حاضر میں شیطان نے انسان کی اسی کمزوری کی بنا پر الحاد کو پیدا کیا ہے کہ خدا ہوتا تو نظر آ جاتا ۔ کائنات کے غیر معمولی نظام کی وہ یہ توجیہ کرتے ہیں کہ یہ سب اسباب کی کارفرمائی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسباب بھی تو اللہ نے بنائے ہیں ۔ جواب ملتا ہے کہ یہ اتفاق کا نتیجہ ہے ۔ اس کے بعد یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ اتفاق وہ ہوتا ہے جو اتفاق سے ہوجائے ۔ یعنی ایک دو چیزیں غیر معمولی ہوجائیں تو وہ اتفاق کہلاتا ہے ۔جو غیرمعمولی چیزیں تواتر کے ساتھ اور ایک مقصد کے تحت سامنے آ رہی ہوں ، اس کو منصوبہ بندی کہتے ہیں ۔مذہب کی اصطلاح میں اس کو قدرت کہتے ہیں ۔ یہی وہ منصوبہ بندی اور علم و قدرت پر مبنی صناعی ہے جو اس کرہ ارضی پر ہر جگہ نظر آتی ہے ۔ یہ اگر اتفاق ہے تو بہتر ہو گاکہ ڈکشنری میں اتفاق اور منصوبہ بندی دونوں کی تعریف بدل دینی چاہیے ۔

میری اہلیہ، اسریٰ اور اوزگی اس منظر کو دیکھنے کے ساتھ آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ان تین خواتین کی باہمی گفتگو کی مہربانی کہ میں تنہا اس منظر کو دیکھنے کے قابل ہوا جہاں افق کے پار ایک دوسری دنیا اور اسباب کے پیچھے مسبب الاسباب کی ہستی نظر آ رہی تھی۔اس دنیا اور اس ہستی کا کچھ تذکرہ قارئین کی نذر بھی کر دیا۔(جاری ہے  )

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 18 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : سیرناتمام