کابل میں یورپی یونین کے مشن پر شراب فروشی کا الزام

کابل میں یورپی یونین کے مشن پر شراب فروشی کا الزام
کابل میں یورپی یونین کے مشن پر شراب فروشی کا الزام

لندن(صباح نیوز)برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر کابل میں یورپی یونین کے مشن کی عمارت سے غیر قانونی طور پر شراب لے جائی گئی اور بلیک مارکیٹ پر بیچی گئی۔

’میں جہاز میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک سیٹوں کے درمیان سے یہ چیز نکلی اور۔۔۔‘ خاتون مسافر کے ساتھ دوران پرواز ایسا شرمناک ترین واقعہ پیش آگیا کہ جان کر خواتین جہاز میں بیٹھنے سے ہی گھبرانے لگیں

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں شراب نوشی ممنوع ہے تاہم غیر قانونی طور پر اس کی خرید و فروخت عام ہے۔افغانستان میں سفارتی مشنز کو اپنے غیر ملکی عملے کے لیے شراب کی درآمد کی اجازت ہوتی ہے۔ یورپی یونین کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل میں یورپی یونین کے مشن کو ان الزامات کا اگست کے آخر میں پتا چلا اور انھوں نے فوراً یورپی انسدادِ بدعنوانی کے دفتر (اولاف) کو مطلع کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اس حوالے سے ممکنہ بدعنوانی کے بارے انتہائی سنجیدہ ردِعمل ظاہر کرے گی۔تاہم (اولاف) ان الزامات کی جانچ پڑتال کر رہا ہے تاہم باضابطہ تحقیقات شروع نہیں کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان میں شمالی کوریا کے سفارت کار کے مکان پر ہونے والی ایک چوری نے ان شبہات کو جنم دیا تھا کہ آیا وہ خفیہ طور پر بڑے پیمانے پر شراب فروشی کا کاروبار کر رہے تھے یا پھر بہت زیادہ شراب نوشی کرتے ہیں۔ ان شبہات کی وجہ وہسکی، بیئر اور وائن کی چوری ہونے والی بوتلوں کی تعداد ہے جو کہ ہزاروں میں ہے۔اگرچہ سفارت کاروں کو ذاتی استعمال کے لیے شراب خریدنے کی اجازت ہے جس کے لیے انھیں ایک مخصوص کوٹہ دیا جاتا ہے لیکن شبہ ہے کہ اس کوٹے سے حاصل کردہ کچھ شراب غیر قانونی طور پر بازار میں فروخت بھی کر دی جاتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...