پولیٹیکل پارٹیزایکٹ 1962 میں نافذکیاگیا، پرویزمشرف نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کا سیاست سے باہر رکھنے کے لئے نااہلی کی شق آئین میں شامل کی: زاہد حامد

پولیٹیکل پارٹیزایکٹ 1962 میں نافذکیاگیا، پرویزمشرف نے بے نظیر بھٹو اور نواز ...
پولیٹیکل پارٹیزایکٹ 1962 میں نافذکیاگیا، پرویزمشرف نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کا سیاست سے باہر رکھنے کے لئے نااہلی کی شق آئین میں شامل کی: زاہد حامد

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پولیٹکل پارٹیز ایکٹ نیا نہیں ہے بلکہ یہ ایکٹ1962ءمیں نافذ کیا گیا ، بھٹودورمیں ایوب خان دورکی پولیٹیکل پارٹیزایکٹ شق 1975میں نکال دی گئی اور سابق صدر پرویز مشرف نے نا اہلی والی شق آئین میں شامل کی ، کیونکہ وہ سابق صدر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھنا چاہتے تھے، پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس ہاﺅس میں پیش ہوا لیکن کسی نے اس پر اعتراص نہیں کیا، تمام سیاسی جماعتوں کے ممبران نے اس بل کی حمایت کی تھی ، بل ایوان میں منظورہواسینیٹ سے منظورہواتوکسی نے اعتراض نہ کیااور جب یہ دیکھا گیا کہ اس کا فائدہ نواز شریف کو ہوگا تو انہوں نے اس کے خلاف ترمیم جمع کرادی ۔

قانون میں شرط تھی نااہل شخص سیاسی جماعت کاسربراہ نہیں بن سکتا،اس شرط کو الیکشن ایکٹ کے ذریعے ختم کردیا گیا:شاہ محمود قریشی

قومی اسمبلی میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بل پیش کیا گیا، اس بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کوپارٹی کی سربراہی سے باہر رکھنے کے لئے پولیٹکل پارٹی ایکٹ میں نا اہلی کی شق شامل کی جبکہ پارلیمنٹ کی سب کمیٹی نے 17نومبر 2014کو اس شق کو نکالنے کی منظوری دی تھی ۔ پارلیمنٹ کی سب کمیٹی میں فاروق نائیک،نویدقمر،شازیہ مری،ایس اے قادری،انوشے رحمان اورزاہدحامد موجود تھے۔یہ بل یہاں ہاو¿س میں پیش ہوا کسی نے اعتراض نہیں کیا،سینیٹ میں جس دن یہ بل پاس ہوناتھا اس دن مخالفت کردی گئی جبکہ سینٹ کی سب کمیٹی میں ڈیڑھ سال پہلے منظور کیا گیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوید قمر اور عارف علوی نے کہا تھا کہ موازنہ کر ادیں ، جس کے بعد قومی اسمبلی کی سب کمیٹی کو پہلے اورموجودہ قانون کا موازنہ بھی انہیں پیش کیاای میل رکارڈموجود ہے،مرکزی کمیٹی میں شامل کرکے رپورٹ شائع کی گئی۔

مزید : قومی /اہم خبریں