ملک کی بڑی روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے تحریک لبیک کے دھرنے کی حمایت کا اعلان کر دیا ،زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ درست،حکومت نے کوئی سخت اقدام اٹھایا تو ملکی سلامتی کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا :پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی

ملک کی بڑی روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے تحریک لبیک کے دھرنے کی حمایت کا ...
ملک کی بڑی روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے تحریک لبیک کے دھرنے کی حمایت کا اعلان کر دیا ،زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ درست،حکومت نے کوئی سخت اقدام اٹھایا تو ملکی سلامتی کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا :پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک لبیک یارسول اللہ اور دیگر مذہبی جماعتوں کے فیض آباد میں جاری دھرنے کو بڑی کامیابی اور حکومت کے لئے شدید مشکلات پیدا ہو گیں ہیں،ملک کی سب سے بڑی اور مشہور روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے دھرنے کی کھل کر حمایت اور حکومت کو سخت ترین وارننگ دے دی،زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ درست ،منظوری تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو درپیش آنے والی تکلیفیں صبر کے ساتھ برداشت کرنا ہوں گی ،حکومت نے شرکائے دھرنا کے خلاف کوئی سخت یا غیر اخلاقی قدم اٹھایا تو ملکی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا ،زاہد حامد کی جان کو خطرہ ہے تو ریاست انہیں تحفظ فراہم کرے ۔

یہ بھی پڑھیں:نوازشریف کے خلاف سازشیں کرنے والوں کوشکست ہوئی،1973کے آئین کی نکالی گئی شقیں بحال کی گئیں:مریم اورنگزیب

تفصیلات کے مطابق درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کے گدی نشین پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی قادری نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین پیر محمد افضل قادری ،پیر سید محمد حماد الدین جامی گیلانی سمیت دیگر علماء و مشائخ کے ساتھ گولڑہ شریف میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوتﷺ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، اس کی حفاظت کے لئے ہم اپنی جانوں کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں، دھرنے کے پیچھے فوج ہے اور نہ ہی کوئی اور سیاسی قوت ،دھرنے کے پیچھے فوج ہوتی تو ہم وزیر قانون نہیں حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے ،اس ملک کی بقا نبی کریم ﷺ سے وفاداری اور محبت کے ساتھ مشروط ہے ،یہاں ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جو نبی کریم ﷺ کی ناموس اور عظمت کے خلاف ہو،آج بھی پچاس سے زائد سجادہ نشینوں کے مجھ سے رابطے ہوئے ہیں ، لیکن ابھی کوئی واضح لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ،یہ سیاسی دھرنا نہیں ہے ،اس دھرنے میں بیٹھنے والے نبی کریم ﷺ کے دیوانے اور پروانے ہیں ، میں حکومت کو تنبیہ کرتا ہوں کہ شرکائے دھرنا کے خلاف اپنے کسی مذموم ارادے سے باز رہے ،اگر حکومت نے کوئی ایسا اقدام کیا تو پھر حکومت یہ یقین رکھے کہ یہ جو تعداد اس وقت فیض آباد میں ہے یہ اہلسنت کی ایک فیصد تعداد بھی نہیں ،ابھی پوری کی پوری اہلسنت اپنے گھروں میں اس آس پر بیٹھے ہیں کہ شرکائے دھرنا کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی اور حکومت ان کی بات مانے گی۔انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ مجھے کسی’’ خاص شخصیت ‘‘ نے اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے رضا مند کیا ہے ،وہ غلط ہے ،میں نے بطور ایک مسلمان اور بحثیت پاکستانی اس حساس معاملے اپنا کردار اداکرنا مناسب سمجھا ہے، میں حکومت اور تحریک لبیک کی قیادت کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر متحرک ہوا ہوں ،میں نے حکومت سے بات کی ہے اور حکومتی جماعت کی  اعلیٰ قیادت سے بھی بات کی ہے،اُنہوں نے مجھے یقین دلایا  ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :قانون میں شرط تھی نااہل شخص سیاسی جماعت کاسربراہ نہیں بن سکتا،اس شرط کو الیکشن ایکٹ کے ذریعے ختم کردیا گیا:شاہ محمود قریشی

پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی کا کہنا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے جو رپورٹ مرتب کی ہے اس رپورٹ کو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا ،ہمارا سب سے پہلے یہ مطالبہ ہے کہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے کیونکہ اس میں ذمہ دار شخصیات کا ذکر ہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ ان اشخاص کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ پتا چلا کہ ان شخصیات کے پیچھے کوئی خاص لابی ہے یا کوئی خاص پارٹی ؟کیونکہ اگر اس کے پیچھے کوئی خاص پارٹی ہے تو آئندہ اس ملک کے عوام یہ سمجھ کر ووٹ دیں کہ وہ ختم نبوت کے منکرین کو ووٹ دے رہے ہیں یا محافظین کو ووٹ دے رہے ہیں؟ دوسرا ہم حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ اس دھرنے کے ساتھ کوئی ایسا غیر اخلاقی حرکت اور رویہ نہ رکھا جائے اور ان پر کوئی تشدد نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری درگاہ کا عقیدہ تحفظ  ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے بڑا ممتاز اور مضبوط مقام ہے ،میں اور میرے ساتھ میرے تمام اہل خاندان ، اہل خانہ بالخصوص صاحب سجادہ نشین پیر طریقت سید غلام حسام الدین گیلانی ، میرے بھائی سید غلام محی الدین گیلانی ،پیر سید حماد الدین گیلانی ،سمیت ہم اپنے متعلقین اور متوسلین کو پیغام دیتے ہیں کہ ختم نبوت ﷺ اور ملکی سلامتی کے اس محاذ پر تیار رہیں لیکن وہ پر امن اور جس وقت  تک کوئی واضح اعلان نہیں ہوتا وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری خانقاہ کبھی کسی سیاسی مقاصد کے لئے دیئے جانے والے لانگ مارچ یا دھرنے میں ملوث نہیں رہی ،ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا سیاسی تھا اور  اس کے پیچھے کوئی دینی مقاصد نہیں تھے اس لئے ہم نے چار سال پہلے ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے دیئے جانے والے دھرنے سے پریس کانفرنس کر کے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا لیکن یہ دھرنا صرف ختم نبوت ﷺ کے لئے ہے اس لئے ہم اس دھرنے کے ساتھ کھڑے ہیں اورکھڑے رہیں گے۔

انہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں لیکن اس سے پہلے وہ  مسلمان ہیں ،آپ اس چیز کا یقین رکھیں کہ ہم جلد از جلد حکومت اور قائدین تحریک لبیک کے درمیان سمجھوتہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جلد ہی کوئی نہ کوئی خوشخبری مل جائے گی ،دھرنے کی وجہ سے روالپنڈی اور اسلام آباد کے لوگ جو تکلیفیں اور مصائب برداشت کر رہے ہیں یہ ان کے لئے دنیا و آخرت کے لئے سرخروئی کا سبب بنے گا ،حکومت کی طرف  سے ہمیں مطمئن کیا جائے تو پھر اس دھرنے کا کوئی وجود نہیں ہو گا ،اگر آٹھ لاکھ افراد کی تکالیف کو سامنے رکھتے ہوئے دھرنا ختم کیا گیا تو کیا ضمانت ہے کے کہ ملک کے 20کروڑ مسلمانوں کے لئے عقیدہ ختم نبوت ﷺ  کے حوالے سے خطرات نہیں بنیں گے؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مشائخ اور خانقاہیں کسی دہشت گرد کے ساتھ نہیں اور نہ ہی  یہ دہشت گرد تنظیموں کا مرکز ہیں ،ہم غیر مسلح افراد ہیں اور ہمارے دین کے ساتھ دہشت گردوں کا کوئی تعلق نہیں،ہم اپنے عقائد کے تحفظ کے لئے میدان میں نکلے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب دھرنے کے سٹیج سے غیر اخلاقی گفتگو کرنے والے سے مائیک لے لیا جائے گا ،اگر وزیر قانون معافی مانگ رہے ہیں تو اس سے ہمارا موقف اور مضبوط ہو جاتا ہے ،ہمارا مطالبہ اس لئے ہے کہ اس حساس مسئلے میں آئندہ کے لئے مثال قائم ہو جائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زاہد حامد کی جان کو خطرہ ہم سے نہیں بلکہ ملک دشمن عناصر سے ہو سکتا ہے ،اگر انہیں مستعفی ہونے کے بعد جان کا خطرہ لاحق ہو تو پھر ریاست پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔

یہ بھی پڑھیں :عوام کو طاقت دینے کی بات ہو تو یہ ایوان خالی ہوتا ہے،آج ایک شخص کے لئے ہاوس فل ہونا شرمناک ہے:ڈاکٹر عذرا فضل پیجو

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیر محمد افضل  قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم نے ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی ہے ،وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ ہمارا مطالبہ ہے ،اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ،ختم نبوت ﷺ قانون میں سوچی سمجھی سازش کے تحت تبدیلیاں کی گئیں اگر چہ ان تبدیلیوں کو درست کر دیا گیا تاہم جنہوں نے یہ سازش کی وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں،ہم نے چھوٹا سا مطالبہ رکھا اگر بڑا مطالبہ کرتے تو پھر ہم حکومت ،سینیٹ اور سٹیڈنگ کمیٹی کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ،حکومت ہمارے مطالبے پر لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ،پنڈی اسلام آباد کے لوگوں کو تکلیف ہماری نہیں حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، ہم نے ایک چھوٹا سے مطالبہ رکھا کہ تاکہ آئندہ کے لئے تنبیہ ہو جائے اور کوئی قانون ختم نبوت ﷺ کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنے کی جرآت نہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے وزیر قانون سے استعفیٰ نہ لینے پرپورے ملک کے مسلمانوں اور  دینی جماعتوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں ،بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک وزیر کے لئے محمد عربی ﷺ کے غلاموں اور پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کے خلاف آپریشن کے لئے رینجرز اور ایف سی ایسے لائی گئی ہے جیسے یہاں کوئی ملک دشمن بیٹھے ہوئے ہیں ،یہاں بیٹھے ہوئے لوگ تو قطب اولیا پیر مہر علی شاہ کی اولاد میں سے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب ہمیں علمائے دیوبند ،اہل تشیع ،اہل حدیث ،جماعت اسلامی سمیت ملک کی تمام مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گئی ہے ،گولڑہ شریف سمیت ملک کی تمام بڑی گدیوں کی اس دھرنے کی حمایت حاصل ہے ، ہم ایک جائز مطالبہ لے کر یہاں بیٹھے ہیں ،اگر ہم پر  حملہ ہوا تو اسکا رزلٹ کیا ہو گا ؟یہ کوئی سیاسی لوگ تو ہیں نہیں کہ بھاگ جائیں گے ،یہاں بیٹھے ہوئے لوگ ختم نبوت ﷺ کے جذبے سے سرشار ہیں ،انہیں اپنی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ،اب تو  اس دھرنے کو گولڑہ شریف کی بھی حمایت حاصل ہو گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا 5دس ہزار لوگوں کا نہیں بلکہ ملک بھر کے کروڑوں مسلمانوں کا ہے ،اگر یہاں پر حملہ ہوا اور شہادتیں ہوئیں تو وہ بھی ہزاروں میں ہوں گی ،اگر آپریشن ہوا تو پھر ملک میں کیا ہو گا ؟تو کیا یہ حکومت رہے ؟کیا اس ملک میں پھر امن و امان رہے گا ؟بنیادی طور پر وزیر قانون ہی اس مسئلے کا ذمہ دار ہے ،حکومت اگر ہماری جائز بات مان لیتی تو راستے بند نہ ہوتے ،پوری دنیا کے مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح ہو رہے ہیں ،ہم تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وزیر قانون مستعفی ہو جائیں اور تحقیقات میں اگر بے گناہ ثابت ہوئے تو دوبارہ اپنے عہدے پر واپس آ جائیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں