مشکل وقت میں ہمارے عقیدے نے ہمیں طاقت دی اور ہم اس ابتلاءسے نکلنے میں کامیاب ہوئے: کیتلان

مشکل وقت میں ہمارے عقیدے نے ہمیں طاقت دی اور ہم اس ابتلاءسے نکلنے میں کامیاب ...
مشکل وقت میں ہمارے عقیدے نے ہمیں طاقت دی اور ہم اس ابتلاءسے نکلنے میں کامیاب ہوئے: کیتلان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں پانچ سال کی قید کے بعد پاک فوج کی جانب سے رہا کروائے گئے کینیڈین امریکی جوڑے نے کچھ دن کی خاموشی کے بعد اب ایک انٹرویو میں کچھ ایسی باتیں کہہ دی ہیں کہ مغربی میڈیا میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔

جاشوا بوئل اور کیتلان بوئل نامی اس جوڑے کو اکتوبر 2012ءمیں افغانستان میں طالبان نے اغواءکر لیا تھا۔ گزشتہ ماہ انہیں پاکستانی فورسز نے امریکہ کی دی گئی انٹیلی جنس معلومات کے نتیجے میں رہا کروایا۔ نیوز چینل اے بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں جاشوا بوئل نے انکشاف کیا کہ ان کی اہلیہ کو ان کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا، جس پر کیتلان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جاشوا جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے۔

کیتلان کے حجاب کے حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسلام قبول کر چکی ہیں، تو وہ کہنے لگیں ”مشکل وقت میں ہمارے عقیدے نے ہمیں طاقت دی اور ہم اس ابتلاءسے نکلنے میں کامیاب ہوئے،“ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ان کا عقیدہ کیا ہے۔

کیتلان نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا ”میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔ ایک دن وہ ہمارے پاس آئے اور جاشوا کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ ان میں سے ایک گارڈ نے مجھے زمین پر گرایا اور میری عصمت دری شروع کردی۔ اس کے بعد دوسرا گارڈ بھی اس کے ساتھ شامل ہوگیا اور پھر تیسرا جو دروازے پر موجود تھا وہ بھی میری عصمت دری کرنے لگا۔ وہ ایسے وحشی تھے کہ میری عزت پامال کرنے کے بعد مجھے میرا لباس بھی واپس نہیں کرتے تھے۔

جس وادی میں ہمیں رکھا گیا تھا ایک دن اس پر حملہ ہوگیا۔ یہ حملہ دو ہیلی کاپٹروں نے کیا تھا جب کہ بندوقوں سے بھی بہت زیادہ فائرنگ ہوئی تھی اور کچھ دھماکے بھی ہوئے تھے۔ ہمارے گارڈ بہت خوفزدہ ہوگئے تھے اور وہ چھپ گئے تھے۔ میں اور میرا خاوند دعا کررہے تھے کہ وہ اس حملے میں زندہ نہ بچیں۔ ان کے لئے یہ بہت ہی برا دن رہا لیکن ہمارے لئے یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ خدا مظلوموں کی دعائیں سنتا ہے۔“

جاشوا نے مزید بتایا کہ ”سفاک گارڈ اکثر ہمارے بچوں پر بھی تشدد کرتے تھے۔ وہ کئی بار ہمارے بڑے بیٹے پر لاٹھیوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے۔ کیتلان اور میں اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے ان کے ساتھ لڑ پڑتے تھے۔ ایک بار تو کیتلان نے اسی کوشش میں اپنے ہاتھ کی ہڈیاں تڑوالی تھیں۔ اس نے ایک گارڈ کو اتنے زور سے مکا مارا کہ اس کی اپنی ہی انگلیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ اسے ہمیشہ اس چوٹ پر بڑا فخر رہا ہے، کیونکہ اس نے اپنے بیٹے کا تحفظ کرتے ہوئے یہ چوٹ کھائی۔“

مزید : بین الاقوامی