’جو خواتین حمل کے دوران اس پوزیشن میں سوتی ہیں ان کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش کا خطرہ دگنا ہوتا ہے‘ سائنسدانوں نے خبردار کردیا

’جو خواتین حمل کے دوران اس پوزیشن میں سوتی ہیں ان کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش ...

مانچسٹر(نیوز ڈیسک) برطانیہ میں حاملہ خواتین پر کی گئی ایک تازہ ترین تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ حمل کے آخری تین ماہ میں کمر کے بل سونے والی خواتین کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش کا خدشہ دو گنا ہوتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خواتین حمل کے آخری تین ماہ میں سیدھا لیٹنے کی بجائے کروٹ لے کر لیٹیں تو مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں تقریباً 3.7 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے کی گئی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ حاملہ ماں کے سیدھا لیٹنے کی صورت میں بچے کے دل کی دھڑکن سست پڑسکتی ہے جو بچے کے لئے موت کا سبب بن سکتی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق حالیہ تحقیق مانچسٹر کے سینٹ میری ہسپتال کے ’ٹومیز سٹل برتھ ریسرچ سنٹر‘ کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان پروفیسر الیگزینڈر ہیزل کا کہنا تھا ”برطانیہ میں ہر روز تقریباً 11 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔ والدین عموماً یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں بچے کے مردہ پیدا ہونے کی وجہ معلوم ہو تاکہ وہ آئندہ احتیاط سے کام لے سکیں۔ حالیہ دریافت اس حوالے سے بہت اہم ہے کیونکہ والدین کو بتایا جا سکتا ہے کہ کس طرح وہ اپنے بچے کی صحت اور سلامتی کو یقینی بناسکتے ہیں۔“

حاملہ خواتین اگر ”پیراسٹامول“ دوائی کھائیں تو بچوں کو کون سی بیماری ہونے کا خدشہ ہوتا ہے؟ ڈاکٹروں نے انتہائی اہم بات بتادی

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کروٹ لے کر سونے میں آسانی پیدا کرنے کے لئے اپنی کمر کے پیچھے تکیے رکھ سکتی ہیں۔ اگر وہ رات کے وقت وہ بیدار ہوں اور سیدھی لیٹی ہوں تو انہیں کروٹ لے کر لیٹ جانا چاہیے۔ اسی طرح دن کے وقت بھی آرام کریں تو کوشش کریں کہ سیدھا لیٹنے کی بجائے کروٹ لے کر لیٹیں۔

حالیہ تحقیق کے دوران کل 1024 حاملہ خواتین کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔ ان میں سے 291 کے ہاں حمل کے ساتویں ماہ یا اس کے بعد بچے کی مردہ پیدائش ہوئی۔ ان تمام خواتین سے ان کے سونے کے انداز اور عادات کے بارے میں معلومات جمع کی گئی تھیں ، جس کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمر کے بل سونے والی خواتین کے ہاں بچے کے مردہ پیداہونے کا خدشہ تقریباً دو گنا ہو جاتا ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے برٹش جرنل آف ابٹیٹرکس اینڈ گائنا کالوجی (British Joural of Obstetrics and Gynaecology) میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...