چار سال قبل دوران پرواز لاپتہ ہونے والے جہاز کا پائلٹ اچانک منظر عام پر، اتنا عرصہ کہاں گم رہا؟ ایسی تفصیلات کہ جان کر آپ کے واقعی اوسان خطا ہوجائیں گے

چار سال قبل دوران پرواز لاپتہ ہونے والے جہاز کا پائلٹ اچانک منظر عام پر، اتنا ...
چار سال قبل دوران پرواز لاپتہ ہونے والے جہاز کا پائلٹ اچانک منظر عام پر، اتنا عرصہ کہاں گم رہا؟ ایسی تفصیلات کہ جان کر آپ کے واقعی اوسان خطا ہوجائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)چار سال قبل افریقہ میں دوران پرواز پراسرارطور پر لاپتہ ہوجانے والے طیارے کے امریکی پائلٹ کے اہلخانہ جب رو پیٹ کر چپ ہو بیٹھے تھے تو اب اچانک ایسی خبر موصول ہو گئی ہے کہ ان کے لئے اپنی خوش قسمتی پر یقین کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق امریکی پائلٹ جیری کراس 7اپریل 2013ء کے روز جنوبی افریقہ سے اُڑان بھر کر افریقی ملک مالے کے لئے روانہ ہوئے تھے لیکن وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے۔ ان کی جانب سے آخری میسج ساؤ ٹوم جزیرے پر واقع کنٹرول ٹاور کو موصول ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ساحل سے 9میل کی دوری پر ہیں۔ اس کے بعد ان کی جانب سے کوئی میسج موصول نہ ہوا۔

گزشتہ ہفتے جیری کے اہلخانہ کو ایک ای میل موصول ہوئی ہے، جو ان کے خیال میں ایک سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکار کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔ اس ای میل میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ جیری زندہ سلامت ہے اور افریقہ میں ہے۔ جیری کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں دی گئی معلومات کی بناء پر خدشہ ہے کہ جیری کو افریقہ میں کسی ایسے گینگ نے اسیر بنا رکھا ہے جو ان سے ہوائی جہازوں کے ذریعے اسلحہ سمگل کرواتا ہے۔

جیری کے لاپتہ ہونے پر ان کی بہت تلاش کی گئی لیکن نہ ہی طیارے کا ملبہ ملا اور نہ ہی کہیں سے بلیک باکس ملنے کی کوئی اطلاع ملی۔ ائیرکرافٹ انویسٹی گیٹر فل شلینر کی مدد بھی حاصل کی گئی تاکہ جیری کی پرواز کے راستے کا تعین کیا جاسکے اور طیارے کو پیش آنے والے کسی ممکنہ حادثے کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شلینر کا کہنا تھا کہ انہیں 99فیصد یقین تھا کہ جیری کا طیارہ خلیج گنی میں کسی جگہ گر کر تباہ ہوا لیکن اس علاقے میں بھی کہیں ملبہ تلاش نہیں کیا جاسکا۔

جیری کے خاندان نے بعدازاں مشہور پرائیویٹ سراغ رساں لوگن کلارک سے رابطہ کیا جس نے امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون میں موجود اپنے ذرائع سے رابطہ کیا۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ حکام کے پاس جیری کے بارے میں معلومات موجود ہیں لیکن انہیں ظاہر نہیں کیا جارہا۔ بعدازاں ایک سینیٹر اور ایک رکن کانگریس نے بھی امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس معاملے پر رابطہ کیا لیکن انہیں بھی کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

جیری کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جس شخص کی جانب سے ای میل موصول ہوئی ہے وہ سابق انٹیلی جنس اہلکار ہے لیکن وہ اس کا نام ظاہرنہیں کرنا چاہتے۔ اس کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کرکے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی لیکن اسے منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ای میل بھیجنے والے سابق انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے جیری کو زندہ سلامت دیکھا ہے جبکہ اس نے جلد ہی مزید تفصیلات دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس