مردانہ اعضاء سے بنا دنیا کا شرمناک ترین پارک، یہ کس کنواری لڑکی کی روح کو خوش کرنے کے لئے بنایا گیا ہے؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کوئی ایسا بھی کرسکتا ہے

مردانہ اعضاء سے بنا دنیا کا شرمناک ترین پارک، یہ کس کنواری لڑکی کی روح کو خوش ...
مردانہ اعضاء سے بنا دنیا کا شرمناک ترین پارک، یہ کس کنواری لڑکی کی روح کو خوش کرنے کے لئے بنایا گیا ہے؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کوئی ایسا بھی کرسکتا ہے

  

سیول(نیوز ڈیسک) آپ دنیا میں جہاں چاہیں سیرو تفریح کے لئے چلے جائیں لیکن کبھی بھول کر بھی جنوبی کوریا کے ہائسن ڈینگ پارک کا رخ نا کریں، چاہے کوئی جتنا بھی اصرار کر لے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پارک میں جدھر نگاہ اٹھائیں سامنے ایسا منظر دکھائی دیتا ہے کہ مضبوط ترین اعصاب کا مالک انسان بھی کانپ اٹھتا ہے۔ 

نیوز ویب سائٹ ’دی مرر‘ کے مطابق بے حیائی کی عجیب و غریب مثال یہ پارک ایک ساحلی گاؤں سینام کے قریب واقع ہے اور اس میں مردانہ جنسی اعضاء کے 300 سے زائد مجسمے نصب ہیں۔ ایک مقامی لوک داستان کے مطابق قدیم زمانے میں ایک ملاح اپنی نوجوان منگیتر کو ایک ساحلی چٹان پر چھوڑ کر مچھلیاں پکڑنے گیا اور پھر کبھی واپس نا آیا۔لڑکی وہیں منتظر رہی حتٰی کہ لہریں اسے بھی بہا لے گئیں۔ مقامی لوگ اسے ’کنواری دلہن‘ کہتے ہیں اور قصہ مشہور ہے کہ اس کی روح ساحل پر بھٹکتی رہتی تھی۔ داستان کے مطابق لڑکی کی روح نے ساحلی علاقے سے مچھلیوں کو بھی بھگا دیا جس کے بعد مچھیرے بھوکے مرنے لگے۔ بالآخر اس بے قرار روح کی تسکین کے لئے مچھیروں نے ایک جگہ مردانہ اعضاء کے مجسمے بنانے شروع کر دیئے، اور تب کہیں جا کر ان کی آزمائش ختم ہوئی۔ بعد ازاں یہ جگہ ایک بڑے پارک کی صورت اختیار کر گئی۔

اس پارک میں ہر ڈیزائن اور جسامت کے جنسی مجسمے ہیں اور ان میں سے کئی تو خوفناک حد تک بڑے ہیں۔ اکثر مجسمے پتھر کے بنے ہوئے ہیں لیکن کچھ لکڑی کے بھی ہیں۔ صرف مجسمے ہی نہیں بلکہ یہاں کئی اقسام کے جانوروں کے حقیقی جنسی اعضاء بھی حنوط کر کے رکھے گئے ہیں۔ ان میں گھوڑے، ریچھ اور کتے جیسے جانوروں کے اعضاء بھی شامل ہیں۔

اس پارک کا باقاعدہ افتتاح 2007ء میں کیا گیا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں انسانی جنسی اعضاء کے مجسموں کادنیا بھر میں سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہاں ہر سال ہزاروں سیاح آتے ہیں جن میں سے 60 فیصد سے زائد خواتین ہوتی ہیں۔ پارک کے ایک کونے میں گفٹ شاپ بھی ہے، لیکن یقیناًآپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہاں گفٹ کے طور پر کیا بیچا جاتا ہو گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس