اجتماعی زیادتی کے بعد بچی قتل، دھمکیوں پر ورثاءگھر چھوڑ گئے

اجتماعی زیادتی کے بعد بچی قتل، دھمکیوں پر ورثاءگھر چھوڑ گئے
اجتماعی زیادتی کے بعد بچی قتل، دھمکیوں پر ورثاءگھر چھوڑ گئے

  

پاکپتن (ویب ڈیسک) اجتماعی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل ہونےو الی پانچ سالہ کمسن بچی کے ورثاءتاحال انصاف کے طلبگار ہیں،  خادم اعلیٰ کے حکم پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کمیٹی بھی سست نکلی جو  تین ماہ بعد بھی رپورٹ مکمل نہ کرسکی ، ورثاءکو مرکزی ملزم حیدر شاہ کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں جس کے بعد متاثرہ خاندان گھر بار چھوڑ قبولہ سے پاکپتن پناہ لینے پرمجبور ہوگیا۔

 پاکپتن کے نواحی علاقہ قبولہ میں 13 اگست کو  بااثر شخص حیدری شاہ کے ملازمین دریام اور عرفان شاہ نے پانچ سالہ کمسن بچی ام کلثوم کو اغواءکرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے گلا دبا کر قتل کردیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی۔ تھانہ قبولہ پولیس نے ورثاءکی نشاندہی اور عوامی پریشر پر حیدری شاہ کے دو ملازمین وریام اور عرفان شاہ کو گرفتار کرکے انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ انسانیت سوز واقعہ پر پنجاب حکومت بھی حرکت میں آئی اور آر پی او ساہیوال طارق رستم چوہان اور ڈی پی او پاکپتن سے واقعہ کی رپورٹ طلب کی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ڈی ایس پی سرکل عارفوالہ رانا فواد احمد کی سربراہی میں بننے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کچھوے سے بھی سست رفتار نکلی۔ جے آئی ٹی کمیٹی تین ماہ بعد بھی اپنی رپورٹ مکمل نہ کرسکی، مقتولہ بچی کے والدین ناصر حسن اور شمیم بی بی کو بااثر مرکزی کردار حیدری شاہ کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملنے کے بعد متاثرہ خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر قبولہ سے پاکپتن پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔

شمیم بی بی نے میڈیا کو بتایا کہ ڈی پی ا و اسماعیل کھاڑک نے دو دفعہ آفس بلا کر کھانا کھلایا اور دست شفقت سے سر پر ہاتھر کھ کر انصاف کی یقین دہانی کرائی لیکن کہانی جوں کی توں ہے ۔ 

مزید : پاکپتن