”فیس سیونگ“ یا حکمت عملی!

”فیس سیونگ“ یا حکمت عملی!

  



حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل رہبر کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دوسرے مرحلے کا اختتام کر دیا اور مختلف شاہراہوں پر دھرنوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے، رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بتایا اور اعلان کیا کہ دھرنوں کی جگہ اب ہر ضلع میں جلسے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دباؤ مزید بڑھایا جائے،اس مقصد کے لئے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے۔جمعیت علمائے اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے انکار کے باوجود آزادی مارچ کے بعد پشاور موڑ اسلام آباد پر دھرنا دیا تھا،آزادی مارچ میں دونوں جماعتوں نے حاضری والی شرکت کی، تاہم دھرنے میں شامل نہ ہوئے تھے،ان کے بغیر ہی یہ سلسلہ جاری رہا اور ایک روز مولانا فضل الرحمن نے اچانک اسے ختم کر کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا، جو یہ تھا کہ بین الصوبائی اور بین الاضلاحی شاہراہیں بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو اب رہبر کمیٹی کے مطابق ختم کر دیا گیا۔عام طور پر اور تجزیہ نگاروں کی طرف سے رہبر کمیٹی کے فیصلے کو مولانا فضل الرحمن کے لئے ”فیس سیونگ“ قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے احتجاجی مارچ اور دھرنوں کو ناکام بتایا جا رہا ہے،تاہم مولانا فضل الرحمن ماننے کو تیار نہیں ہیں،ان کے مطابق حکومت کی جڑیں ہلا دی گئی ہیں اور اب یہ گرنے والی ہے، جہاں تک ”فیس سیونگ“ کی بات ہے تو ظاہری حالات سے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا دھرنا دے کر پھنس سے گئے تھے کہ دونوں بڑی جماعتوں کی ہمدردی کے سوا کوئی تعاون نہیں تھا اور وہ اکیلے ہی احتجاج نبھا رہے تھے، چنانچہ دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا اور اب یہ بھی اختتام کو پہنچا جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو وہ اب بھی اصرار کر رہے ہیں کہ ان کو کامیابی ملی ہے، جو نظر نہیں آتی۔مولانا نے جب آزادی مارچ کا سلسلہ شروع کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن کا ڈول ڈالا تو ان سے دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے درخواست کی گئی کہ نومبر کے وسط یا آخری ہفتے تک موخر کر دیا جائے،لیکن انہوں نے27اکتوبر کو آغاز کر دیا تھا۔یہ بات اطمینان بخش ہے کہ ان کے آزادی مارچ سے دھرنوں تک امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا،سیانے حضرات نے باربار مولانا سے گذارش کی تھی کہ ان کا موقف اور مطالبات واضح نہیں ہیں،ساتھ ہی معروضی حالات میں دھرنا ختم کرنے کے لئے کہا تھا،لیکن وہ نہ مانے، اب جو فیصلہ ہوا وہ درست ہے کہ احتجاج کا حق استعمال کرتے ہوئے امن برقرار رکھنا سب کا فرض ہے۔مولانا اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین اور قانون یہ حق دیتا ہے،تاہم ان کے مطالبات اور حکمت عملی واضح ہونی چاہئے اور امن و امان کو بھی برقرار رکھنا ہو گا۔جلسے بھی ان کا حق ہے اور وہ عوام کو اس طرح اپنا موقف سمجھا سکتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ