نواز گئے…… نئی بحث شروع!

نواز گئے…… نئی بحث شروع!
نواز گئے…… نئی بحث شروع!

  



اب تو ہم سب کو محمد شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں کو مان لینا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے بھائی کو باہر جانے پر آمادہ کیا اور پھر کیسے عدالت سے ریلیف حاصل کی اور جونہی لائن کلیئر ملی ان کو اڑا کر لندن لے گئے،اب سابق وزیراعظم محمد نواز شریف ہارلے سٹریٹ کے کلینک والوں کے اختیار میں ہیں،جنہوں نے سابقہ رپورٹوں کی بناء پر ان کے نئے ٹیسٹ شروع کر دیئے ہیں اور انہی کے نتائج کی روشنی میں فیصلہ ہو گا کہ اصل مرض کیا ہے، جس کی وجہ سے پلیٹ لیٹس میں اتار چڑھاؤ آ رہا ہے،دوسری طرف حسین نواز نے بڑی سادگی سے بتایا ہے کہ وہ والد صاحب کو علاج کے لئے امریکہ لے جانا چاہتے ہیں۔

بہرحال قوم اور حکومت منتظر ہے کہ میاں صاحب کا علاج جلد ہو اور وہ صحت یاب ہو کر واپس آئیں،ان کی واپسی پر انہیں نیب کی حراست میں جانا ہو گا کہ جسمانی ریمانڈ پر اسی کے پاس تھے، جہاں تک سزائے قید کا تعلق ہے تو وہ عارضی طور پر معطل ہوئی ہے،اس سات سالہ سزا کا فیصلہ اس اپیل کی سماعت کے بعد ہونا ہے،جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے،اس کے لئے بھی ان کی واپسی ضروری ہے کہ مسلم لیگ(ن) والے پُراعتماد ہیں کہ شنوائی کے بعد اپیل کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں ہو گا، ہم بھی ان کی صحت یابی کے لئے دُعا گو ہیں۔

سابق وزیراعظم کی روانگی کے ساتھ ہی ہمارے ملک کے سوشل میڈیا اور محافل میں نئی بحث بھی چھیڑ دی گئی اور وہ بھی محمد نواز شریف کی صحت ہی سے متعلق ہے، وہ جاتی امرا سے ایئر پورٹ اور ہیتھرو سے اپارٹمنٹ تک اپنے پیروں پر چل کر گئے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ ان کی شدید بیماری کا جس انداز میں چرچا کیا گیا یہ سب اس کے برعکس ہے۔ شاید یہ لوگ چاہتے تھے کہ مریض سٹریچر پر لیٹ کر جائے اور ایئر ایمبولینس میں بھی ان کو ہسپتالی بستر پر باندھ کر رکھا جاتا،حالانکہ وہ نیب کی حراست سے ہسپتال اور وہاں سے جاتی امرا تک بھی چل کر اور گاڑی ہی میں بیٹھ کر آئے تھے، سٹریچر پر نہیں، اب کوئی ان معترض حضرات سے پوچھے کہ کیا میڈیکل بورڈ والے غلط نتیجے پر پہنچے تھے،جنہوں نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ نواز شریف کا جینیاتی ٹیسٹ لازم ہے،جو پاکستان میں ممکن نہیں،اور پھرخود وزیراعظم عمران خان بھی آن ریکارڈ ہیں کہ انہوں نے ذاتی طور پر تسلی کی ہے کہ سابق وزیراعظم واقعی شدید بیمار ہیں،چنانچہ اس حوالے سے ایسی قیاس آرائیوں کو رُک جانا اور بریک لگنا چاہئے، انتظار کرنا ہو گا کہ وہ علاج کے بعد واپس آئیں اور یہ مقرہ مدت میں ہو جائے۔

مختصراً عرض کیا کہ افواہوں، خواہشات پر مبنی خبروں سے گریز بہتر ہے،اسی حوالے سے ملکی امور میں جو تنقیحات کہی اور بتائی جا رہی ہیں ان سے بھی پرہیز ہی بہتر ہے کہ بعض امور میں تو پَر جلتے ہیں،اِس لئے احتیاط لازم ہے، اگر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے چیف آف آرمی سٹاف کی وزیراعظم سے ملاقات والی تصویر کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے تو اسے بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ واقعی چیف آف آرمی سٹاف کی مصروفیات اور ملاقاتوں کے حوالے سے خبر یا تصویر ریلیز کرنا آئی ایس پی آر کی ہی ذمہ داری ہے،اور وزیراعظم کے حوالے سے یہ سب ان کے عملے کا فرض ہے اب اگر انہوں نے بعض ملاقاتوں کے حوالے سے خبر اور تصویر ریلیز نہیں کی، تو یہ ان کی صوابدید ہے۔

آپ حضرات کو اس میں سے معنی نہیں نکالنا چاہئیں، وہ بھی اپنی اپنی پسند کے، وگرنہ اس کے فوری بعد زیراعظم کے پُراعتماد ہونے کا ہی اندازہ لگا لیں،جنہوں نے ایک بار پھر ایک زبردست پُرجوش اور بے لحاظ تقریر کر ڈالی، اس کے بارے میں بھی سوالات اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں،حالانکہ میجر جنرل آصف غفور کے بیان کے بعد ہی سے ہم سب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک صفحہ پر دونوں ابھی موجود ہیں اور اختلاف کی خبریں افواہ تھیں،اور ایسی افواہیں ملکی مفاد میں نہیں ہیں، لیکن کیا کہا جائے کہ اب آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے مریضوں کی باتیں شروع ہو گئی ہیں اور ان میں صوبائی تعصب جیسے نکات نکالے جا رہے ہیں؟

یہ درست کہ آصف علی زرداری ہی نہیں، فریال تالپور،شرجیل میمن اور سید خورشید شاہ بھی علیل ہیں اور ان سب کے امراض ہسپتال کی ضرورت محسوس کرتے ہیں،لیکن سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی علالت اور علاج نے یہ امر بھی ثابت کر دیا ہے کہ اس سب کے لئے ریلیف عدالتوں سے حاصل کرنا ہو گی اور فی الحال ایسی سہولت آصف علی زرداری کو تو ملی نہیں،حالانکہ ان کی درخواست صرف یہ ہے کہ ان کو کراچی منتقل کر کے اپنے ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی سہولت دی جائے،اب یہ بھی ان کو عدالت عظمیٰ ہی سے مل سکتی ہے کہ سندھ(کراچی) سے ان کو راولپنڈی چیف جسٹس(ر) ثاقب نثار کے حکم پر لایا گیا تھا، اب ماتحت عدالت سے رجوع کرنا تو طریق کار کو اختیار کرنا ہے اور ایسا کیا بھی گیا۔

بہرحال آصف علی زرداری کے بعد خورشید شاہ نے بھی درخواست ضمانت دائر کرنے سے انکار کیا اور نیب کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ان کے جرم ثابت کرے یا بری کرے، اس کے باوجود وہ علاج کے لئے تو اہل ہیں،ہماری تجویز تو یہ ہے کہ ان سب کو ذاتی علاج کی باقاعدہ اجازت دے دی جائے تاکہ سرکاری اخراجات تو بچیں،جو عوامی ٹیکسوں میں سے ہوتے ہیں۔اب یہی دیکھ لیں کہ شریفوں کا علاج اب ان کے ذاتی اخراجات سے ہو رہا ہے،تو ان(پی پی والوں) کو اجازت مل گئی تو یہ بھی حکومت یا ریاست پر مالی بوجھ نہیں بنیں گے۔

اب مختصر سی بات کی جائے کہ اس سارے سلسلے کے دوران یہ سوال اٹھایا گیا کہ عام قیدیوں کا کیا قصور ہے،حتیٰ کہ یہ تک بتایا گیا کہ اب تک 800 قیدی بیماریوں کے باعث انتقال کر چکے ہوئے ہیں،اس سلسلے میں وفاقی وزراء تک نے عدم مساوات کی بات کی حتیٰ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تو یہاں تک کہا، اب عام قیدیوں کے ایسے کیس بھی ترجیحی بنیادوں پر سننا ہوں گے، تو جناب! ان حالات سے کچھ تو بہتر بات سامنے آئی وہ یہی کہ عام لوگ بھی مستفید ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ِ وقت جیل میں علاج کی سہولتوں کا جائزہ لے کر ان ہسپتالوں کو بھی جدید بنائے گی، جو اندر ہیں اور وہاں بھی ماہر امراض ڈاکٹروں کی سہولت مہیا ہو گی اور کیا نادار اور غریب قیدیوں کو عدالت سے رجوع کرنے کے لئے سہولت مہیا کی جائے گی؟ یہ وہ سوال ہیں جو حقیقی اور معروضی حالات کے مطابق ہیں،باقی رہی بڑوں کی بات تو ان کو ابتدا ہی سے اپنی جیب سے علاج کرانے کی سہولت دے دینا چاہئے کہ قومی بچت ہو۔

مزید : رائے /کالم