پاکستان…… امن کا داعی ملک

پاکستان…… امن کا داعی ملک
پاکستان…… امن کا داعی ملک

  



اللہ کا شکر ہے کہ پاک بھارت جنگ کے خطرات بہت حد تک کم ہورہے ہیں۔ گو کنٹرول لائن پر حالات بہتر ہونے کی گنجائش نہیں ہے،کیونکہ بارڈر پر پاک بھارت جھڑپیں معمول بن چکی ہیں، لیکن پاک فوج کی دھاک بھارت پر پہلے سے زیادہ بیٹھ چکی ہے۔بھارت کے اندر سے آوازیں آرہی ہیں اور انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ پاک فوج ان سے تربیت اور جوش و جذبے میں بہت آگے ہے۔بھارت کی سبھی جماعتیں مودی حکومت سے بالاکوٹ حملے کے ثبوت مانگ کر یہ اعتراف کر رہی ہیں کہ بھارتی فوج صرف فلموں ہی میں پاک سر زمین فتح کرنے کا خواب دیکھ سکتی ہے،حقیقت میں یہ ناممکن کام ہے۔

یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے بہادر سپہ سالار اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر کے دبنگ بیانیہ سے بھارت کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے،لیکن احباب ذرا سوچئے تو اگر روایتی جنگ ہوتی تو بھارت کا کیا حال ہوتا؟جنگ کے نتیجے میں یقینی طور پر بھارت کئی ٹکڑوں میں بھی بٹ سکتا تھا اور اگر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا پھر تو سب کچھ ہی ختم ہوجاتا پھر جو بچ جاتے وہ بھی مرنے کی دعا کرتے،لیکن ہمارے شاہینوں کے کاری وار نے کچھ وقت کے لئے دشمن کو پچھلے قدموں ضرور دھکیل دیا ہے، لیکن بھارت سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

خطرہ اس وقت بھی ہے، کیونکہ بھارتی فوج کا مورال بہت نیچے جاچکا ہے، اس پر بھارتی سیاست دان بھی یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ہماری فوج،پاک فوج کے مقابلے میں تیار نہیں ہے۔مودی کی سیاسی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جو بظاہر انتخابات تک مزید کسی بھی ایسے امتحان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں اس وقت حالات بہت بہتر ہیں۔ شمالی علاقوں میں امن کی بحالی اور بھارت کے طیارے گرانے کے بعدپاک فوج کا مورال بہت اوپر ہے۔ ساری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک سے بھی پاکستا نی بیانیے کی تائید ہو ئی ہے۔ سی پیک کی تعمیر اور عرب ممالک کے معاشی پیکجز سے محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلدپاکستان میں معاشی حالات بہتری کی جانب چل پڑیں گے۔ اب دنیا یہ سمجھ چکی ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔

اب پاکستان نے کشمیری عوام کی درست ترجمانی کرنے کی کوشش کرنا ہے، ایسے میں جلد از جلد تمام تر سفارتی ذرائع کو بروکار لاتے ہوئے اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ جنگ کسی بھی ملک کے لئے اچھی چیز نہیں ہوتی۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ملک ہے۔ہر طرح کی طاقت کے باوجود پاکستان امن چاہتا ہے اور ہماری قیادت کی امن کی خواہش بالکل صحیح ہے، کیونکہ اگر دیکھا جائے تو جنگ کے منفی اثرات صرف ایک ملک ہی کو نہیں، بلکہ دونوں ملکوں کو بھگتنا پڑتے ہیں اور یہ اثرات جانی نقصانات کے بعد معیشت کی ساکھ کو بہت متاثر کرتے ہیں، جبکہ اس کے دور رس منفی اثرات تو صدیوں تک نہیں جاتے، جاپان کے شہر ہیرو شیما کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس لئے جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،حل صرف مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔

کہا جارہا ہے کہ دشمن نے پاکستانی ناموں سے مطابقت رکھنے والے بہت سے فیک سوشل اکاونٹ لانچ کردئیے ہیں، جن کا مقصد پاک فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنا ہے۔ملک میں بدامنی کی فضا بنا نا ہے، اس لئے بہت ضروری ہے کہ سوشل میڈیا، جس میں واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا وغیرہ شامل ہیں، ان سب کے مثبت استعمال کو اجاگر کرنے کے لئے کوئی بہترین حکمت عملی اپنائی جائے اس سے پہلے کہ پانی سر سے اوپر ہو جائے۔

اللہ تبارک تعالی اپنے محبوب کریم ﷺ کے طفیل اس ارض پاک کی حفاظت کرنے والی پاکستانی افواج کی ہمت اور حوصلے ہمیشہ بلند رکھے,ہماری غیبی مدد فرمائے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو نیست و نابود فرمائے۔ایک کے بعد دوسرا سرپرائز بھارت کو دیا جاچکا ہے۔پچھلے کئی سالوں سے جب بھی بھارت میں الیکشن کے دن قریب آنے لگتے ہیں، بھارتی سیاست دان پاکستان کے خلاف بیان بازی اور سازشیں بڑھا دیتے ہیں۔پلوامہ میں ابھی بھارتی فورسز کے جوان آگ میں جل رہے تھے کہ بھارت کے سبھی ٹی وی چینل اس حملے کو پاکستان کی سازش قرار دے چکے تھے۔لگتا ہے کہ اس حملے کی کہانی بھارتی فلم انڈسٹری کے کسی لکھاری نے لکھی تھی۔اسے حملے سے پہلے ہی پتہ تھا کہ کس طرح پاکستان پر الزام لگانا ہے۔ سکرپٹ کے مطابق حملے کے چند منٹ بعد ہی سارے بھارتی چینلوں پر پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں ہونے لگیں۔ ایسا محسوس ہور ہا تھا کہ پلوامہ حملے کو غیر معمولی عجلت سے پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ایسی عجلت جس سے کسی سازش یا طے شدہ پلاننگ کی بو آرہی ہو۔

بنا کسی تحقیق,بنا کسی ثبوت سارے ٹی وے چینل جو انہیں لکھ کر دیا گیا تھا،اسی کے حساب سے گرما گرم پروگرام کرتے نظر آرہے تھے۔حملے کے فوری بعد بھارت کے ٹی وی ٹاک شوز اور مختلف شخصیات کے مطابق ہر کوئی پاکستان کو سبق سکھانے کی تیاری میں نظر آرہا تھا،لیکن پاکستان کو سبق سکھانے کے دعوے کرنے والوں کو بہت جلد یہ احساس ہوگیا کہ سامنے نیپال یاکوئی اور چھوٹا ملک نہیں ہے، بلکہ ان کا سامنا دنیا کی بہادر اور پیشہ ور فوج سے ہوگا۔اسلامی ممالک نے اپنے اجلاس میں ساتھ بٹھا کر بھارتی وزیر خارجہ کو بتادیا کہ بھارت کشمیر میں ریاستی دشت گردی بند کرے۔

مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر میں بھارت کی ریاستی دشت گردی کی مذمت کی گئی اور بھارت کی طرف سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے قرار داد منظور کر کے بھارت کو دوسرا سرپرائز دے دیا گیا۔ ہتھیاروں کی بات کریں تو بیشک بھارت کے پاس ہر طرح کے ہتھیار اور لڑاکا طیارے تعداد میں زیادہ ہیں۔جتنی پاکستان کی کل فوج ہے، اس سے زیادہ بھارتی فوج صرف کشمیر میں ہی مصروف عمل ہے، لیکن اگر بات کی جائے دلیری,بہادری اور شجاعت کی تو بھارتی فوجی پاکستانی فوجوں کے مقابلے مکمل طور پر بے بس ہیں۔

ایک طرف بھارتی فوج ظالم اور بدفطرت لوگوں پر مشتمل ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستانی فوج کے جوانوں سے پاکستان کا بچہ بچہ محبت کرتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہماری فوج کے جوان بہادر ہیں اور بہادر ہمیشہ وہی ہوتا ہے،جس کا دل بڑا ہو، جو اپنے لوگوں کے اندر احساسِ تحفظ پیدا کرسکتا ہو۔یہ نہیں کہ اس کے پاس بیٹھنے سے انسا ن ڈر نے لگیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج بھارت میں ہر طرف ہیجان ہی ہیجان ہے اور پاکستان میں سکون ہی سکون ہے۔ پاکستانی قوم بھارت کے مقابلے میں زیادہ باشعور ہے۔ آج پاکستان کو بھارت پر قبضہ کرنے کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے، کیونکہ بھارتی شدت پسند ہندو خود بھارتی سرزمین پر زہر کی وہ فصل کاشت کر رہے ہیں جو آنے والے کل بھارت کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وجہ بنے گی۔

صرف کشمیر ہی تو نہیں، بھارت میں خالصتان،منی پورہ،تری پورہ، آسام، جھاڑکھنڈ، بنگال، حیدرآباد، تامل اور بہار میں بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں بھارت سے علیحدگی کی کوشش کررہے ہیں۔ آج بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی طرف الیکشن جیتنے کے چکر میں ملک بھر میں تشدد کی فضا پیدا کرکے بھارتی سرکارپاکستان کو سبق سکھا کر اپنی مقبولیت بڑھانا چارہی ہے۔بھارتی سرکار کی شدید ترین خواہش تھی کہ وہ پاکستانی علاقے پر بمباری کرے اور عوام کے سامنے ہیرو بن جائے۔دو جنگی طیارے مارگرانے کے بعد پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے غبارے سے ہوا نکال دی تھی۔پاک فوج نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی فوج کے جوان ہر وقت ہر گھڑی مکار دشمن کے ہر وار کے لئے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کی صلاحیتوں سے بھارتی ماہرین بھی خوب باخبر ہیں اور بھارت اسرائیل سازش کو بے نقاب کرکے ہماری ا نٹیلی جنس صلاحتیں بھی سامنے آگئی ہیں۔اصل نکتہ تو یہ ہے کہ جدید ہتھیاروں سے لیس،مکمل طور پر پروفیشنل پاکستانی فوج کے جذبہء جہاداور اس کی دلیری سے بھارت آج بہت خائف ہوچکاہے۔ مستقبل قریب میں وہ پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔

مزید : رائے /کالم