پروگریسوگروپ کی چھوٹے تاجروں کو گراں فروشی میں جیل بھجوانے کی مذمت

پروگریسوگروپ کی چھوٹے تاجروں کو گراں فروشی میں جیل بھجوانے کی مذمت

  



لاہور(پ ر) لاہور چیمبر کے اراکین پر مشتمل پروگریسو گروپ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گراں فروشی کے الزام میں دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کو جرمانہ کی بجائے سیدھا جیل بھیجنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دکانداروں کے خلاف انتہائی اقدامات لینے کی بجائے سبزیوں اور روزانہ استعمال کی اشیاء کی طلب و رسد میں بہتری لائے۔پروگریسو گروپ کے صدر خالد عثمان، میاں عمران سلیمی اور محمد ارشد چوہدری نے اپنے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا گراں فروشی کے خلاف آپریشن ایک قابل تحسین عمل ہے لیکن اس وقت سبزیوں اور پھلوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے پیچھے عوامل کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے چین سٹور ہوں یا کہ گلی محلہ میں موجود سبزیوں او ر پھلوں کی دکانیں، سب اس وقت چھاپوں کے خوف سے بند ہیں۔ آٹا چکی والے بھی پچھلے چار دن سے بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دکاندار بہت زیادہ منافع بنا رہے ہوتے تو کبھی اپنا کاروبار بند نہ کرتے۔ ان کا کاروبار بند رکھنے کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں ان کا ہاتھ نہیں ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں مہنگائی کے خلاف نام نہاد مہم صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے چلا رہی ہیں،حکومت مہنگائی کو ختم کرنے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں،کہ ضلعی سطح پر اشیائخوردونوش کے ریٹوں کا تعین کرنے والی کمیٹیاں بے اثرہو چکی ہیں، ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو چاہئے کہ ان کمیٹیوں کا ہر پندرہ روزبعد اجلاس بلا کر اشیاء کی قیمتوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔

اور نئی قیمتوں کا تعین کیا جائے، کئی ماہ کی جاری پرانی سرکاری قیمتوں پر دکاندران کو اشیائکی فروخت پر مجبورکر نا ظلم ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ بجائے دکانداروں کو جیل بھجنے کے پھلوں اور سبزیوں کی رسد میں اضافہ کی کوشش کرے اور اگر کوئی پھر بھی گراں فروشی کرتا ہواء پایا جائے تو اس کو جیل بھیجنے کی بجائے مناسب جرمانہ کیا جائے۔

مزید : کامرس