اور اب ماڈل پولیس

اور اب ماڈل پولیس
اور اب ماڈل پولیس

  



ماڈل کا لفظ ذہن میں آئے تو خیال فوری طور پر ریمپ پر کیٹ واک کرتی خوبرو حسیناوں کی طرف جاتا ہے، اب ہماری پولیس بھی ماڈل بن رہی ہے،حالانکہ ا سے ماڈل کی بجائے رول ماڈل بننا چاہئے۔مجھے پولیس کے جوان پریڈ کرتے ہوئے ماڈلوں کی طرح خوبصورت نظرآتے ہیں مگر ناکوں پر لوگوں کو تنگ کرتے،تلاشی کی آڑ میں پیسے لیتے زہر لگتے ہیں۔ پولیس والے اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کیلئے روپ سنگھار بھی بدلتے رہتے ہیں، کبھی مجاہد اور کبھی الیٹ بن جاتے ہیں،ایمر جینسی ہو تو ڈولفن بن جاتے ہیں یا پیرو کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ پولیس میں عہدوں کے نام بھی بدلتے رہتے ہیں۔کبھیآئی جی تو کبھی پروونشل پولیس آفیسر،کبھی ایس ایس پی اور کبھی ڈی پی او۔مگر مجھے سب سے رعب دار عہدہ ہیڈ کانسٹیبل لگتا ہے۔اچھا ہوا آئی جی،پروونشل پولیس افسر بن گئے،یہ نام بھی رعب دار لگتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ صوبے کا سب سے بڑا پولیس افسر ہے۔ورنہ آئی جی تو ایسے تھا کہ گھر میں کسی کام کیلئے کوئی اپنی ہمشیرہ کو بلائے تو وہ جواب دیتی ہے آئی جی۔

کسی بھی ملک میں امن و امان کی اچھی حالت اس کی معاشی، سیاسی، صنعتی اور زرعی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے شہری، دیہی امن کی حفاظت، شہریوں کو تحفظ دینے کا ذمہ دار ادارہ عرصہ دراز سے خود بدامنی کا شکار ہے، عام شہریوں سے بدسلوکی، بدتمیزی، بلاوجہ تشدد، بغیر کسی جرم کے گرفتاری، رشوت کا چلن عام ہے۔ قانون کے یہ محافظ خود کو ہر قسم کے قوانین سے بالا سمجھتے ہیں، محکمہ پولیس کی زبوں حالی کی متعدد دیگر وجوہات کے علاوہ سیاسی مداخلت اور بھاری رشوت دے کر بھرتی بڑی وجہ ہیں، بھرتی کے بعد اہلکاروں کی جسمانی اور پیشہ وارانہ تربیت کا اہتمام ہوتا ہے لیکن ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کا کوئی نظام نہیں، بالکل سیدھی سی بات ہے اگر کوئی چھوٹے رینک کا افسر یا اہلکار لاکھوں روپے رشوت دے کر ملازمت حاصل کرے گا تو یقینی طور پر وہ ناجائز ذرائع سے لاکھوں کمانے کی بھی کوشش کرے گا۔

اکثر تھانے عام شہری کے لئے عقوبت خانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، کچھ تھانہ انچارج صاحبان نے نجی ٹارچر سیل بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں بے گناہ شہریوں کو رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بھاری نذرانہ لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن اگر بھرتی کے وقت اہلکاروں، چھوٹے رینک کے افسروں کو ان کے فرائض، سائلین کے حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کی جائے تو کسی حد تک بہتری آسکتی ہے۔ محکمہ پولیس میں احتساب کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہری اگر کسی کے خلاف شکائت کریں تو متعلقہ حکام تک پہنچنے کے بجائے ردی کی ٹوکری کی نذر کر دی جاتی ہے اگر انکوائری لگ جائے تو سفارش کے ذریعے اکثر سزا سے بچ جاتے ہیں اور اگر کسی کو محکمانہ کارروائی میں سزا سنائی بھی جائے تو پیٹی بھائی اسے دوران سزا تھانہ میں پروٹوکول، وی آئی پی سہولیات دے کر سزا کو جزا میں بدل دیتے ہیں۔ پولیس نظام کی فرسودگی بھی ناکامی کی اہم وجہ ہے، آج تک تفتیش، تحقیق، چالان بھرنے کے معاملات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان کو برطانوی راج سے پولیس کا سامراجی ڈھانچہ ورثے میں ملا، امن و امان کے فروغ، معاشرتی ہم آہنگی، سلامتی اور نفاذ قانون کے بجائے برطانوی حکمرانوں کی خدمت گزاری کے لیے جس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ 1861 کے پولیس ایکٹ میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی بنیادی ترمیم نہیں کی گئی۔بلکہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے قوانین میں بھی برطانوی دور کے قانون کی روح کو کم و بیش برقرار رکھا گیا ہے۔ہمارے موجودہ کلچر میں کم زوروں کو با اثر سیاسی اشرافیہ کا غلام بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس بھی طاقت ور طبقات کے آلہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔ پولیس سے متعلق قوانین میں کبھی بھی اس سامراجی ورثے کو موثر انداز میں چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمارے جیسے جاگیردارانہ معاشرے میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے بغیر ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہو گا۔گزشتہ چھ دہائیوں میں پولیس اصلاحات پر دو درجن رپورٹس جاری ہو چکی ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں سے کسی کی بھی تجویز پر عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ اس کی فکر کی گئی۔ نیم دلی سے کیے گئے اقدامات سے دیانت دار افسران کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے اور نہ ہی نفاذِ قانون کا ہدف حاصل ہوتا ہے۔اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے سابق چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ (موجودہ چیف جسٹس) کی زیر نگرانی ان سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے پولیس آئی جیز پر مشتمل اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔ پریزینٹیشنز میں آئی جی رینک کے سابق سینئر افسران کی اصلاحات اور تجاویز شامل کی گئی، ایک موجودہ آئی جی نے رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کا نقشہ وضع کیا۔کسی بھی ملک کے نظام انصاف میں پولیس کی ناگزیریت کے پیش نظر ضروری ہے کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس محکمے کو مکمل طور پر آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔ پولیس یا تو طاقت وروں کے سامنے کھڑے ہونے والے جرات مند افسران کے انجام سے خوف زدہ ہے یا سیاسی بنیاد پر ہونے والی ان گنت بھرتیوں اور تقرری و معطلی کی وجہ سے پوری طرح سیاسی عناصر کے زیر دست ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ ناقص تربیت، ناکافی ہتھیار اور عادی بدعنوانوں کے بوجھ تلے دبی پولیس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو دیمک کی طرح اس کی بنیادیں چاٹ رہے ہیں۔ پولیس کو جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے، سندھ میں یہ حالات بدترین ہیں، کم سہی دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ پولیس نظام کی تباہ حالی کے باوجود، مقننہ اور حکومت ضروری اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ایک وقت تھا جب میجسٹریٹ کی شکل میں پولیس اور عوام کے درمیان ایک نیوٹرل ٹیئر ہوتا تھا مگر وہ بھی ختم ہو گیا،پچھلے دنوں پولیس اصلاحات کے ذریعے پولیس پر ایک بار پھر چیک اینڈ بیلنس کی بات ہوئی مگر کچھ سیاستدانوں اور پولیس کے اتحاد نے اسے بھی پس پشت ڈال دیا۔اب پنجاب میں ماڈل پولیس اضلاع کی بات کی جا رہی ہے جو میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ماڈل ضلعوں میں پولیس کے تمام فنڈز لگا دئے جائیں گے اور باقی اضلاع کے لوگوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا جائے گا۔یہ اسی طرح ہے کہ سابق حکمرانوں نے تمام فنڈز لاہور پر لگا دئے اور باقی پنجاب بد حالی کا شکار رہا۔پولیس آئے روز اربوں روپے کے فنڈزلے کر اسے کہاں لگاتی ہے یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

مزید : رائے /کالم