ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

 ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقرر کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

  



لاہور(نامہ نگار)لاہور ڈسٹرکٹ بار نے حال ہی میں ہونے والی ایڈیشنل سیشن ججوں کے تقررکے معاملہ کا از سرنو جائزہ لینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔اس سلسلے میں ایوان عدل میں ہونے والے اجلاس عام میں فیملی جج اقصیٰ غفار کے خلاف بھی قرارداد منظور کی گئی۔لاہوربار ایسوسی ایشن کے صدر عاصم چیمہ نے لاہور ہائی کورٹ کی امتحانی اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے ممبران سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے ایڈیشنل سیشن ججوں کی تعیناتی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اورکامیاب ہونے والے تمام 40وکلاء کو بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات کیا جائے،لاہور ڈسٹرکٹ بار کے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کے مشکل ترین امتحان میں تقریباً1300امیدواروں میں سے40امیدوارکامیاب ہوئے لیکن انٹرویو کے مرحلہ پر32کامیاب امیدواروں کو فیل کردیاگیااور صرف 8امیدواروں کو بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات کیا گیا جو انتہائی نامناسب ہے،حالانکہ ایڈیشنل سیشن ججوں کی 173اسامیاں خالی ہیں۔

،انہوں نے ایڈیشنل سیشن ججوں کی تعیناتی کو وکلاء کی حق تلفی کے مترادف قراردیاہے، وکلاء کے اجلاس عام میں منظور ہونے والی قرارداد میں لاہورہائی کورٹ کی امتحانی اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے ممبران سے مطالبہ کیا گیاہے کہ نئے ایڈیشنل سیشن ججوں کی تعیناتی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اورکامیاب ہونے والے تمام 40وکلاء کو بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات کیا جائے، اجلاس میں منظورہونے والی دوسری قرارداد میں فیملی جج اقصیٰ غفار کے وکلاء کے ساتھ ناروا رویہ پر انکوائری اور فوری انہیں نوکری سے برخاست کئے جانا کا مطالبہ کیاگیا،لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عاصم چیمہ نے روزنامہ پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے باضابطہ طور پر اپنا مطالبہ لاہور ہائی کورٹ انتظامیہ تک پہنچادیاہے،اگر ہمارے مطالبے کونظر انداز کیاجاتاہے تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

مزید : علاقائی