طعنے نہ دیں،کسی کو باہر جانے کی اجازت وزیر اعظم نے خود دی:چیف جسٹس

 طعنے نہ دیں،کسی کو باہر جانے کی اجازت وزیر اعظم نے خود دی:چیف جسٹس

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ  وزیراعظم طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں، جس کیس کا طعنہ وزیراعظم نے ہمیں دیا اس کیس میں کسی کو باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی، اس معاملے کا اصول محترم وزیراعظم نے خود طے کیا ہے، ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں، اب عدلیہ آزاد ہے، ہم نے دو وزرائے اعظم کو سزا دی اور ایک کو نااہل کیا، ایک سابق آرمی چیف کا جلد فیصلہ آنے والا ہے،ججز اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے، ججوں پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں، وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہیں اور  ہمارے منتخب نمائندے ہیں، وزیراعظم کو اس طرح کے بیانات دینے سے خیال کرنا چاہیے۔بدھ کو  اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی ایپ لانچنگ  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اب عدلیہ آزاد ہے جبکہ کسی کو باہر جانے کی اجازت وزیراعظم عمران خان نے خود دی ہے اور وزیر اعظم کو اس طرح کے بیانات سے احتیاط  برتنا چاہیے، ہم نے ایک وزیراعظم کو سزا دی اور ایک کو نااہل کیا، وزیراعظم ججز اورعدلیہ کی حوصلہ افزائی کریں اور بہت جلد سابق آرمی چیف کے حوالے سے فیصلہ آنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں کیونکہ ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں، اب عدلیہ میں خاموش انقلاب آگیا ہے، عدالتیں بغیر وسائل کا کام کر رہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ جس کیس پر وزیراعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اجازت انہوں نے خود دی ہے۔ وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہیں، ہمار ے منتخب نمائندے ہیں اور محترم وزیراعظم کے وسائل فراہم فراہم کرنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں جبکہ وزارت قانون نے بھی بہت تعاون کیا ہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور نادرا نے جو تعاون کیا اس کے شکریہ کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹس میں 15فیصد پٹیشن دائر ہونا کم ہو گئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پولیس ریفارمز کے حوالے سے بھی بہت کام کر رہے ہیں جبکہ عدلیہ نے محدود وسائل میں 25سال کا کرمنل بیک لاک ختم کیا ہے،1994سے کرمنل کیسز التواء کا شکار تھے ان کو سب حل کیا ہے، ملک کے کسی شہر میں بھی کرمنل کیسز التواء کا شکار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے 15ہزار لوگوں کو ریلیف قانون کے مطابق پہنچایا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی تمام پانچ عدالتوں کو ویڈیو لنک سے منسلک کر دیا گیا ہے، ویڈیو لنک سے مسائل کے اخراجات میں کیم ہو گی اور یہ ویڈیو لنک کی سہولت ہائی کورٹس میں بھی فراہم کی جائیں گی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہماری ذمہ داری صرف کیسز میں انصاف فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ سائل کو سہولت فراہم کرنا بھی ہے، عدلیہ میں 3001ججز ہیں جنہوں نے 36ہزار کیسز کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ماڈل کورٹس سے عوام کو ریلیف فراہم ہوا ہے اور عدلیہ نے کم وسائل کے باوجود بہترین نتائج دیتے ہیں، عدلیہ انتہائی جانفشانی سے کام کررہی ہے، سپریم کورٹ میں قتل کا کوئی کیس التواء کا شکار نہیں ہے۔

چیف جسٹس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے فاٹا، پا ٹا ریگولیشن ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے  کہا ہے کہ اگر حراستی مراکز اور فوج کے امور کی انجام دہی کے قوانین بارے آئین پاکستان کے تحت مطمئن نہ ہوئے تو سمجھیں پورا سسٹم گیا،بغیر ٹرائل،بغیر ثبوت،بغیر شواہد اور بغیر چارج کے کسی کو لامحدود وقت تک حراست میں نہیں رکھا جاسکتا،انہوں نے اس موقع پرسوال اٹھایا کہ عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے لوگوں کے سروں کیساتھ فٹ بال کھیلنے والوں کیساتھ کیابرتاؤ کیا جائے گا؟ہمارا انھیں عاجزانہ جواب ہے پھر کیا ہم آئین پاکستان کیساتھ فٹ بال کھیلیں؟چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے فاٹا،پاٹا ایکٹ کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے  کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انو ر منصور خان کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آئین میں قانون سازی کی وفاقی فہرست کو نظر انداز کردیں۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں آج دلائل نہیں دے رہا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے اگر آپ نے دلائل نہیں دینے تو پھر ہم پانچ جج صاحبان یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔چیف جسٹس بولے اٹارنی جنرل عدالتی اداب کے پیش نظر آئے۔اٹارنی جنرل نے کہا میرے خلاف مکمل جارحانہ رویہ اپنایا جارہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل صاحب تشریف رکھیں صوبوں کے قوانین زیر سکروٹنی ہیں،ہم کسی اور فریق مقدمہ کو سن لیتے ہیں۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرٹیکل 245کا حوالہ دیتے ہوئے کہا بیرونی جنگی جارحیت اور خطرات کے پیش نظر وفاقی حکومت فوج کو بلا سکتی ہے،آرٹیکل 245کا دوسرا حصہ پاک فوج کا سول انتظامیہ کی مدد سے متعلق ہے،آئین کے مطابق انتظامیہ کی مدد قانون کے تحت ہوگی،آئین میں قانون سازی کی وفاقی فہرست ون(فیڈرل لیجیس لیٹیو لسٹ) کے مطابق قانون بنانا وفاق کا کام ہے،پچیسویں ترمیم کے بعد نیا نظام آیا،پچیسویں ترمیم میں نہ سابقہ قوانین کو تحفظ دیا گیا نہ ہی یہ کہا گیا پرانے قوانین کا تسلسل برقرار رہے گا،اس کیس میں بڑا اہم سوال ہے قوانین صوبوں نے بنائے لیکن صوبوں کو اختیار ہی حاصل نہیں تھا کہ وہ قانون بنائے۔اٹارنی جنرل نے کہا میں اس حوالے سے عدالتی معاونت کروں گا،وفاق اور صوبوں کو قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے۔چیف جسٹس بولے یہ وہ سوال ہے جہاں سب کچھ تھم گیا ہے بظاہر یہ بڑا خلا ہے۔چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کے پی حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیا آپ کی یہ دلیل ہے جہاں آئین میں قانون سازی کی وفاقی فہرست خامو ش ہو وہاں خلاء پْر کرنے کیلئے صوبے قانون بنا سکتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا چونکہ آپ ہماری معاونت کی بجائے ہم آپ کی معاونت کررہے ہیں تو یہ دیکھ لیں آرٹیکل 146کے تحت وفاقی حکومت صوبے کو اختیار سونپ سکتی ہے وہ قانون بنائے۔جسٹس گلزار حمد نے کہا اس سوال پر بھی معاونت کریں کیا حکومت نے اندورنی جارحیت کا اعلان جنگ کیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ مقدمہ آئینی نکات کیساتھ ساتھ ہزاروں انسانوں اور اْن سے جڑے لاکھوں انسانوں کی آزادی سے متعلق ہے،قانون کی وزارتوں کو جاکر کھنگالیں،سب کچھ کھود کر ہماری معاونت کریں۔چیف جسٹس نے کہا فوج کے امور اور حراستی مراکز سے متعلق تین قوانین بنائے، 2019کا آرڈیننس تو ایسے بنایا گیا جیسے اس سے قبل کوئی قانون تھا ہی نہیں،ہم ایسی صورتحال میں سب کچھ نظر انداز نہیں کر سکتے،میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن قابلیت کا کافی فقدان پایا جاتا ہے۔درخواست گذار کے وکیل نے کہا پچیسویں ترمیم میں کسی قانون کو تحفظ دینے کی شق شامل نہیں کی گئی۔ایڈوکیٹ انعام الرحیم نے بتایا صوبے قانون نہیں بنا سکتے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا آئین کے تحت ہمیں مطمئن نہ کیا گیا تو سمجھیں پورا سسٹم گیا۔کے پی حکومت کے وکیل نے کہا وفاقی حکومت کو قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برجستہ بولے غلط اصطلاح استعمال نہ کریں قانو ن پارلیمنٹ بناتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا یہ سوال بھی ہے کیا بغیر ٹرائل،بغیر ثبوت،بغیر شواہد اور بغیر چارج کے کسی کو لامحدود وقت تک حراست میں نہیں رکھا جاسکتا،پہلا قدم دائرہ اختیار سماعت سے متعلق ہے،تین ماہ تک کسی کو حراست میں رکھا جاسکتا ہے،پھر نظر ثانی کور ٹ میں مزید زیر حراست رکھنے یا نہ رکھنے کا ذکر موجود ہے،کسی کو بغیر شواہد اور بغیر ٹرائل آٹھ ماہ سے زیادہ حراست میں نہیں رکھا جاسکتا،ہم زیر حراست شخص کے مقدمے کا جائزہ لینے والی نظر ثانی باڈی کا مکمل ریکارڈ طلب کرسکتے ہیں،یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔چیف جسٹس آصف سعید خان نے مزید کہا ایک مقدمے میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا مجرم کو کھلے عام پھانسی دی جائے،ہم نے فیصلے میں لکھا قرآن اور آئین پاکستان نے انسان کی حرمت کو تحفظ دیا گیا ہے،آرٹیکل چودہ نے انسان کی حرمت کو تحفظ دے رکھا ہے،یہ آئینی شق بنی نوع انسان کیلئے ہے،پہلے انسان کو کم تر سمجھا جاتا تھا،بد ترین شخص کو بھی آئین پاکستان نے انسان کی حرمت کے تحت تحفظ دیا ہے اْسے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہامیں بڑے احتیاط سے یہ بات کرنے لگا ہوں،عام طور پریہ بات کہی جاتی ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگوں کے سروں کیساتھ فٹ بال کھیلنے والوں کیساتھ کیا برتاؤ کیا جائے گا؟ میرا انھیں عاجزانہ جواب ہے پھر کیا ہم آئین پاکستان کیساتھ فٹ بال کھیلیں؟۔کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

فاٹاریگولیشن کیس

مزید : صفحہ اول