وزیر خارجہ کا قتصادی کے بعد ثقافتی سفارتکاری کے آغاز کا اعلان

وزیر خارجہ کا قتصادی کے بعد ثقافتی سفارتکاری کے آغاز کا اعلان

  



 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے حکومت نے اقتصادی کے بعد ثقافتی سفارتکاری کا آغاز کر دیا، مقبوضہ کشمیر میں لا کھو ں معصوم کشمیر ی107روز سے کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں، مظلوم کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے سفا رتی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔بدھ کو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنی زیر صدارت مشاورتی کو نسل کے 10ویں اجلاس جس میں سیکرٹری خار جہ، سا بق خارجہ سیکرٹریز، سفراء اور ماہرین عالمی امور سمیت سینئر حکام شریک ہوئے، سے خطاب میں کہنا تھا اقتصادی سفارتکاری کے بعد ثقافتی سفارتکاری کا آغاز کر دیا ہے۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، اقتصادی و ثقافتی سفارتکاری سمیت اہم امور پر غور کیا گیا، اجلاس میں مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشتر کہ لائحہ عمل پر بھی گفتگو کی گئی۔بعدازں اس ضمن میں وزارت خارجہ میں خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر سیاحت وثقافت عاطف خان کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں ملکی کلچر کی طرف دنیا بھر کی توجہ مبذول کروانے کیلئے سیاحت کے فروغ سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاپاکستان سیاحت کے اعتبار سے انتہائی اہم ملک بن چکا ہے جہاں پر سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،ہم و ز یر اعظم عمران خان کی ہدایت پر غیر ملکی سیاحوں کیلئے آن لائن ویزہ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ سیاح آسانی کیساتھ پاکستان آ سکیں اور پاکستان کے تاریخی، ثقافتی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کیلئے ثقافت اور سیاحت کے فروغ کیلئے مزید موثر اقدامات کرنا ہونگے۔ عاطف خان نے وزیر خارجہ کو خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کیلئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے سینیٹر صوبائی وزیر عاطف خان کی خیبر پختونخوا میں سیاحت اور ثقافت کے فروغ کیلئے کی جانیوالی کاوشوں کو سراہا۔ بعدازاں اسلام آ با د میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان اور چین کی دوستی دنیا کیلئے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ رابطوں کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ پائیدار ترقی کیلئے نجی شعبہ کی شراکت ضروری ہے، پاکستان اور چین باہمی شراکت سے آگے بڑھ رہے ہیں، سی پیک کی تکمیل پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ مشترکہ تعاون سے دونوں ممالک آگے بڑھیں گے۔دریں اثناء بدھ کو جنوبی کوریا کے جوگی سلسلے کے ممتاز رہنما وان ہینگ نے وفد کے ہمراہ وزارت خارجہ کا دورہ کیا جہاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وفد کا خیرمقدم کیا، اس موقع پر ہونیوالی ملاقات میں بین المذاہب ہم آہنگی، سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے جوگیہ سلسلے کے اعلیٰ سطحی وفد کو بتایا پاکستان مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہے اور یہی ہمارے مذہب اسلام کی تعلیمات ہیں،دنیا بھر میں سکھ مذہب کے پیروکاروں کو ان کے مذہبی پیشوا بابا گرونانک کے گردوارہ تک رسائی دینے کیلئے ہم نے کرتارپور راہداری کو کھول دیا ہے، دنیا بھر میں سکھ دھرم کے کروڑوں پیروکار وزیر اعظم عمران خان کے اس اقدام کو سراہا رہے ہیں، پاکستان میں قدیم گندھارا تہذیب میں بدھ مت کے اہم تہذیبی آثار موجود ہیں۔ بدھ مت کے پیروکار کثیر تعداد میں ان مقامات کی زیارت کیلئے پاکستان آتے ہیں جنہیں ہم ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ ہم نے ثقافتی سفارت کاری کا بھی آغاز کر دیا ہے جس کے تحت ہم بدھ ازم سمیت دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو پاکستان آنے کیلئے آن لائن ویزہ کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ جو گی وان ہینگ نے وزیر خارجہ کو جوگی سلسلے کے خدوخال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا بدھ جوگی سلسلہ جنوبی کوریا میں بدھ مذہب کا سب سے بڑا سلسلہ ہے۔وفد کے سربراہ ممتاز جوگی راہنما وان ہینگ نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر حکومت، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں گورنرسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رضا باقر نے سٹیٹ بینک، زرمبادلہ کی موجودہ شرح اور دیگر مالیاتی اشاریوں کے حوالے سے وزیر خارجہ کو مفصل بریفنگ دی۔ وزیر خارجہ نے کہا پاکستان میں کاروبار کرنے کیلئے میسر وسیع مواقعوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے اور بیرونی سرمایہ کاروں،بین الاقوامی کمپنیوں کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کیلئے معاشی سفارتکاری کو بروئے کار لا رہے ہیں۔معاشی سفارتکاری کے مثبت نتائج، تواتر کیساتھ سامنے آ رہے ہیں،معاشی کارکردگی کو جانچنے والے بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کی نوید سنا رہے ہیں۔ معاشی اصلاحات پر مبنی حکومتی پالیسوں پر مثبت ردعمل کا بین الاقوامی سطح پر سامنے آنا انتہائی خوش آئند ہے۔

وزیر خارجہ 

مزید : صفحہ اول