مقبوضہ کشمیر کی صورتحال عالمی امن کیلئے خطرہ،سلامتی کونسل بھارتی محاصرہ ختم،شہریوں کو بچائے:سردار مسعود

  مقبوضہ کشمیر کی صورتحال عالمی امن کیلئے خطرہ،سلامتی کونسل بھارتی محاصرہ ...

  



انقرہ (خصوصی رپورٹ) ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں شروع ہونیوالی 25 ممالک کی نمائندگی پر مشتمل دوروزہ کشمیر کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ساڑھے 9 ملین کشمیریوں پر بھارتی ریاستی مظالم کو انسانیت کیلئے سخت خطرہ اور عالمی امن کیلئے سنگین قرار دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے مطابق فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، سابق سفیرشمشاد احمد خان، سینیٹر شیری رحمن، لارڈ نذیر احمد، ترک چیف جسٹس اسماعیل رستی، ترک پارلیمان میں پارٹی گروپس کے لیڈر اور مذہبی، خارجہ و قانونی امور کے اعلیٰ حکام سمیت مصر کے سابق وزیر یحییٰ حمید نے خطاب کیا۔ مقررین نے پاکستان اور بھارت اور کشمیر کی سرحدی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کے بدترین انسانی بحران کیساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت جیسے دفاعی اعتبار سے حساس ترین باہمی حریفوں کی موجودگی اور متنازعہ کشمیر کنٹرول لائن پر بھارت کے مسلسل حملے اور پاکستان کے جواب نے باقاعدہ جنگ کی سی جو کیفیت پیدا کر دی ہے وہ پورے خطے کیلئے خصوصاً اور پورے عالمی امن کیلئے خطرناک ہے۔ افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی آزاد کشمیر کے صدر سردارمسعود خان نے مقبوضہ کشمیر کا سنگین انسانی بحران اور بنیاد پرست بھارتی حکومت کے کشمیر کی آئینی حیثیت کو غیر آئینی حربے سے بدلنے کے بعد کشمیر دنیا کے ریڈار پر اپنی گھمبیر حیثیت کے ساتھ آ رہا ہے جبکہ دنیا اسے پہلے ہی عالمی امن کیلئے فلیش پوائنٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے ایسے میں تمام ذمہ دار حکومتوں اور اب خود پورے عالمی معاشرے کو مسئلہ کشمیر کو پرامن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آگے بڑھنا ہو گا۔سردارمسعودنے مزید کہاکہ سلامتی کونسل بھارتی محاصرہ ختم کراکے کشمیریوں کو بچائے۔ صدر آزاد کشمیر نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی فورم پر بلا خوف اور غیر جانب داری سے اٹھایا ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور پیپلزپارٹی کی رہنما  شیری رحمن نے کہا کہ وہ ترکی کی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ترکی کے عوام ہمیشہ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ دیتے رہیں گے اور ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید کریں گے۔عالمی کانفرنس میں شریک برطانیہ سے آئے ہوئے لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ ترکی نے کشمیر کے مسئلے پر ایک بڑی عالمی کانفرنس کا انعقاد کرکے دیگر ممالک کے لئے ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دیگر ممالک بھی کشمیر کے مسئلے پر اپنا کردار ادا کریں گے اور مسئلہ کشمیر کے لئے مددگار ثابت ہونگے۔ترکی کے چیف جسٹس اسماعیل رستی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کی سنگینی نے دنیا میں نئے عالمی انصاف کی تشکیل کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ موجودہ نظام بڑے طاقتور ممالک کے مفادات کا رسیہ ہے۔ ترکی کے محکمہ مذہبی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات تاریخی ہیں۔ انہوں نے کہ پاکستان کے عوام نے ماضی میں جس طری ترکی کے عوام کی مدد کی تھی ہم کبھی بھی اس کو فراموش نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر کے مسلمان جس مشکلات میں ہیں انہیں بچانے کے لئے ہم ہر سطح پر اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تعاون کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری بھی ادا کرنے کو تیار ہیں۔اس موقع پر ترکی کی جسٹس اینڈڈویلپمنٹ پارٹی کے پارلیمینٹ گروپ کے چیئرمین ایرگان آبچائے نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات بہت گہرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ہم پاکستان کے موقف کی ہمیشہ حمایت کرتے چلے آرہے ہیں اور اس سلسلے میں ہمیں کچھ بھی کرنا پڑا ہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دروازے اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں اور ہر قسم کا تعاون کشمیری بھائیوں کے لئے جاری رکھیں گے۔اس موقع پر ترکی کی قومی اسمبلی کے قائم مقام سپیکر سریا سعدی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیروں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی مذمت کرتے ہیں۔

عالمی کشمیر کانفرنس

مزید : صفحہ اول